’پاکستان اور بھارت اب براہ راست ایک دوسرے کی چیک پوسٹوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے‘

’پاکستان اور بھارت اب براہ راست ایک دوسرے کی چیک پوسٹوں کو نشانہ نہیں بنائیں ...
’پاکستان اور بھارت اب براہ راست ایک دوسرے کی چیک پوسٹوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے‘
سورس:   ٖFile

  

راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ حالات جتنےبھی برےہوں،ہاٹ لائن رابطہ کھلارہتاہے،  ملٹری ٹوملٹری رابطہ ہے،بیک ڈورڈپلومیسی کانتیجہ نہیں، ہم امن کیلئےاقدامات کرتےرہیں گےجس سےاعتمادبحال ہوگا۔ا نہوں نے کہا کہ دونوں جانب سے2003کےاقدامات کےنفاذپراتفاق کیاگیا۔لائن آف کنٹرول پر500میٹرکے اندرنئی دفاعی تعمیرات نہیں ہوں گی، سیزفائرکےدوران کسی کی پوسٹ کوبراہ راست ٹارگٹ نہیں کیاجائےگا اور کنٹرول لائن پر کسی مسئلےکومقامی کمانڈرحل کریں گے۔ 

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے نجی ٹی وی دنیا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 2003سے2021تک13ہزار 627 بار ایل اوسی کی خلاف ورزی ہوئی، بھارتی خلاف ورزیوں میں 310 شہری شہید جبکہ  1602 افرادزخمی ہوئے۔ انہوں نےکہا کہ 2017میں سیزفائرخلاف ورزیاں روکنےکی کوشش کی گئی تھی، بھارت کے ساتھ سیزفائرمفاہمت 2003کے اقدامات کاتسلسل ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار کا مزیدکہنا تھا کہ سیزفائرمعاہدہ کےبعدایل اوسی کی خلاف ورزی کم ہوگئی تھی۔ بھارت کیساتھ پہلےہی ہاٹ لائن میکنزم کاسسٹم موجودہے۔  ڈی جی ایم اوزطےشدہ وقت،فریکوینسی پربات کرتےہیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -راولپنڈی -قومی -دفاع وطن -