وفاقی حکومت کو عدالت سے رائے مانگنے کا اختیار نہیں،وکیل لاہورہائیکورٹ بار کے صدارتی ریفرنس پر دلائل

وفاقی حکومت کو عدالت سے رائے مانگنے کا اختیار نہیں،وکیل لاہورہائیکورٹ بار ...
وفاقی حکومت کو عدالت سے رائے مانگنے کا اختیار نہیں،وکیل لاہورہائیکورٹ بار کے صدارتی ریفرنس پر دلائل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ بار کے وکیل خرم چغتائی نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر دلائل دیتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت کو عدالت سے رائے مانگنے کا اختیار نہیں۔
نجی ٹی وی ہم نیوزکے مطابق سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت جاری ہے، چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں لارجر بنچ سماعت کررہا ہے،لاہور ہائیکورٹ بار کے وکیل خرم چغتائی نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت کو عدالت سے رائے مانگنے کا اختیار نہیں،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ عدالت میں ریفرنس صدر مملکت نے بھیجا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ کیا صدر کو بلا کر پوچھیں کہ انہیں سوال کیوں عوامی اہمیت کا لگا؟،خرم چغتائی نے کہاکہ اٹارنی جنرل وفاقی حکومت کے وکیل ہوتے ہیں صدر کے نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسی ٰکیس کیخلاف نظرثانی کیس زیر سماعت ہے، وکیل لاہورہائیکورٹ بار نے کہاکہ الیکشن ایکٹ بنانے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں سے رائے لی گئی،شیخ رشید ، عارف علوی اور شبلی فراز بھی الیکشن ایکٹ بنانے والی کمیٹی میں شامل تھے، صدر عارف علوی خود آئینی اصلاحاتی کمیٹی کے ممبر تھے، کابینہ میں بیٹھے ہوئے اکثر وزرا آئینی اصلاحاتی کمیٹی کے ممبر تھے۔
چیف جسٹس گلزاراحمد نے خرم چغتائی سے استفسار کیا کہ اب تک کیا اصلاحات ہوئی ہیں؟ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ اس وقت صدر ایم این اے تھے اور انفرادی حیثیت میں کمیٹی کے رکن تھے، اب عارف علوی صدر مملکت ہیں ۔