ملتان: کاٹن سپلائی چین‘ متوازن پالیسی کیلئے مختلف تجاویز پیش 

ملتان: کاٹن سپلائی چین‘ متوازن پالیسی کیلئے مختلف تجاویز پیش 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملتان (نیوز  ر پو رٹر) ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام کاٹن سپلائی چین کے حوالے سے متوازن پالیسی کی تشکیل کے لئے تمام سٹیک (بقیہ نمبر3صفحہ 6پر)
ہولڈرز پر مشتمل مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ مشاروتی اجلاس میں شرکا نے کاٹن سپلائی چین میں اصلاح سے متعلق مختلف تجاویز پیش کیں۔ اجلاس کے مہمان خصوصی ایوان تجارت و صنعت ملتان کے نائب صدر میاں شفیع انیس شیخ، چیئرمین آل پاکستان بیڈ شیٹ اپ ہولسٹری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن خواجہ محمد یونس، سابق ایم پی ایز جہانزیب وارن، سید احمد مجتبی گیلانی، ممبر پی سی جی اے خالد حنیف لودھی تھے۔ اجلاس میں جنوبی پنجاب بھر سے کاٹن سپلائی چین سے جڑے سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں شرکا نے کاٹن سپلائی چین میں شامل اہم عوامل کی نشاندہی، چیلنجز اور مواقع کے بارے میں معلومات کی فراہمی، کاٹن سپلائی چین میں پائیدار فریم ورک کے آغاز اور پنجاب اور سندھ میں صوبائی سطح پر سماجی مکالمے کا پلیٹ فارم تشکیل دینے پر گفتگو کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی میاں شفیع انیس شیخ نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے کاٹن کی پیداوار میں تشویشناک کمی ہوئی ہے۔ کاٹن سپلائی چین کے حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کپاس کی سپلائی چین میں گروور، جنرز اور ٹیکسٹال انڈسٹری کا برابر کا حصہ ہے۔ حکومتی سطح پر متحرک پالیسی بنا کر پاکستان میں کپاس سے جڑی سپلائی چین میں استحکام لایا جا سکتا ہے۔ چیئرمین آل پاکستان بیڈ شیٹ اپ ہولسٹری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن خواجہ محمد یونس نے کہا کہ کاٹن سپلائی چین میں متوازن لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ رواں سال ٹیکسٹائل انڈسٹری میں تیزی دیکھی گئی ہے جبکہ جننگ انڈسٹری بحران کا شکار رہی ہے۔ رواں برس کاٹن جننگ انڈسٹری میں محض ایک تہائی فیکٹریاں فنکشنل ہوئی ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ کپاس کی پیداوار میں تشویشناک حد تک کمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی سطح پر کپاس کی پیداوار میں اضافے کیلئے خاطر خواہ کام تاحال نہیں کیا گیا۔ سیڈ ڈیویلپمنٹ پر کام نہ ہونے کی وجہ کپاس کی فصل مسائل کا شکار ہے۔ ہمارے اپنے لوگ بھی سپیشل بیج لے کر آنا چاہتے ہیں۔ غریب لوگوں اور کاشتکاروں کو جدید فارمنگ کی ٹریننگ دی جائے۔ سابق ایم پی اے سید احمد مجتبی گیلانی نے کہا کہ کپاس پاکستان کی ایک اہم فصل ہے۔ آج کی تقریب کا مقصد پاکستان کی سب سے اہم فصل میں بہتری لانا ہے۔ حکومت کاٹن کی بہتری کیلئے مثبت پالیسی بنائی جائے جس سے گروورز، جنرز اور ٹیکسٹائل انڈسٹری میں بیلنس قائم رہے۔ حکومت جب تک کپاس سے جڑے سٹیک ہولڈرز کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گی تو نتائج کا حصول ممکن نہیں ایم پی اے جہانزیب وارن نے کہا کہ حکومت ملک میں زرعی انقلاب لانے کیلئے کوشاں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے زراعت پر خصوصی فوکس کر رکھا ہے۔ وزیراعظم جلد زراعت کے شعبے کے لئے ایک بڑے پیکج کا اعلان کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں کپاس کی فصل سے جڑے تمام سٹیک ہولڈرز کے لئے ایسی پالیسیاں بنائیں گے جس سے ملک کے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انگریزڈ کرسٹینن کنٹری ڈائریکٹر آئی ایل او نے کپاس کی فصل کی بہتری کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مناسب مواقع فراہم کرنے سے مشروط کر دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ کاوشوں کے بغیر کاٹن سپلائی چین میں بہتری متوقع ہے۔ تقریب سے وائس پریذیڈنٹ ای ایف پی ذکی احمد خان، فصیح الکریم صدیق ایڈوائزر، نزہت جہاں کوآرڈینیٹر ای ایف پی، اعجاز احمد نیشنل پراجیکٹ کوآرڈینیٹر آئی ایل او ڈپٹی ڈائریکٹر ٹی ڈی اے پی حنا ریاض،صدر پاکستان ورکرز فیڈریشن ملک مختار اعوان،عرفان اترا،صدرالدین گیلانی دیگرنے بھی خطاب کیا۔ اجلاس کے اختتام پر مہمانان خصوصی میں یادگاری شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔
تجاویز پیش