پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت بند، ڈاکٹر مہنگی کمپنیوں کے نسخے تھمانے لگے 

  پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت بند، ڈاکٹر مہنگی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 لاہور(جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت سمیت صوبہ کے 80 فیصدٹیچنگ اور ضلعی ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو مفت علاج معالجہ کی سہولت بند کر دی گئی ہے۔ ہسپتالوں کے حالات یہ ہیں کہ گائنی لیبر رومز،دنیا کی سب سے بڑی ایمرجنسی ہے مگر یہاں بھی مفت علاج معالجہ میسر نہیں رہا جس کے پیش نظر زچگی کے لئے آنیوالی خواتین کے اہل خانہ سے آپریشن کے نام پر تمام ساز و سامان اور ادویات بازار سے منگوائی جارہی ہیں۔آؤٹ ڈور میں آنیوالے مریضوں کو پینا ڈول اور ڈسپرین کے علاوہ کوئی دوائی فراہم نہیں کی جاتی جبکہ ہسپتالوں کے میڈیکل سپریٹنڈنٹس نے غریبوں کیلئے اپنے دروازے ہی بند کر دیئے ہیں، غریب اپنے مسائل کے لئے در بدر پھرتے ہیں مگر ان کی داد رسی کے لئے ہسپتالوں میں کوئی آفیسر میسر ہی نہیں۔یہ انکشاف سیکرٹری صحت کی طرف سے ہسپتالوں کی شروع کروائی گئی انسپیکشن میں سامنے آیا۔محکمہ صحت کی ٹیم جس ہسپتال میں بھی پہنچی وہاں مسائل ہی مسائل نظر آئے اور ٹیم کو ہسپتال کے ایم ایس کو معطل یا تبدیل کرنا پڑا۔  ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کو بعض اداروں کی طرف سے پنجاب کے ہسپتالوں کی حلات زار کے حوالے سے رپورٹ بھجوائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کاغذوں میں تو گزشتہ تین سالوں میں ادویات،سرجیکل ڈسپوزیبل مد میں اربوں روپے کی خریداری کی گئی ہے لیکن مریضوں کو کچھ بھی دستیاب نہیں۔یہاں تک کے لیبر رومز میں ایمرجنسی میں آنے والی 80 فیصد ادویات اور دیگر ساز سامان باہر سے منگوایا جاتا ہے اور وہ بھی من پسند کمپنیوں کا مہنگا ترین سامان۔ ہسپتالوں میں گھپ اندھیرا ہے عام آپریشن تھیٹروں میں بھی روزانہ کی بنیاد پر جن مریضوں کے آپریشن کئے جاتے ہیں ان سے ساٹھ فیصد تک سامان بازار سے منگوایا جاتا ہے۔ آؤٹ ڈورز میں ڈاکٹر ز میسر نہیں۔پی کے ایل آئی،چلڈرن ہسپتال،امراض قلب کے ہسپتالوں لاہور،فیصل آباد،ملتان، وزیر آباد،میو ہسپتال، شیخ زید ہسپتال،جنرل، جناح ہسپتال،راولپنڈی،ڈی جی خان،سرگودھا،رحیم یار خان،فیصل آباد،گوجوانوالہ،سیالکوٹ،قصور،نارووال،اوکاڑہ،شیخو پورہ،راجن پور،خوشاب، میانوالی کے ہسپتالوں میں سر جری اور دیگر اہم ٹیسٹوں کے لئے مریضوں کو ایک ایک سال کی تاریخ دی جا رہی ہے۔تاریخ کے انتظار میں درجنوں مریض علاج معالجہ کے بغیر اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔اس حوالے سے سابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر طاہر علی جاویدنے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں مریضوں کے لئے آسانیاں پیدا کیں۔نئے ہسپتال اور میڈیکل کالج بنائے یہ معاملہ وزیر اعلیٰ کے نوٹس میں لاؤں گا۔ پارلیمانی سیکر ٹری صحت حنیف پتافی نے کہا کہ ہم نے ہسپتالوں کو عام مریض کے لئے فری کیا ہے،ادویات مفت فراہم کی جارہی ہیں جہاں مسائل ہوتے ہیں خود پہنچ کر مریضوں کے مسائل حل کرواتے ہیں جہاں کمی کوتاہی ہوتو فوری نوٹس لیا جائے گا۔
مفت علاج 

مزید :

صفحہ اول -