حکومت سازی کیلئے معاملات تقریباً طے لیکن 6 جماعتی اتحاد مل کر بھی قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام

حکومت سازی کیلئے معاملات تقریباً طے لیکن 6 جماعتی اتحاد مل کر بھی قومی اسمبلی ...
حکومت سازی کیلئے معاملات تقریباً طے لیکن 6 جماعتی اتحاد مل کر بھی قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام
کیپشن: File Photo

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ویب ڈیسک) چھ جماعتی اتحاد قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے محروم، اعداد و شمار کے مطابق اتحاد کو اگلی حکومت کی تشکیل کیلئے قومی اسمبلی میں 207 ارکان کی واضح اکثریت حاصل ہو گی  لیکن دو تہائی اکثریت سے کم ہے، جسے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں تقریباً 224 ایم این ایز کی حمایت درکار ہے۔ 336 ارکان کے ایوان میں حکومت سازی کے لیے 169 ووٹ جادوئی نمبر ہیں اور دو تہائی اکثریت کے لیے 224 کے قریب ووٹ درکار ہیں۔

روزنامہ" جنگ" کے مطابق رکن جماعتوں کے نمائندوں کے اشتراک کردہ اعداد و شمار کے مطابق حال ہی میں بننے والے6جماعتی اتحاد کو اگلی حکومت کی تشکیل کے لیے آنے والی قومی اسمبلی میں 207 ارکان کی واضح اکثریت حاصل ہو گی۔ اس اتحاد میں پاکستان مسلم لیگ ن(پی ایم ایل این)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی)، استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی)، پاکستان مسلم لیگ قائد (پی ایم ایل کیو) اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) شامل ہیں۔ اس اتحاد کو قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے آئینی عہدے بھی آسانی سے مل جائیں گے۔ اتحاد کی اجتماعی طاقت قومی اسمبلی میں واضح اکثریت بناتی ہے،

 خواتین کے لیے 20 اور اقلیتوں کے لیے 4مخصوص نشستیں شامل کرنے کے بعد مسلم لیگ( ن) 108 راکین کے ساتھ سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ پی ایم ایل این نے قومی اسمبلی کے لیے 75 ارکان منتخب کروائے اور 9 آزاد ارکان کے شامل ہونے کے بعد ان کی تعداد 84 ہوگئی۔ خواتین کے لیے 20 اور اقلیتوں کے لیے 4 مخصوص نشستیں مختص کرنے کے بعد، اس کی کل تعداد ایوان میں 108 تک پہنچ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے 54 منتخب اراکین ہیں اور خواتین کے لیے 12 اور اقلیتوں کے لیے 2 مخصوص نشستوں کے اضافے کے بعد قومی اسمبلی میں اس کے ارکان کی کل تعداد 68 ہو گئی ہے۔

پی ایم ایل این اور پی پی پی کے ایم این ایز کی کل تعداد 169 بنتی ہے، جو حکومت بنانے کے لیے درکار ہے کیونکہ دونوں جماعتوں کے ارکان کی کل تعداد 168 ہے۔ ایم کیو ایم پی نے عام انتخابات میں اپنے 17 اراکین منتخب کروائے اور خواتین کے لیے 4 اور اقلیتوں کے لیے1 مخصوص نشستوں کے اضافے سے قومی اسمبلی میں اس کے ارکان کی کل تعداد 22 ہو گئی۔ پی ایم ایل کیو کے 3 ارکان منتخب ہوئے اور ایک آزاد نے اس میں شمولیت اختیار کی اور خواتین کی ایک مخصوص نشست کے اضافے سے قومی اسمبلی میں اس کی تعداد5ہوگئی۔

 آئی پی پی نے اپنے3ارکان قومی اسمبلی منتخب کرائے ہیں۔ عام انتخابات 2024 میں منتخب ہونے والے 99آزاد امیدواروں میں سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 81سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے ہیں جب کہ آٹھ آزاد امیدواروں نے کسی جماعت میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور قومی اسمبلی میں آزاد امیدواروں کا درجہ حاصل کر لیا۔ جمعیت علمائے اسلام فضل (جے یو آئی ایف) کے 6ارکان منتخب ہوئے اور انہیں خواتین کے لیے 2 مخصوص نشستیں الاٹ کی گئیں، جس سے قومی اسمبلی میں اس کی کل تعداد 8 ہوگئی۔

مجلس وحدت  المسلمین پاکستان، بلوچستان عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)، نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور مسلم لیگ ضیاء سمیت دیگر جماعتوں کو قومی اسمبلی میں ایک ایک نشست ملی۔