ضابطہ دیوانی میں ترمیم‘ ملتان سمیت مختلف شہروں میں وکلاء کی ہڑتال

  ضابطہ دیوانی میں ترمیم‘ ملتان سمیت مختلف شہروں میں وکلاء کی ہڑتال

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ملتان‘ مظفر گڑھ (خصوصی رپورٹر‘ نامہ نگار) ضابطہ دیوانی میں ترمیم کے خلاف ڈسٹرکٹ بار ملتان نے گزشتہ روز مکمل ہڑتال کی جبکہ ہائیکورٹ بار آج ارجنٹ مقدمات کی سماعت کے بعد ہڑتال کرے گی۔جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بار نے گزشتہ روز ہڑتال بارے نوٹیفکیشن بھی (بقیہ نمبر30صفحہ 6پر)
جاری کر دیا تھا۔ عدالتی بائیکاٹ کے اعلان پر ڈسٹرکٹ کورٹ میں وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جس کے باعث ہزاروں مقدمات کی سماعت متاثر ہوئی اور دور دراز سے آئے سائلین کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ بار عہدیداران کا کہنا تھا کہ وکلا ضابطہ دیوانی کے ترمیمی آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے ہڑتال کررہے ہیں۔ پنجاب بار کونسل کی اپیل پر سول پروسیجر کوڈ (سی پی سی) میں تمام مجوزہ ترامیم کے خلاف ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مظفرگڑھ نے بدھ کے روز ہڑتال کی، چیئرمین پنجاب وکلا محاذ رانا امجد علی امجد ایڈووکیٹ، ممبر پنجاب بار کونسل جام محمد یونس ایڈووکیٹ، صدر بار سردار عبدالقیوم خان دستی اور جنرل سیکرٹری بار ملک شفیق الرحمن ملانہ ایڈووکیٹ نے ترامیم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قانون کی بالادستی اور وکلا کی جائز آمدنی پر بھی اثر پڑے گا۔ پی بی بی سی نے متعدد تاریخوں پر ہڑتال کا اعلان کیا اور سی پی سی میں ایسی متنازعہ ترامیم کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا لیکن حکومت پنجاب نے اس سنگین مسئلے کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب بار کونسل نے بھی مذکورہ ترامیم کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر یہ ترامیم واپس لی جائیں۔ وکلا کو صوبہ بھر کی عدالتوں میں تالے لگانے پر مجبور نہ کیا جائے۔ دریں اثنا احتجاج کے طور پر وکلا نے بدھ کو پورے دن کی ہڑتال کی اور عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔
عدالتی بائیکاٹ