جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اپنا کیس براہ راست نشر کرنے کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں درخواست دے دی

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اپنا کیس براہ راست نشر کرنے کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں ...
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اپنا کیس براہ راست نشر کرنے کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں درخواست دے دی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خود کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت کو براہ راست سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے کی درخواست کر دی۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں دی گئی اپنی درخواست میں  استدعا کی ہے  کہ   پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)  کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو اپنی مرضی سے عدالتی کارروائی نشر کرنے دے اور اس میں خلل نہ ڈالے۔ اس کے علاوہ کیس کی سماعت لائیو سٹریم بھی کی جائے۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موقف اپنایا ہے کہ ان کے خلاف صدارتی ریفرنس کو بنیاد  بنا کر بے بنیاد مہم چلائی گئی لیکن سپریم کورٹ کا جج ہونے کی وجہ سے ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور وہ اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے کوئی پریس کانفرنس بھی منعقد نہیں کرسکتے۔

انہوں نے موقف اپنایا ہے کہ انہیں بدنام کرنے کی منظم مہم چلائی گئی لیکن سپریم کورٹ نے اس کو روکنے  کی کوئی کوشش نہیں کی ، چیف جسٹس نے بھی اپنے بھائی جج کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا، الٹا سپریم جوڈیشل کونسل نے بھی انہیں بدنام کرنے میں اپنا پورا حصہ ملایا۔اس کے علاوہ صدارتی ریفرنس میڈیا کو لیک کرکے ان کے خلاف رائے عامہ ہموار کی گئی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موقف اختیار کیا کہ عوامی رائے کو درست کرنے کیلئے ضروری ہے کہ مستقبل میں ہونے والی تمام سماعتیں  ٹیلی ویژن پر اور  سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کی جائیں ۔

انہوں نے کہا کہ سماعتیں کئی ملکوں کی عدالتیں براہ راست نشر کرتی ہیں جن میں ہائیکورٹ آف آسٹریلیا، سپریم کورٹ آف کینیڈا، سپریم پیپلز کورٹ آف چائنہ، امریکہ کی وفاقی عدالتیں، جرمنی کی سپریم کورٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی افریقہ ، برازیل  کی سپریم کورٹ ،   انٹرنیشنل کریمنل کورٹ اور حال ہی میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے بھی  سماعتیں براہ راست نشر کی  ہیں۔

مزید :

قومی -