وہوا، بارشیں نہ ہونے سے قحط سالی کا خدشہ، چشمے خشک، سینکڑوں مویشی ہلا ک

  وہوا، بارشیں نہ ہونے سے قحط سالی کا خدشہ، چشمے خشک، سینکڑوں مویشی ہلا ک

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 وہوا(نمائندہ پاکستان) دس ماہ سے بارشیں نہ ہونے کے باعث وہوا کے مغربی ٹرائبل ایریا میں قحط سالی، فصلات نہ اگنے کے باعث غذائی قلت پیدا ہوگئی، پانی کے چشمے سوکھ جانے کے باعث پینے کا پانی نایاب ہوگیا، چراگاہیں خشک ہونے سے سینکڑوں مویشی ہلاک ہوگئے، درجنوں خاندان صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کی طرف نقل مکانی کرگئے، تفصیل کے مطابق وہوا کے نواحی کوہ سلیمان کے ٹرائبل ایریا کے دیہاتوں (بقیہ نمبر16صفحہ 6پر)
باجھہ، مٹھوان،مڈ مٹھوان، سوتری مٹھوان، غلزہ، کھلیرو، ٹالیہدان،سرفراغ شرقی و غربی، ڈاگ، رک ڈھیری، لوہی، کماول، گوڑھا، بیروٹ مندوانی، دھمانی،باٹھی، باٹھی قیصرانی سمیت دیگر درجنوں دیہاتوں میں عرصہ دس ماہ سے بارشیں نہ ہونے کے باعث ان علاقوں میں قحط سالی پڑ گئی ہے بارشیں نہ ہونے سے امسال یہاں کی اہم فصلات جن میں چنا، گندم، جوار اور باجرہ شامل ہیں کی فصلیں نہیں پک سکیں جس سے علاقہ بھرمیں غذائی قلت پیدا ہوگئی ہے اور لوگوں کو کھانے کے لیے کوئی چیز دستیاب نہیں یہاں کے مکینوں کا پینے کے پانی کے لیے کوہ سلیمان سے نکلنے والے چشموں پر انحصار ہوتا ہے مگر طویل عرصہ سے باران رحمت نہ ہونے کے باعث چشمے سوکھ چکے ہیں جس سے یہاں پینے کے پانی کے لیے بنائے گئے ٹوبے نہ بھرے جانے کے باعث پینے کا پانی نایاب ہوچکا ہے اور مکینوں کو دور دور تک پینے کا پانی میسر نہیں قبائلی مردو خواتین، بچے اور بوڑھے سارا سارادن پانی کی تلاش میں دشوارگزار پہاڑی راستوں پر پانی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں مگر میلوں دور تک پینے کے لیے پانی کی ایک بوند تک میسر نہیں جس کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بارشیں نہ برسنے کے باعث چراہ گاہیں خشک ہوجانے سے مویشیوں کے لیے چارہ تک دستیاب نہیں خوراک اور پینے کا پانی نہ ہونے کے باعث ان قصبات کے مکینوں کے سینکڑوں مویشی بھوک اور پیاس کی شدت سے ہلاک ہوچکے ہیں اور جو زندہ بچے ہیں وہ انتہائی لاغر ہوچکے ہیں جس کے باعث یہاں کے مکینوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس مشکل صورتحال کے باعث ان علاقوں کے درجنوں خاندان اپنے مویشیوں سمیت صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقہ کھوئی بہارا اور صوبہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل، درگ اور کرکنہ کی جانب نقل مکانی کرچکے ہیں جبکہ کئی خاندان میدانی علاقوں میں جابسے ہیں قحط سالی سے بچاؤ اور باران رحمت کے لیے اجتماعی طور پر دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے مکینوں غلام نبی خان قیصرانی، محمدافضل خان، عبدالرحمٰن خان، سیف اللہ خان قیصرانی، محمد افضل لکھانی، سلیمان خان، حاجی نصراللہ، محمدحنیف، محمود خان، حاجی غلام رسول، حاجی محمدبخش، حافظ محمداشرف نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدارسے قحط سالی سے متاثرہ علاقہ کے مکینوں کی مالی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔
اجتماعی دعائیں