بس ہوسٹس بداخلاقی کیس،گواہ وہاڑی سے غائب

بس ہوسٹس بداخلاقی کیس،گواہ وہاڑی سے غائب

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
وہاڑی(نمائندہ خصوصی)چلتی بس میں گارڈ اور ڈرائیور کی طرف سے بداخلاقی کا نشانہ بننے والی لائبہ نے اپنے وکیل وہاب بلوچ ایڈوکیٹ اور والد زاہد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ بس کمپنی کی ایک بس ہوسٹس ہمارے ساتھ گواہی دینے کیلئے وہاڑی پہنچی لیکن وہاڑی پہنچ کر اسے غائب کردیا گیا ہے۔متاثرہ بس ہوسٹس کے والد زاہد کا کہنا ہے کہ بس مالکان کے ایما پر ہمیں دھمکیاں دینے کے ساتھ بد(بقیہ نمبر28صفحہ6پر )
نام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔میری بیٹی نے جو قدم اٹھایا ہے اگر ذمہ دار حکام انصاف فراہم کریں تو دیگر ہوسٹس کو تحفظ ملے گا۔متاثرہ بس ہوسٹس لائبہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے مدعی ہونے کے باوجود ہمیں دو دن تک اپنی تحویل میں رکھا۔عالیہ نامی انچارج نے زبردستی میری ڈیوٹی لگائی حالانکہ میری ڈیوٹی کادن نہیں تھا۔عالیہ نامی انچارج بڑی ملزمہ ہے لیکن اس کو شامل تفتیش نہیں کیا جارہا ہے۔ کمپنی میں انچارج اور دیگر ملازمین ایک گینگ کی صورت میں کام کرتے ہیں جو ہوسٹس کے ساتھ زیادتی کرکے معاملہ کا دبا دیتے ہیں۔متاثرہ لائبہ کے وکیل وہاب بلوچ ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ پولیس صحیح تفتیش نہیں کررہی ہے انچارج عالیہ کو شامل تفتیش کیا جائے۔عالیہ سے رابطہ کیا تو اس نے کہا یہ معمول کا کام ہے تم میرے پاس آجا معاملہ سیٹل کر لیتے ہیں۔عالیہ ورائچ کمپنی کی مہرہ ہے جو ہوسٹس کو پھنساتی ہے اور بعد ازاں ہوسٹس کو بلیک میل کرتی ہے۔پولیس بااثر کمپنی کے ایما پر عالیہ کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ملزمان بااثر ہیں ان سے میری مکلہ اور اس کے خاندان کی جان و مال کا خطرہ ہے۔اگر انچارج عالیہ اور کمپنی بیگناہ ہے تو ہوسٹس لائبہ کا ساتھ کیوں نہیں دے رہی ہے۔عالیہ کے خلاف سائبرکرائم کے حوالہ سے ایف آئی اے میں جارہے ہیں۔آج تک کوئی پولیس اہلکار یا تفتیشی ادارہ رحیمیار خان میں بس ٹرمینل پر تفتیش کیلئے نہیں گیا۔پولیس پارٹی نہ بنے بلکہ میرٹ پر تفتیش کرے۔جو ہوسٹس آج بیان دینے کیلئے آرہی تھی اس کو کیوں غائب کیاگیا اس کو منظرعام پر لایا جائے تاکہ ساری صورتحال سامنے آسکے۔وڑائچ کمپنی اگر بیگناہ تو اپنی ملازمہ لائبہ کا ساتھ کیوں نہیں دے رہی۔