مدارس کی مخالفت کرنیوالے جلد انجام کو پہنچیں گے‘ حنیف جالندھری 

  مدارس کی مخالفت کرنیوالے جلد انجام کو پہنچیں گے‘ حنیف جالندھری 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کبیروالا(نامہ نگار) دینی مدارس کا دشمن ہی دین اسلام کا دشمن ہے،اسلام کی بقاء دینی مدارس سے وابستہ ہے،علماء کرام اور دینی اداروں کی مخالفت کرنے والے جلد اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں،وفاق المدارس کو کمزور کرنے کیلئے حکومت نے مزید پانچ بورڈ بنادئیے،جس (بقیہ نمبر39صفحہ 6پر)
سے حکومت کی بدیانتی کھل کر سامنے آگئی ہے،ان خیالات کا اظہارمہمان خصوصی قائد و ترجمان مدارس دینیہ، ناظم اعلی وفاق المدارس العربیہ پاکستان، شیخ الحدیث مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے عظیم دینی درسگاہ دار العلوم عید گاہ کبیروالا کاسالانہ اجتماع بتقریب تکمیل القران الکریم وصحیح بخاری شریف بسلسلہ دستار فضیلت فضلاء کرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے دینی مدارس پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے لئے جس سرکاری امداد کی پیشکش کی تھی،وہ ہم نے مسترد کردی ہے،جس پر انہوں نے کارروائی کرنے کی دھمکیاں بھی دیں مگر ہم اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔انہوں نے کہا کہ  مدارس دینیہ کی نا قابل تردید خدمات کو بیان کرتے ہوئے بتایا: مدارس میں پڑھایا جانے والا علم حقیقی معنوں میں دین اور شریعت ہے۔ یہی وجہ ہے مدارس کو دینیہ کے نام کے ساتھ معنون کیا جاتا ہے۔لہذا  مدارس سے بغض و عداوت حقیقت میں دین اور شریعت سے بغض وعداوت ہے اور مدارس کا دفاع دین کا دفاع ہے،ہمیں دکھی دل سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومت سے اتحاد ویگانت کے نام پرجو ہمارے مذاکرات جاری تھے انہوں نے بجائے دو وفاقوں کو ایک کرنے کے پانچ میں تقسیم کر دیا اور یہ شاید ہمارے وفاق کو کمزور کرنے کی سعی لا حاصل ہے۔ اس موقع پر ہم امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا جواب ہی دینا چاہیں گے:''ماکان للہ بقی'' جو کام اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے وہ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔الحمد للہ وفاق کے بانیان نے جس اخلاص وللہیت سے اس کی بنیاد رکھی اخلاص بھی اس پر ناز کرتا ہے،اس موقع پر عوام الناس حضرت سفیان ثوری ؒ کا قول یاد کرتے ہوئے علماء پر اعتماد کو برقرار رکھیں،آپؒ فرمایا کرتے تھے:دنیا میں موجودبے راہ روی اور بد اعمالیاں بیماری کی مانند ہیں، جبکہ امت کے علماء ڈاکٹر اور طبیب ہیں۔لہذا معاشرے کے سدھار کے لیے علماء اور مدارس دینیہ سے وابستگی اور ان کا دست وبازو بننے کی ضرورت  ہے و طن عزیز پاکستان کی معروف دینی ادارے جامعہ دار العلوم عید گاہ کبیروالا کاسالانہ اجتماع بڑے تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں ملک کے طول و عرض سے علماء،صلحاء، مشائخ عظام اور ہزاروں کی تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔اس پر نور محفل کا آغاز صبح دس بجے تلاوت کلام پاک اور حمد و نعت سے کیا گیا۔سلسلہ بیانات میں پیر طریقت رہبر شریعت مولانا خواجہ عبدالماجد صدیقی  نے صبر و شکر پر سیر حاصل خطاب کیا۔ بعد ازاں مدیر وشیخ الحدیث جامعہ قادریہ حنفیہ ملتان حضرت مولانا محمد نواز نقشبندی نے علم کے ساتھ ساتھ روحانی تربیت کی ترغیب دی۔ امام المناظرین حضرت مولاناعلامہ عبدالستار تونسوی کے نواسے ترجمان اہلسنت حضرت مولانا عبدالحمید تونسوی مہتمم مرکز رحماء بینہم ملتان نے اپنے مختصر اور جامع بیان میں دارالعلوم کبیروالا کی جامعیت اور اس کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ٹھوس دلائل کے ساتھ مسئلہ فدک کی حقیقت کو آشکار کیا۔خاندان بہلوی کے چشم وچراغ مولانا عزیز احمد بہلوی کے صاحبزادے نے بھی فضلاء کرام کو مستقبل کی منصوبہ بندی میں اہم نصائح ارشاد فرمائی۔نماز عصر سے قبل ناظم تعلیمات رئیس دارالافتاء مولانا مفتی حامد حسن نے مختصر وقت میں دارالعلوم کے کوائف پیش کیے اور دارالعلوم کی سالانہ کارگردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاالحمد امسال دارالعلوم کبیر والا نے امت کو 466علماء وعالمات، حفاظ وحافظات اور قرآء اور کمپیوٹر قران و کمپیوٹر ترجمۃ القرآن دئیے ہیں۔بعد ازاں صاحبزادہ مولانا احمد حنیف جالندھری سلمہ اللہ نے فضلاء کرام کو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت زندہ کرتے ہوئے انہیں عظیم دولت کے حصول پر مبارکباد پیش کی اور اپنے مخصوص انداز میں قرآن کریم کی مکمل سند بیان کی۔نماز عصر کے بعد جامعہ کے شیخ الحدیث مولانا ارشاد احمد مد ظلہ العالی نے حدیث پاک کا درس دیتے ہوئے شرکاء درس کو خوشخبری دی کہ اس بابرکت پروگرام کی وساطت سے آپ حضرات بھی حدیث کے طالب علم بن چکے ہیں۔ درس حدیث کے بعد فضلاء کرام کی دستار بندی کی گئی اور حضرات اکابر نے فضلاء کرام کے سروں پر دست شفقت رکھتے ہوئے علم دین کی عظیم دولت ان کے سپرد کی۔اس کے علاوہ پیر طریقت صاحبزادہ مولانا قاری عتیق الرحمن ہزاروی، پروفیسر مولانا محمد مکی، مولانا مفتی محمد حسن،مولانا حاجی نعیم بٹ نے بھی پر نور بیانات سے سامعین کے دلوں کو سکون وطمانیت کا وافر حصہ دیا۔نیز حضرت مولانا عبدالرحمن جامی، مولانا عبدالخالق رحمانی صاحب، مولانا احمد ادریس، سید معاویہ امجد شاہ،مولانا عمرفاروق،حاجی محمد حسین شاہ،مہر محمد افضل جوتہ نے بھی اس پُر نور محفل کو زینت بخشی۔جامعہ کی جانب سے تمام شرکاء کے لیے بھرپور کھانے کا انتظام بھی کیا گیا تھااور جامعہ کی جانب سے سیکورٹی اور انتظامی امور کے حوالہ سے بھرپور معاونت پرانتظامیہ خصوصاً اسسٹنٹ کمشنر کبیروالا، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کبیروالا، ریسکیو1122کے تمام افسران واہلکاروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا گیا۔
حنیف جالندھری