چیف جسٹس کی لفظی سخاوت و آئینی کفایت

  چیف جسٹس کی لفظی سخاوت و آئینی کفایت
  چیف جسٹس کی لفظی سخاوت و آئینی کفایت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 پہلا شخص: ”عدالت میں جج بولتا ہے یا فریقین گواہ وغیرہ“؟ دوسرا: ”بھئی جج کا کام تو خاموشی سے سن کر فیصلہ سنانا ہوتا ہے“ پہلا کہتا ہے: ”لیکن آج میں دن بھر۔کی سماعت کا احوال لکھتا رہا۔جتنا وقت چیف جسٹس نے بولنے میں لیا،اس کا تقریباً آدھا وقت سائلوں کو بولنے کا ملا۔بھیا، مجھے تو چیف جسٹس، منصف نہیں مناظرہ باز لگے۔ یہ اس کلپ کی گفتگو ہے جو روزانہ ملنے والے واٹس ایپس میں سے ایک تھا۔ یہ مکالمہ سیاسی ہی سہی لیکن اس کی اہمیت سے انکار نہیں۔ رہا لکھا ہوا فیصلہ تو وہ بھی نپا تلا اور نفس مضمون سے براہِ راست متعلق ہوتا ہے۔ یہ مسلمہ عدالتی اصول ہے کہ فیصلے میں فالتو بحث یا الفاظ نہیں ہوتے۔

اس وقت میرے سامنے چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ کا فیصلہ ہے۔ تفصیل ممکن نہیں، خلاصہ یہ کہ قادیانی ملزم پر الزام تھا کہ اس نے 2019ءمیں محرف ترجمے والی تفسیر کی نشر و اشاعت کی۔ فیصلے کے مطابق یہ فعل 2021ء میں جرم قرار پایا۔ 2022ءمیں ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی۔ جنوری 2023ءمیں وہ گرفتار ہوا۔ جرم کی سزا چھ ماہ لیکن ملزم 13 ماہ سے قید تھا یہاں سپریم کورٹ اگر یہ فیصلہ دے دیتی کہ ملزم سزا پوری کر چکا ہے لہٰذا اسے ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے، فوجداری قانون کا اطلاق موثر بہ ماضی نہیں ہو سکتا، اور توہین مذہب والی دفعات پر ٹرائل کورٹ ہمارے ملاحظات کی روشنی میں پھر غور کرے، تو کسی کو اعتراض نہ ہوتالیکن چیف جسٹس کی معروف زمانہ لفظی سخاوت انہیں مقدمے سے بالکل غیر متعلق مباحث کی طرف لے گئی۔ قرآنی آیات کا سہارا لیتے وقت کاش وہ ان کی تفسیر دیکھ لیتے۔ "دین (کے معاملے) میں کوئی جبر نہیں". اس آیت کا مقدمے سے بھلا کیا تعلق ہے؟ ملزم نے ضمانت کی درخواست کی تھی نہ کہ مذہبی جبر کی شکایت کی تھی۔ " بے شک اس قران کو ہم نے نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں". اس آیت کے سہارے چیف جسٹس کیا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تحفظ قران پر سرے سے قانون درکار نہیں کہ قرآن کا محافظ تو خود اللہ ہے؟ یقینا چیف کا مدعا یہ نہیں رہا ہوگا لیکن ناقدین کو وہ کیا جواب دیں گے کہ بے پناہ غیر متعلق لفظی سخاوت کے بعد آپ آئینی الفاظ کے استعمال میں کنجوسی کے مرتکب کیوں ہوئے۔

فیصلے میں انہوں نے قادیانیت کے تناظر میں آئینی آرٹیکل 20 کے یہ الفاظ لکھے: "ہر شہری کو اپنے مذہب پر یقین رکھنے، عمل کرنے اور پھیلانے کا حق ہو گا۔ یہاں آپ نے آرٹیکل کے ابتدائی الفاظ "قانون امن عامہ اور اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے" کیوں حذف کیے؟ بتائیے، بولیے، جواب دیجیے؟ پسینہ پونچھیے اپنی جبیں سے ! کہ الجھے ہو حق انسان کی زلف عنبریں سے؟ میں اپنی تحریروں میں مشہور قانونی روزمرہ کا ذکر کئی بار کر چکا ہوں: "جج نہیں بولتا، فیصلہ بولتا ہے". چیف جسٹس بلا مبالغہ بہت خوبیوں والے ہیں۔ ثاقب نثار، گلزار اور بندیالی عفونت کے بعد وہ تازہ ہوا کا جھونکا ہیں لیکن معلوم نہیں بلا ضرورت بول کر وہ مخالفین کو تنقید کے مواقع کیوں فراہم کرتے ہیں۔ فیصلے میں جن آئینی الفاظ کا ذکر لازم تھا، وہ انہوں نے کیوں حذف کر دیے؟

تاہم اس فیصلے میں خیر بھی ہے۔ یہ فیصلہ مبلغین انسانی حقوق کا ایک نمائندہ فیصلہ ہے۔ اور انسانی حقوق موم کی ناک جیسا وہ نیا ابلیسی مذہب ہے جس کی ساخت فی الحال ہر ملک میں مختلف ہے۔ لیکن آج دنیا میں جس رخ پر اس نئے مذہب پر نظائر آ رہے ہیں، آنے والے دنوں میں ان کے سامنے مذہب، اخلاق، آئین اور قانون کی کوئی وقعت نہیں رہے گی، لیکن خوب ذہن نشین کر لیجئے، پارلیمانی قوانین اور عدالتی تشریحات انہیں جو چاہیں رنگ دیں، مسئلہ ختم نبوت پر ہمیں وہی انسانی حقوق، قانون اور نظائر قبول ہوں گے جو ہر مدعی نبوت کو مسلمہ کذاب قرار دیتے ہوں۔ غزوہ بدر تا معرکہ موتہ 13 سالہ طویل مدت میں صرف 259 صحابہ شہید ہوئے، جبکہ آئین کے آرٹیکل 20 میں درج مسلمہ کذاب کا "حق آزادی اظہار" کچلنے کو مختصر سی جنگ یمامہ میں 1200 صحابہ ہنستے مسکراتے کٹ گئے تھے۔ قادیانیوں کو مسلمہ کذاب جیسا حق آزادی اظہار دینے کو بے چین ججوں، صحافیوں اور دانشوروں کو کچھ کہنے لکھنے سے قبل 1200 صحابہ کے کٹے پھٹے خون آلود لاشے متصور کرنا ہوں گے۔

یہ فیصلہ 6 فروری کو آیا. اخبارات میں چھوٹی سی خبر آئی۔کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ 10 دن سناٹا رہا کہ احتجاج والے حکومتی جوڑ توڑ میں مشغول تھے۔ حکومتی ایوانوں میں داخلے میں ناکامی پر مولانا فضل الرحمن اور تحریک انصاف کے ذہن تو الگ رہے لیکن جسم یکایک مانند توالد الاجسام ہو گئے۔ تحریک انصاف کے وفد کی مولانا سے ملنے کی دیر تھی کہ دفعتاً سوشل میڈیا پر قاضی فائز عیسی کے اس فیصلے پر تیزابی تبصرے شروع ہو گئے۔ ابتدا میں انہی دو جماعتوں کے مجاہدین سوشل میڈیا پر چھائے رہے۔ پھر دیگر دینی جماعتیں اور تنظیمیں بھی شاید کسی کے اشارے پر یا ریٹنگ کے پیش ِ نظر اسی کام میں جت گئیں۔ لوہا گرم ہو گیا تو مولانا فضل الرحمن نے فیصلے کی من مانی جذباتی تشریح کرکے آئمہ مساجد کو خطبہ جمعہ میں اس کے خلاف بولنے کو کہہ کر ملک بھر میں آگ لگا دی۔

اس فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں کہ نہ تو کوئی آئینی نکتہ زیر بحث تھا۔ نہ دو رکنی بینچ کا یہ مختصر فیصلہ 1993ءکے پانچ رکنی بینچ کے تفصیلی فیصلے کے مقابلے میں اہمیت رکھتا ہے۔ اپیل پر یہ فیصلہ چٹکیوں میں اڑ جائے گا۔ فیصلہ لکھنے والا کرگسوں میں پلے فریب خوردہ شاہین کی مانند ہے جسے راہ و رسم شاہبازی کی خبر تک نہیں اور وہ قرآنی آیات کی غیر متعلق تشریح کرنے لگا۔ خوش آئند امر البتہ یہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد عمرانی بیداری بغض معاویہ کے باعث ہی سہی، لیکن 19ویں صدی کے مسلمہ کذاب کو آزادی اظہار کا آئینی حق دلانے والے مجتحد دبک گئے ہیں۔ ہاری ہوئی سیاسی جماعتوں کو اس برق رفتار میڈیائی دور میں اس فیصلے کی خبر دو ہفتے تک کیوں نہ ہوئی؟ مولانا فضل الرحمن صاحب آپ محترم ہیں لیکن کیا مسئلہ ختم نبوت اتنا غیر اہم ہے کہ آپ نے دو ہفتے حصول اقتدار پر لگا کر ناکامی پر اس کی طرف توجہ کی؟ بتائیے, بولیے, جواب دیجیے؟ کہ الجھن کیوں نہ سلجھی مقتدر کی زلف عنبریں سے، پسینہ پونچھیے اپنی جبیں سے؟

فی الحال عقیدہ ختم نبوت کو کسی مسلمہ کذاب سے خطرہ نہیں ہے۔ ملک کو امن درکار ہے اور انتخابی معرکے میں ہاری ہوئی تمام جماعتیں بدامنی پھیلانے پر کمربند ہیں۔ مکرر التجا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ بوسیلہ لفظی سخاوت انہیں مزید موقع نہ دیں۔ اس فیصلے پر محترم مفتی تقی عثمانی صاحب کی رائے بہت متوازن، مدلل، بڑی حد تک مکمل اور پڑھنے کے لائق ہے۔

مزید :

رائے -کالم -