پی ڈی ایم نے ریاست بچانے کیلئے اپنی سیاست دائر پر لگا دی: وزیراعظم 

  پی ڈی ایم نے ریاست بچانے کیلئے اپنی سیاست دائر پر لگا دی: وزیراعظم 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


      اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم شہباز شریف نے دہشتگردی کے خلاف جامع حکمت عملی تشکیل دینے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم خود اپنے گھر کے حالات ٹھیک نہیں کریں گے تو کوئی ہماریa مدد کو نہیں آئیگا، سیاسی استحکام ہر لحاظ سے مقدم ہے،تمام سیاسی شراکت داروں نے اپنا سیاسی اسٹیک داؤ پر لگایا ہے،ریاست کو بچانے کے لیے خلوص سے پوری کوشش کر رہے ہیں،آئی ایم ایف سے معاملات 8 سے 10 دن میں طے ہوجائیں گے،پاکستان کو اپنا کھویا مقام دلانا ہے تو ہمیں اپنی تمام ذاتی پسند اور ناپسند سمیت انا کو ایک طرف کرکے اکٹھے ہوکر تمام توانائیاں استعمال کرنی ہوں گی۔جمعہ کو نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) سے متعلق اپیکس کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج کا اجلاس نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے حوالے سے تھا جو کہ ایک غیر فعال ادارہ بن چکا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت نے اسٹیک ہولڈرز کو ایک جامع بحث کیلئے مدعو کیا تھا جس کی وجہ سے یہ (نیکٹا) کا منصوبہ تشکیل پایا تھا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پشاور میں ہونے والے سانحے پر میں نے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا لیکن انہوں نے مناسب نہ سمجھا کہ اس میٹنگ میں تشریف لائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ کچھ لوگ ایک کمرے میں بیٹھ کر ایسے معاملات پر بات کرنے سے انکار کرتے ہیں اور آج جب ہم ایک کمرے میں بیٹھے ہیں تو ایک حصہ سڑکوں پر جانا چاہتا ہے اور معاملات خراب کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاملات بھی ہفتوں میں طے پا جائیں گے جس کی کڑی شرائط کو منظور کرنے کے لیے ہم مجبور ہوگئے ہیں کیونکہ ریاست سب سے پہلے ہے باقی چیزیں بعد میں۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی شراکت داروں نے اپنا سیاسی اسٹیک داؤ پر لگایا ہے اور ریاست کو بچانے کے لیے خلوص سے پوری کوشش کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ پاکستان کا ایک دوست ملک ہے، جس کے بارے میں ہم سب کا خیال تھا کہ وہ آئی ایم ایف سے معاہدے کا انتظار کر رہے ہیں اور پھر اپنا حصہ ڈالیں گے تاہم اس دوست ملک نے چند دن پہلے آگاہ کیا ہے کہ ہم آپ کی مدد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں بھلائی نہیں جاتیں کیونکہ ماضی میں بھی پاکستان کیلئے انہوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے اس لیے ان نیکیوں کو تاقیامت نہیں بھلانا چاہیے۔وزیراعظم نے زور دیا کہ اگر ہم خود اپنے گھر کے حالات ٹھیک نہیں کریں گے تو کوئی ہماری مدد کو نہیں آئے گا اس لیے سیاسی استحکام ہر لحاظ سے مقدم ہے۔انہوں نے کہا کہ میں جب چین گیا تھا تو وزیر خارجہ میرے ساتھ تھے جہاں چین کے جواب میں کہا تھا کہ ان کی سیکیورٹی سے اگر ہماری سیکیورٹی زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہے اس لیے چین کو ہمیشہ یہ احساس رہا کہ پاکستان ہمارا بہترین دوست ملک ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ آج تمام سیاسی قیادت اور عسکری قیادت بیٹھی ہے، یہ کہاں کا انصاف تھا کہ ایک اچھا بھلا ملک چل پڑا تھا، امن و سکون قائم ہوگیا تھا، پاکستان کے 83 ہزار سپوت شہید ہوئے، ماؤں، بہنوں، والدین اور بیٹوں سمیت افواج پاکستان کے افسران، نوجوان، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سیاستدان، ان کے بچوں نے قربانیاں دیں اور یہ پاکستان کا امن نہیں پوری دنیا کے لیے امن قائم ہوا۔انہوں نے کہا کہ قربانیاں ہم نے دی ہیں، اس سے زیادہ کوئی مثال نہیں ہو سکتا کہ 80 ہزار پاکستانیوں نے جام شہادت نوش کیا اور پوری دنیا کے لیے امن کا بندوبست کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر لانا ہے، معاشی ترقی دلانی ہے، غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ کرنا ہے اور پاکستان کو اپنا کھویا مقام دلانا ہے تو ہمیں اپنی تمام ذاتی پسند اور ناپسند سمیت انا کو ایک طرف کرکے اکٹھے ہوکر تمام توانائیاں استعمال کرنی ہوں گی۔نجی ٹی وی کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ بدقسمتی سے آج بھی ایک طبقہ جو سڑکوں پر معاملات کا حل چاہتا ہے، ان کو بھی مد کیا جو معاملات کو سیدھی طرح سے حل ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے تھے، دعوت کے باوجود انہوں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اجلاس میں آئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ اب بھی کوشش کررہے ہیں کہ سڑکوں پر بیٹھ کر معاملات طے کریں۔علاوہ ازیں علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے ملاقات کی جس میں ملکی سیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔  ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے بارے میں بات کی گئی۔مزید بر آں وزیراعظم سے وزیر مملکت پاور ڈویڑن ہاشم نوتیزئی نے ملاقات کی، ملاقات میں پاور ڈویڑن کے امور پر بات چیت اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ہے، صوبے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ہم ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔بعد ازاں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے سیاسی رہنماؤں نے علیحدہ علحدہ ملاقاتیں کیں جس میں سیاسی صورتحال اور حلقوں کے مسائل سے متعلق گفتگو کی گئی ۔جاری اعلامیہ کے مطابق وزیرِ اعظم سے رکنِ قومی اسمبلی چوہدری احسان الحق باجوہ، سابق ارکانِ صوبائی اسمبلی صوفی اکرم اور زاہد اکرم نے ملاقات کی جس میں متعلقہ حلقے کے مسائل اور سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔وزیرِ اعظم سے پاکستان مسلم لیگ (ن)بلوچستان کے صدر جعفر خان مندوخیل نے ملاقات کی جس میں  صوبہ بلوچستان میں وزیرِ اعظم کی ہدایت پر شروع کئے گئے ترقیاتی کاموں پر پیش رفت اور اس کے حوالے مثبت عوامی ردعمل پر گفتگو کی گئی۔وزیرِ اعظم سے سابق وزیرِ اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے بھی ملاقات کی جس میں گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ 
وزیراعظم
 

مزید :

صفحہ اول -