” وکٹوریہ روڈ “ اپنے نام کی طرح عظیم ، باوقار اور دبدبے والی سڑک تھی

 ” وکٹوریہ روڈ “ اپنے نام کی طرح عظیم ، باوقار اور دبدبے والی سڑک تھی
 ” وکٹوریہ روڈ “ اپنے نام کی طرح عظیم ، باوقار اور دبدبے والی سڑک تھی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: محمد سعید جاوید
قسط:28
روپے پیسے اور اپنے سوٹ کا ذکر چھیڑ کر میں نے آپ کو احساس دلایا ہے کہ ان وقتوں میں روپے کی کیا قدر و قیمت ہوتی تھی ۔ایک عام سے گھرانے کا اوسط ماہانہ خرچ کوئی 50روپے تک آجاتا تھا ۔ 5 روپے میں باٹا کا بنا ہوا اسکول کا جوتا مل جایا کرتا تھا ۔
میں بھی کیا چیز ہوں کہ ایک بار پھر ایلفنسٹن سٹریٹ کے موضوع سے بھٹک کر کہاں جا پہنچا اور آپ کو مالیاتی الجھنوں میں ڈال دیا۔مگر کیا کروں، کراچی کے بارے میں کچھ لکھنا یا بات کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہے ۔ بات سے بات نکلتی ہے تو پتہ نہیں کہاں جا نکلتی ہے۔ میں اکثر اس لیے بھی پٹری سے اتر جاتا ہوں کہ بعد میں، کہیں بھول ہی نہ جاﺅں، سو اس چکر میں، میں نے کراچی کے تاریخی، جغرافیائی ، معاشی اور معاشرتی معاملات کو آپس میں گڈ مڈ کرکے اس کا ایک ملغوبہ سا بنا دیا ہے جس کی ہلکی پھلکی خوراک آپ کو ساتھ ساتھ دیتا رہوں گا اس احتیاط کے ساتھ کہ نہ تو آپ بیزار ہوں اور نہ ہی مجھے بعد میں کوئی بات اَن کہی رہ جانے کا قلق رہ جائے۔ 
ایلفنسٹن اسٹریٹ پر ٹہلتے ہوئے صدر کی طرف چلتے جائیں تو یہ سڑک بھی صدر کے مرکزی علاقے میں فرئیر روڈ پر پہنچ جاتی تھی اور اس میں ضم ہو کر اپنا وجود کھو بیٹھتی تھی ۔مخالف سمت میں یہ ایلفنسٹن سٹریٹ انورائٹی روڈ کو عبور کرکے ایک چوک پر آخری ہچکیا ں لیتے ہوئے ڈرگ روڈ سے ہم آغوش ہوجاتی تھی اور پھر دونوں سڑکیں آپس میں ایک ہو کر ایک ساتھ ہی اپنی اپنی شناخت گم کردیتی تھیں اور یہاں سے ایک نئی سڑک کلب روڈ کا آغاز ہو جاتا تھا جو آگے چل کر ہوٹل کراچی انٹرکانٹیننٹل کی طرف نکل جاتی تھی۔ بس اتنی سی کہانی تھی ڈرگ روڈ اور ایلفنسٹن سٹریٹ جیسی کراچی کی اہم سڑکوں کی !
وکٹوریہ روڈ
کلب روڈ پر تھوڑا آگے جانے پر ایک اور بڑی سڑک بھی صدر کی طرف سے آتی تھی اور اسے عبور کرتی ہوئی آگے کی طرف نکل جاتی تھی ۔اس کا نام ” وکٹوریہ روڈ “ ( عبد اللہ ہارون روڈ ) تھا ۔یہ بھی اپنے نام کی طرح ایک عظیم ، باوقار اور دبدبے والی سڑک تھی جس کا نام برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کے نام پر رکھا گیا تھا اور یہ کراچی کی بہت ہی ابتدائی سڑکوں میں سے ایک تھی ۔وکٹوریہ روڈ بھی انورائٹی روڈ سے صدر کی طرف جانے والی دوسری تمام سڑکوں کے تقریباً متوازی ہی چلتی تھی اور آخر کار یہ کلارک اسٹریٹ کوچھوتی ہوئی صدر کے مرکزی بازار کی طرف چلی جاتی تھی۔تاہم، یہ وہاںٹھہرنے کے بجائے فرئیر روڈ کو عبور کرتی ہوئی کراچی کی سب سے بڑی اور مرکزی سڑک بندر روڈ ( ایم اے جناح روڈ ) سے جا ملتی تھی۔
وکٹوریہ روڈ کے پہلے حصے پر زیادہ تر بھاری مشینری اور کاروں کے شو روم وغیرہ تھے۔ ان کے علاوہ بڑی بڑی تجارتی کمپنیاں بھی موجود تھیں جبکہ کچھ ملکی اور غیر ملکی بینکوں کے دفاتر بھی تھے۔ یہاںایک بہت بڑی لانڈری بھی تھی جس کا نام غالباً سنو وائٹ تھا۔ اس سڑک پرچونکہ روزمرہ استعمال کی چیزیں نہیں ملتی تھیں اور صرف وہ ہی لوگ آتے تھے جن کا یہاں آنا ضروری تھا اس لیے اس پر اتنی بھیڑ بھاڑ نہیں ہوتی تھی جو ایسی ہی اور سڑکوں کا خاصہ تھا ۔ سڑک کا یہ حصہ کافی اجاڑ اجاڑ سا لگا کرتا تھا۔ خاص طور پر شام ڈھلتے ہی اس پر سناٹا چھا جاتا تھا۔
ہاں آگے چل کر صدر کے علاقے میں اس پر نہ صرف کاروباری سرگرمیاں بڑھ جاتی تھیں بلکہ لوگوں کی آمد و رفت میں بھی اضافہ ہو جاتا تھا ۔ اس کے صدر بازار میں داخل ہونے سے ذرا پہلے کراچی کا نیا مرکزی ڈاک خانہ تھا ، جو کافی بعد میں تعمیر ہوا تھا۔ یہ 2 منزلہ خوبصورت عمارت اپنے دور کی ایک شاندار اور پروقارعمارت ہوا کرتی تھی جہاں ہر وقت ضرورت مندوں کا بڑا ہجوم رہتا تھا ۔ ( جاری ہے ) 
نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -