سینئر آڈیٹر نے ہیڈ کیشیئر کے بارے میں پوچھا،جب بتایا گیا کہ یہ یونین لیڈر بھی ہے،اس نے پرسنل فائل منگوائی اور یوں ایک شاندار کھیل کا آغاز ہوا

سینئر آڈیٹر نے ہیڈ کیشیئر کے بارے میں پوچھا،جب بتایا گیا کہ یہ یونین لیڈر بھی ...
سینئر آڈیٹر نے ہیڈ کیشیئر کے بارے میں پوچھا،جب بتایا گیا کہ یہ یونین لیڈر بھی ہے،اس نے پرسنل فائل منگوائی اور یوں ایک شاندار کھیل کا آغاز ہوا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:193
 سینئر آڈیٹر نے ہیڈ کیشیئر کے بارے میں پوچھا،جب بتایا گیا کہ یہ یونین لیڈر بھی ہے اور ان حالات میں اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو وہ کچھ دیر سوچتا رہا، پھر اس نے اس کی پرسنل فائل منگوائی اور یوں ایک شاندار کھیل کا آغاز ہوا۔ جب وہ اس کی فائل کی ورق گردانی کر رہا تھا تو وہ ایک کاغذ کو دیکھ کر لمحے بھر کو چونکا۔ اس کو وہاں اسی ہیڈ کیشیئر عباسی کا پچھلے برس کا لکھا ہوا ایک استعفیٰ نظر آ گیا جو اس نے ذاتی وجوہات کی بنا ء پر دیا تھا۔بعدازاں اس نے اپنا ارادہ بدل دیا تھااور منیجر کو زبانی بتا دیا کہ وہ اب نہیں جا رہا ہے اور اپنا کام جاری رکھے گا۔ وہ اپنی استعفیٰ کی درخواست واپس لینا بھول گیا تھا۔ اور وہ ابھی تک فائل میں ہی لگی ہوئی تھی۔ آڈیٹر کے ذہن میں ایک شیطانی منصوبہ آیا، اور اس نے اس کی فائل بغل میں دبائی اور اگلی بس سے زونل آفس راولپنڈی چلا گیا۔
شام کو وہاں سے ایک چپڑاسی ہیڈ کیشیئر عباسی کے نام کا ایک خط لے کر پہنچ گیا۔ جس پر لکھا تھا کہ ”بینک کی انتظامیہ نے کافی غور و غوض کے بعد آپ کا فلاں تاریخ کا لکھا ہوا استعفیٰ منظور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ (جس کی کاپی منسلک ہے)اب چونکہ ہمارے پاس متبادل ہیڈ کیشیئر موجود ہے، لہٰذا آپ فوری طور پر چارج اس کے حوالے کر کے جا سکتے ہیں۔ ہم آپ کا اور آپ کی قیمتی خدمات کا بہت شکریہ ادا کرتے ہیں“۔وغیرہ وغیرہ۔
خط ملتے ہی ہیڈ کیشیئر عباسی کے اوسان خطا اور رنگ فق ہو گیا۔ بھاگا بھاگا پہلے تو جعفری کے پاس آیااور اسے بتایا کہ یہ استعفیٰ تو پچھلے سال کا تھا جو واپس ہو گیا تھا، جعفری نے کہا ”بھائی مجھ سے جس طرح کی چاہو قسم اٹھوا لو میں نے اس بارے میں کچھ نہیں کیا، جو بھی ہوا ہے وہ زونل آفس میں ہی ہوا ہے“۔ پھر اگلی صبح وہ سیدھا یونین آفس راولپنڈی گیااورپھر یونین کے سارے عہدے دار اکٹھے ہو کر زونل آفس پہنچ گئے۔ جہاں میٹنگ کے دوران ان کو عباسی کا اصلی استعفیٰ دکھا دیا گیا جو اس نے اس وقت اپنے ہاتھوں سے لکھ کر اور دستخط کر کے جمع کروایا تھا۔ ظاہر ہے سب کچھ قانون کے مطابق ہی ہوا تھا اور وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے لہٰذا ناکام ہو کر واپس آگئے۔ عباسی منہ لٹکائے ہوئے تیسرے پہر جب بینک واپس پہنچا تو اس کا متبادل ہیڈ کیشیئر بھی پہنچ گیا تھا اس لیے مزید کسی معجزے کی توقع کیے بغیر اسے چارج دے کر گھر جانا ہی پڑا۔ اس کے بعد وہ کبھی بینک کے قریب بھی نہیں پھٹکا۔
اپنے عظیم اور بے باک لیڈر کا یہ درد ناک انجام دیکھ کر دوسرے ملازمین خود ہی سنبھل گئے اور اگلے دن سے معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دینے شروع کر دیئے۔ کچھ دنوں بعد آڈیٹرز خود تو چلے گئے لیکن ہمیں اس دائمی مصیبت سے نجات دلا گئے۔ اس سارے واقعے سے میں نے اور دوسرے آفیسروں نے یہ سبق سیکھا کہ جب بھی کبھی استعفیٰ واپس لینا پڑے تو ہمیشہ اصلی دستاویز کی واپسی پر اصرار کیا جائے ورنہ اس طرح بھی ہو سکتا ہے۔
کام کی طرف سے ذرا سکون ہوا تو جعفری اپنے دل پسند شغل کی طرف مائل ہوا اور پہلے کی طرح  ہی باہر نکلنے لگا۔ اسی دوران اس کی ملاقات ایک ماں اور ان کی دو خوبصورت اور نوجوان بیٹیوں سے ہوئی جو مری میں چند اچھے دن گزارنے کے لیے آئی ہوئی تھیں۔ مستقل رہائش کینیڈا میں تھی اور یہاں کسی ہوٹل میں مقیم تھیں۔ وہ جعفری کے پاس کینیڈا سے اپنی رقم کی ترسیل کے سلسلے میں کچھ معلومات حاصل کرنے بینک آئیں اور یہاں حسب معمول جعفری بڑی بہن کی زلفوں کا اسیر ہو گیا اور چھوٹی کو برے وقت کے لیے بچا کر رکھ لیا۔ ان سب کو اپنے سرکاری گھر میں قیام کی دعوت دے ڈالی۔ جسے انھوں نے خندہ پیشانی اور شکریئے کے ساتھ قبول کر لیا۔ شام ہونے سے پہلے ہی تینوں ماں بیٹیاں ہوٹل سے جعفری کے گھر منتقل ہو گئیں۔ اس قسم کا قیام ہمارے لیے نیا نہیں تھا۔ وہ اکثر حسین سیاحوں اور پردیسیوں کو اپنا آشیانہ مہیا کیا کرتا تھا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -