دہشتگرد ی کیخلاف زیر و ٹالرنس برقرار، ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، سیاسی وعسکریت قیادت میں اتفاق

دہشتگرد ی کیخلاف زیر و ٹالرنس برقرار، ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

       اسلام آباد(آن لائن) نیشنل اپیکس کمیٹی میں سیاسی و عسکری قیادت نے اتفاق کیا ہے کہ دہشتگردوں کیخلاف زیروٹالرینس پالیسی برقرار رہے گی، پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،ملک بھر میں ہر قیمت پر ریاست کی عملداری کو یقینی بنایا جائیگا،وفاقی و صوبائی حکومتیں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گی،قانون نافذ
 کر نیوالے اداروں کی صلاحیتوں کا بہتر بنایا جائیگا،وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا آپریشنل تیاری، پولیس کی استعداد میں اضافے پر فوری توجہ دینا ہوگی، دہشتگردی کا ناسور ختم کرنے کیلئے پوری ریاستی قوت اور اشتراک عمل کو بروئے کار لانا ہوگا،جامع حکمت عملی تشکیل دیناہوگی، اگر ہم خود اپنے گھر کے حالات ٹھیک نہیں کرینگے تو کوئی ہماری مدد کو نہیں آئیگا اور سیا سی استحکام ہر لحاظ سے مقدم ہے،آئی ایم ایف سے معاملات 8 سے 10 دن میں طے ہوجائینگے اسلئے عالمی مالیاتی ادارے کی کڑی شرائط قبول کرنے کیلئے تیار ہوگئے، انشا اللہ جلد مشکلات سے نکل جائینگے، اپنی انا و پسند اور نا پسند کو ایک طرف رکھ کر ملکر کام کرنا، پاکستان کو اکنامک ٹائیگر بنانا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی زیرصدارت نیشنل ایکشن پلان اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) سے متعلق نیشنل اپیکس کمیٹی کے منعقدہ اجلاس میں کیا۔ذرائع کے مطابق نیشنل ایپکس کمیٹی کا اجلاس چار گھنٹے تک جاری رہا۔عسکری حکام کی جانب سے دہشتگردوں کیخلاف کارروائیوں اور حاصل ہونیوالی کامیابیوں پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیاخود کش حملہ آوروں کے ہینڈلر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے  قو می انسداد دہشتگردی اتھارٹی کی غیر فعالیت پر اظہار تشویش کیا اور ہدایت کی نیکٹا کو فی الفور فعال بنایا جائے تاکہ اس کے قیام کے مقاصد حاصل ہوسکیں۔ ذرائع کے مطابق نیشنل ایپکس کمیٹی نے نیکٹا کو فعال بنانے کیلئے متعدد اقدامات کی منظوری دیدی اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشتگر دوں کیخلا ف زیروٹالرینس پالیسی کو برقرار رکھا جائیگا۔ دہشتگردوں سے پوری ریاستی قوت کیساتھ نمٹا جائیگا۔ ملک بھر میں ہر قیمت پر ریاست کی عملداری کو یقینی بنایا جائیگا، وفاقی و صوبائی حکومتیں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گی۔ اجلاس میں کہا گیاقانون نافذ کرنیوالے اداروں کی صلاحیتوں کا بہتر بنایا جائیگا، انہیں تربیت و جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی فراہم کی جائیگی۔سیاسی و عسکری قیادت نے اتفاق کیا کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اجلاس میں کراچی پولیس آفس پر دہشتگردوں کے حملے کی مذ مت کی گئی۔ وزیر اعظم نے کراچی دہشتگردی کے واقعہ کو ناکام بنانے پر سکیورٹی اداروں کی تعریف کی اور سراہا۔اجلاس میں شہید سکیورٹی اہلکاروں کیلئے فاتحہ خوانی کروائی گئی،اس موقع پر وزیراعظم نے کہاپولیس، رینجرز اور افواج پاکستان کے جوانوں کو شاباش دیتا ہوں، بہادر جوانوں نے کراچی میں دہشتگردوں کا مقابلہ کرکے انکا قلع قمع کیا، اجلاس میں دہشتگردی کیلئے زیرو ٹارلیرنس کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے مزید کہا آج جب ہم ایک کمرے میں بیٹھے ہیں تو ایک حصہ سڑکوں پر جانا چاہتا ہے اور معاملات خراب کرنے کی پوری کوشش کی جار ہی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ آج پاکستان معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور ہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی کڑی شرائط منظور کرنے پرمجبور ہیں کیو نکہ ریاست سب سے پہلے اور باقی چیزیں بعد میں ہیں۔انہوں نے کہا تمام سیاسی شراکت داروں نے اپنا سیاسی سٹیک داؤ پر لگایا ہے اور ریاست بچانے کیلئے خلوص سے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر لانا، معاشی ترقی دلانی، غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ کرنا اور پاکستان کو اپنا کھویا مقام دلانا ہے تو ہمیں اپنی تمام ذاتی پسندو ناپسند سمیت انا کو ایک طرف کرکے اکٹھے ہوکر تمام توانائیاں استعمال کرنا ہونگی۔ اتحادی حکومت نے اپنی سیاست ملک کو بچانے کیلئے داؤ پر لگائی ہے۔ پاکستان کی سیاسی لیڈر شپ، دفاعی افسران سپہ سالار کی قیادت میں موجود ہیں، مگر بدقسمتی سے آج بھی ایک طبقہ جو سڑکوں پر معاملات کا حل چاہتا ہے، ان کو بھی مد کیا جو معاملات کو سیدھی طرح سے حل ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے تھے، دعوت کے باوجود انہوں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اجلاس میں آئیں۔ قبل ازیں نیشنل ایپکس کمیٹی اجلاس سے پہلے وزیر اعظم شہباز شریف سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی۔ ملاقات میں قومی و داخلی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے وزیراعظم کو دورہ افغانستان پر اعتماد میں لیا۔ ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور سکیورٹی کے معاملات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایپکس کمیٹی

مزید :

صفحہ اول -