غربت کے خلاف جنگ کے ہیروز

غربت کے خلاف جنگ کے ہیروز
غربت کے خلاف جنگ کے ہیروز

  

چین میں دہائیوں قبل ابتدائی خوشحال معاشرے کا جو خواب دیکھا گیا تھا وہ مکمل ہو چکا ہے۔ اس خواب کے حصول میں چینی عوام نے بھر پور کردار ادا کیا۔ ترقی یافتہ علاقوں کے رہنے والے خوشحال لوگوں نے اپنے آرام و سکون کی پروا نہ کرتے ہوئے غریب علاقوں میں جانے اور وہاں جاکر خدمات سرا نجام دینے کو ترجیح دی۔ پوری چین قوم اپنی قیادت اور جماعت کے شانہ بشانہ اس جدوجہد میں شریک ہوئی اور چین میں ابتدائی خوشحال معاشرے کے قیام کے خواب میں حقیقت کا رنگ بھردیا۔ 

سن انیس سو ستر  کی دہائی کے اواخر میں اصلاحات اور  کھلے پن کی  پالیسی کے نفاذ کے بعد سے ، چین نے ستر کروڑ  سے زائد افراد کو غربت سے نجات دلائی  ، جس سے انسانی ترقی کی تاریخ میں ایک تسلیم شدہ ، غیر معمولی معجزہ رونما  ہوا ہے ۔ اس کے نتیجے میں  چین  اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کردہ " 2030 کے پائیدار ترقی کے ایجنڈے " میں طے کردہ غربت کے خاتمے کے ہدف کو  دس سال پہلے پورا کر لیا اور  غربت میں کمی کی عالمی جدو جہد میں چین سب سے بڑا حصے دار بن گیا ہے۔ 

چین کے صدر شی جن پھنگ 2012 کے آخری دنوں میں چینی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے تھے۔اُن کے عہد  کی خاص بات  چین کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق تمام شعبہ جات میں عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام پر فائز کرنا  ہے۔ اس  کے ساتھ ساتھ  انہوں نے دیہی ترقی کے حوالے سے شاندار رہنما ماڈلز بھی متعارف کروائے۔ گزشتہ نو برسوں کے دوران شی جن پھنگ نے ملک کے مختلف علاقوں کے 80 سے زائد دورے کیے جن میں دیہی علاقوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔  جو ان کی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔ صدر شی جن پھنگ کی رہنمائی میں عوامی جموریہ چین میں آٹھ سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد ، چین نے مقررہ وقت کے مطابق غربت کے خاتمے کا ہدف پورا کیا  اور تقریباً  100 ملین غریب افراد کو غربت سے نکال کر ایک بڑی کامیابی حاصل کی۔  

اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات  نے اظہار خیال کیا ہے کہ چین نے غربت کے خلاف جنگ میں قابل ذکر نتائج حاصل کیے ہیں ، غربت کے مسائل حل کرنے کے لئے دوسرے ممالک کے لئے اہم  تجربات اور نظریات  فراہم کئے اور عالمی سطح پر غربت میں کمی کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔

 ماہرین کامانناہےکہ چینی حکومت نے غربت کے خاتمے کے حوالے سے  عوام سے کئے گئے وعدے  پورےکیے ہیں اور مقررہ وقت اور فریم ورک کے اندر درست پالیسیاں نافذ کیں ہیں۔ان پالیسیوں نے غربت کے خاتمے میں حقیقی کردار ادا کیا ہے ۔ غربت کے خاتمے میں چین کی تاریخی کامیابیوں نے دنیا میں غربت میں کمی  کی جدوجہد کے لئے نئی امید کو جنم دیا ہے۔چین کی غربت میں کمی کا تجربہ دوسرے ممالک کے لئے  سیکھنے کے قابل ہے۔ چین نے جو کام کیا وہ حیرت انگیز ہے۔ بہت سے لوگوں کو غربت سے نکالنے کے لئے ، چین نے ایک مشکل کام مکمل کیا ہے۔ 

دیہی غربت کے خاتمے کے باوجود آج بھی چین کا اولین ہدف زراعت اور دیہات کی ترقی ہی ہے۔ حالیہ دنوں چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے دو ہزار اکیس کی پہلی دستاویز جاری کردی ہے۔حسب معمول دستاویز نمبر 1 زراعت اور دیہی علاقوں کی ترقی پر مرکوز ہے۔مذکورہ دستاویز  پانچ حصوں پر مشتمل ہے ، جن میں  مجموعی تقاضے ، دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے کے نتائج کی تقویت اور دیہی ترقی، زرعی جدت کاری کا فروغ ، دیہی بنیادی تنصیبات کی  تعمیر ، اور دیہات، زراعت اور کسانوں سے متعلق امور میں  پارٹی کی مجموعی قیادت  کی مضبوطی شامل ہیں۔دستاویز میں یہ طے کیا گیا ہے کہ دیہی تعمیر کو پوری اہمیت دی جائے ، دیہی صنعت  ، ثقافت اور ماحولیات کو فروغ دیا جائے ، زراعی ، ماحولیاتی اور ثقافتی تحفظ پر زور دیا جائے ،زراعت اور دیہی علاقوں کی جدت کاری ، دیہات اور شہروں کی ہم آہنگ ترقی اور  دیہی علاقوں میں رہائشی ماحول کی بہتری سمیت امور پر زیادہ سرمایہ کاری کی جائے۔ 

مستقبل میں ، چین کے دیہی علاقوں میں ترقی پزیر کاروباری ماحول ، خوشگوار  فطری  ماحول ، عمدہ  سماجی تہذیب و ثقافت ، موئثر گورننس اور خوشحالی کا دور دورہ ہو گا۔ چین کی دیہی خوشحالی  کی حکمت عملی چینی قیادت اور چینی عوام کی دانشمندی اور  محنت کا مظہر ہے ۔  بلاشبہ چین کی سوشلسٹ جدت کاری کی تعمیر میں دیہی ترقی اور خوشحالی ایک بنیاد ہے اور یہ بنیاد جس قدر مضبوط ہو گی اُسی قدر عمارت بھی ٹھوس اور پختہ ہو گی۔رواں سال 2021  اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے چین کے 14 ویں پانچ سالہ منصوبے اور جدید سوشلسٹ ملک کی جامع تعمیر  کی جانب ایک  نئے سفر کا  آغاز ہے ۔اس سفر میں دیہی ترقی اور دیہی حیات کاری چین کی پالیسی سازی کا کلیدی نکتہ رہے گی جس کی بنیاد پر ایک مضبوط اور خوشحال چین کے عروج کا سفر جاری رہے گا۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -