’اب ہم ولی عہد محمد بن سلمان سے نہیں، بادشاہ سے بات کیا کریں گے‘ امریکی صدر نے بڑا فیصلہ کرلیا

’اب ہم ولی عہد محمد بن سلمان سے نہیں، بادشاہ سے بات کیا کریں گے‘ امریکی صدر ...
’اب ہم ولی عہد محمد بن سلمان سے نہیں، بادشاہ سے بات کیا کریں گے‘ امریکی صدر نے بڑا فیصلہ کرلیا

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے فرماں روا اگرچہ شاہ سلمان ہیں لیکن ملک کی باگ ڈور عملاً ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ہاتھ میں ہے اور وہی دنیا بھر سے معاملات کر رہے ہیں۔ تاہم اب امریکہ نے اس حوالے سے ایک انتہائی اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق وائٹ ہاﺅس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کا ازسرنو تعین کرے گی اوراب دو طرفہ معاملات میں شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ نہیں بلکہ شاہ سلمان کے ساتھ بات کی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق جوبائیڈن انتظامیہ کی طرف سے ترکی میں واقع سعودی سفارتخانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے بھی ایک تہلکہ خیز فیصلہ کیا گیا ہے۔ صدر جوبائیڈن نے منصوبہ بندی کر رکھی ہے کہ ان کی حکومت شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان کو جمال خاشقجی کے قتل کی منظوری دینے والے شخص کے طور پر نامزد کرے گی اور امریکہ کی طرف سے آئندہ جو انٹیلی جنس رپورٹ منظرعام پر لائی جائے گی اس میں جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق تمام معلومات بھی افشا کر دی جائیں گی۔

مزید :

بین الاقوامی -