آیئے مسکرائیں 

آیئے مسکرائیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

”ہیلو!یہ کیڑے مکوڑے بیچنے والی دکان؟“ ”جی ہاں فرمائیے!“ ”فورا!“ پانچ سو مختلف قسم کے کیڑے مکوڑے میرے گھر پہنچا دیجئے۔“ ”لیکن آپ ان کا کیا کریں گے؟“ ”جناب میں مکان چھوڑ رہا ہوں اور مالک مکان کی خاص ہدایت ہے کہ جس حالت میں مکان لیا تھا اسی حالت میں خالی کرو۔“
٭جیلر: (قیدی سے) تمہیں جیل سے کوئی شکایت تو نہیں ہے۔ قیدی: جی ہاں باہر نکلنے کا راستہ نہیں۔
٭ایک دوست (دوسرے سے) اگر دنیا میں پانی نہ ہوتا تو۔! دوسرا: تو پھر دودھ خالص ملتا۔
٭منور ظریف فی البدیہ مکالمات میں طاق تھے۔ فلم کے مزاحیہ سین میں رشتہ مانگنے گئے۔ انہوں نے اپنی بڑی سی پگ نبیلہ کے قدموں پر رکھ دی اور گویا ہوئے۔ ”یا تو اس پگ کا مان رکھ کر رشتہ دے دو نہیں تو اسے پھاڑ کر دو پٹے بنا لو۔
٭گاہک:آج کے بعد اگر میرا کتا بھی تمہاری دکان پر آئے تو تمہیں اس کی عزت کرنی ہو گی۔ دکاندار: بہت بہتر جناب! آپ کا کتا آئے تو میں سمجھوں گا کہ جناب ہی تشریف لائے ہیں۔
٭ایک صاحب انتقال کر گئے رشتے داروں نے فیصلہ کیا کہ مرحوم کا ایک فوٹو بطور یاد گار ہو جائے؛ چنانچہ فوٹو گرافر کو بلایا گیا اس نے اپنا کیمرہ فٹ کیا لاش کے چہرے سے کپڑا ہٹایا گیا تو فوٹو گرافر نے حسب ِعادت فوٹو کھینچنے سے پہلے کہا ”یس ریڈی پلیز! ذرا سا مْسکرایئے“

مزید :

ایڈیشن 1 -