این اے 75 ڈسکہ میں بے ضابطگیاں، کیس کا فیصلہ محفوظ، 3 بجے سنایا جائے گا

این اے 75 ڈسکہ میں بے ضابطگیاں، کیس کا فیصلہ محفوظ، 3 بجے سنایا جائے گا
این اے 75 ڈسکہ میں بے ضابطگیاں، کیس کا فیصلہ محفوظ، 3 بجے سنایا جائے گا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)این اے 75 ڈسکہ  ضمنی انتخابات میں بے ضابطگیوں کے کیس میں  فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیاگیا، الیکشن کمیشن 3 بجے محفوظ فیصلہ سنائے گا۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق این اے 75 ضمنی انتخاب سے متعلق کیس کی الیکشن کمیشن میں سماعت ہوئی،این اے 75 ڈسکہ بے ضابطگیوں کے کیس میں تحریک انصاف نے اپناوکیل تبدیل کرلیا،بیرسٹرعلی ظفرعلی اسجدملہی کی طرف سے وکالت کریں گے۔ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ کچھ اضافی دستاویزات جمع کراناچاہتے ہیں،کچھ بڑے ثبوت جمع کراناچاہتے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ آپ گزشتہ سماعت پردلائل مکمل کرچکے،وکیل ن لیگ نے کہاکہ کچھ اضافی چیزوں پردلائل دیناچاہتاہوں،الیکشن کمیشن کی پریس ریلیزتاریخی دستاویزہے،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ یہ 23 پولنگ سٹیشنزکانہیں،پورے حلقے کامعاملہ ہے،الیکشن کمیشن کے نوٹس کے باوجودایس ڈی پی اوکونہیں ہٹایاگیا۔

وکیل نوشین افتخار نے کہاکہ ذوالفقارورک نے ووٹرزکوہراساں کیا،پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن کے احکامات پرعملدرآمدنہیں کیا، پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن سے فراڈکیا،الیکشن کمیشن نے ذوالفقارورک کوہٹانے کاحکم دیا،پنجاب حکومت اورآئی جی نے جان بوجھ کرضمنی انتخاب میں سازش کی،وکیل ن لیگ نے کہاکہ یہ ریاستی اتھارٹی کاکیس ہے،جس نے حلقے میں فراڈکیا،حلقے میں چند افرادکو لاکر فراڈ کیا گیا، فائرنگ کرکے ووٹرزکوپولنگ سٹیشن آنے سے روکاگیا۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ کیاذوالفقارورک کونئے نام سے وہاں تعینات کیاگیا؟سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ پنجاب پولیس کاسرکلرساتھ لگایاہے، سلمان اکرم راجہ نے ذوالفقارعلی ورک کاسرکلرپڑھ کرسنایا،وکیل ن لیگ نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے نوٹس کے باوجودایس ڈی پی اوکونہیں ہٹایاگیا۔

سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ دو طرح کی دھاندلی کامنصوبہ تھا،پہلی سکیم فائرنگ سے ووٹرزکوڈراکرنوشین افتخارکی لیڈکم کی جائے،دوسری سکیم یہ تھی کہ پریذائیڈنگ افسران کے ذریعے نتائج تبدیل کیے جائیں،الیکشن کمیشن کااختیار 36 پولنگ سٹیشنزسے بھی زیادہ ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ درخواست کےساتھ ہم نے اس معاملے کانوٹس بھی لیا،ن لیگ نے مطالبہ نے کہاکہ یہ منظم سازش تھی جسے منظرعام پرلایاجائے۔

وکیل ن لیگ نے کہاکہ ذوالفقارورک کی دوبارہ تعیناتی سازش کاحصہ تھی،20 پریذائیڈنگ افسران کاغائب ہوناحیران کن ہے،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ الیکشن کمیشن پاکستانی جمہوریت کاگارڈین ہے،الیکشن کمیشن کی پریس ریلیزنے سازش بے نقاب کردی،سلمان اکرم نے دوران سماعت الیکشن کمیشن کی پریس ریلیزپڑھ کرسنائی،ن لیگ نے مطالبہ کیا کہ سازش کرنےوالوں کوقرارواقعی سزادیں،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ این اے 75 میں انتظامیہ اورسیکیورٹی اداروں کی کمزوری تھی،ایساعمل کبھی بھی پاکستان کی انتخابی تاریخ میں نہیں ہوا،آراوکی رپورٹ کے مطابق 14 پولنگ سٹیشنزپرزیادہ ٹرن آؤٹ آیا۔

وکیل ن لیگ نے کہاکہ دیگرپولنگ سٹیشنزپر 56 فیصدٹرن آؤٹ آیا،ان 14 پولنگ سٹیشنزپر70سے 80 فیصدٹرن آؤٹ آیا،یہ بالکل واضح دھاندلی کی سکیم تھی،چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ آپ کواعتراض 36 پولنگ سٹیشنزپرہے؟سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ ہمیں اعتراض 20 اور 36 پولنگ سٹیشن پربھی ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ الیکشن کمیشن کااختیار 36 پولنگ سٹیشنزسے بھی زیادہ ہے،الیکشن کمیشن پاکستانی جمہوریت کاگارڈین ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ درخواست کےساتھ ہم نے اس معاملے کانوٹس بھی لیاہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ تاخیر سے پہنچنے کو ٹمپرنگ سمجھنا مفروضہ ہے، الیکشن کمیشن ووٹنگ سے روکنے پر کارروائی کرسکتا ہے، انکوائری ٹرائل الیکشن کمیشن نہیں الیکشن ٹربیونل کا مینڈیٹ ہے۔ ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ کیا پریذائیڈنگ افسران کا غائب ہونا قانون کی خلاف ورزی نہیں ؟ جس پر علی ظفر نے کہا میرے مطابق پریذائیڈنگ افسران کا غائب ہونا خلاف قانون نہیں تھا، ان پریذائیڈنگ افسران نے وضاحت دے دی ہے۔

ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نے علی اسجد ملہی کو ڈانٹ دیا۔ ممبر پنجاب نے کہا کہ آپ نے جرسی اپنے گلے میں لٹکائی ہوئی ہے جو مناسب انداز نہیں، باہر جا کر جرسی اتاریں اور آکر بولیں۔ علی اسجد ملہی نے الیکشن کمیشن سے معذرت کر کے باہر جاکر جرسی اتاری۔

الیکشن کمیشن نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا، الیکشن کمیشن نے کہاکہ این اے 75ڈسکہ میں بے ضابطگیوں سے متعلق فیصلہ 3 بجے سنایا جائے گا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -