انجنیئرنگ کالج کا ماحول گورنمنٹ کالج سے بہت مختلف قدرے غیر آباد تھا، غیر تعلیمی سرگرمیاں بھی نہ تھیں، لڑکیاں نہ ہونے کی وجہ سے ماحول پھسپھسا سا تھا

 انجنیئرنگ کالج کا ماحول گورنمنٹ کالج سے بہت مختلف قدرے غیر آباد تھا، غیر ...
 انجنیئرنگ کالج کا ماحول گورنمنٹ کالج سے بہت مختلف قدرے غیر آباد تھا، غیر تعلیمی سرگرمیاں بھی نہ تھیں، لڑکیاں نہ ہونے کی وجہ سے ماحول پھسپھسا سا تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:24
انجنیئرنگ کالج کا ماحول گورنمنٹ کالج سے بہت مختلف تھا۔ یہاں کا کیمپس قدرے غیر آباد تھا اور یہاں ہریالی بھی وہاں کی نسبت کم تھی۔ اور کوئی غیر تعلیمی سرگرمیاں بھی نہ تھیں اور لڑکیوں کا ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے ماحول پھسپھسا سا تھا۔ شو مئی قسمت کہ اس وقت سارے کالج میں ایک بھی لڑکی نہ تھی۔ اور جب ہم وہاں سے تعلیم مکمل کر کے نکل گئے تو اس کے کئی برس بعد وہاں لڑکیوں کا آنا جانا شروع ہو گیا،جس کا ظاہر ہے ہمیں کچھ فائدہ نہ تھا۔ کسی قسم کی غیر نصابی سرگرمیوں اور لڑکیوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ساری توجہ تعلیم کی ہی طرف مبذول ہوگئی تھی۔ 
پہلے سال انجنیئرنگ کے تمام شعبہ جات کی کلاسیں مشترکہ ہی ہوتی تھیں اس لیے اس وقت کورس بھی عمومی نوعیت کے ہوتے تھے۔ جن میں حساب، طبیعات، کیمسٹری، کے علاوہ کچھ بنیادی کورس بھی ہوتے تھے۔یہاں بھی کلاس سے غیر حاضر رہنے کا تصور نہیں تھا، میں نے بھی کبھی کوئی کلاس نہیں چھوڑی، ہاں علالت کے دنوں میں شاید ایسا ہوا ہو۔ اس کے علاوہ یہاں اتنا زیادہ ہوم ورک دیا جاتا تھا کہ اس کو مکمل کرتے ہوئے آدھی رات ہو جاتی تھی۔ ہفتے میں 6 دن کلاسیں ہوتی تھیں سو لے دے کر اتوار ہی کا دن آرام اور دوسرے متفرق کام کاج کے لیے ملتا تھا۔
ہوسٹل کی زندگی، بس ٹھیک ہی تھی، یہاں طلبہ کے لیے مشترکہ ہال نہیں تھے بلکہ ہمیں  انفرادی طور پر کمرے ملے ہوئے تھے۔ ان دنوں وہاں 3 ہی ہوسٹل تھے جو ڈی۔ ای اور ایف کہلاتے تھے۔ مجھے ڈی ہوسٹل میں کمرہ ملا تھا اور احمد خان بھٹی میرا پڑوسی تھا۔ ایک دن اس کا ایک پرانا خاندانی ملازم اس کے پاس ملاقات کے لیے آیا اور پھر وہ مجھے بھی ملنے میرے کمرے میں آگیا۔ اس نے انتہائی معصومیت سے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں بھی شادی شدہ ہوں۔ میں نے اس سے مزید کوئی بات نہیں کی اب احمد خان کا ایک انتہائی قیمتی راز میرے ہاتھ لگ گیا تھا۔  پھر ناجانے کیوں میں نے احمد خان سے اس بات کی تصدیق چاہی جس پر وہ بہت سیخ پا ہوا اور بیچارے ملازم کو مار مار کر ادھ موا کردیا۔ بہت بعد میں کہیں جا کر احمد خان نے چھوٹی عمر میں اپنی شادی کی داستان سنائی۔ 
ہمارے پہلے پیشہ وارانہ امتحانات پنجاب یونیورسٹی نے لیے تھے۔ انہی امتحانات کے نتائج سے یہ فیصلہ ہونا تھا کہ طالب علم کو کس شعبے میں جانا ہے۔ میں نے امتحان میں بہت اچھے نمبر حاصل کئے تھے اور میں کسی بھی شعبے میں جانے کا اہل تھا۔ ڈسکہ میں اپنی سکول کی تعلیم کے دوران ہم اکثر بی آر بی نہر پر جاتے تھے، تب ہی سے میرا سول انجنیئرنگ کی طرف میلان ہو گیا تھا سو میں نے یہاں بھی اسی شعبے کو چن لیا۔ 
اس شعبے میں تعلیم کے دوران ہی ایک اور طالب علم ہمارے قریب آ گیا اس کے بعد تو ہم تینوں زندگی بھر کے لیے گہرے دوست بن گئے۔ یہ محمد اکرم شیخ تھا۔ انہی نتائج کی بنیاد پر ایک بار پھررول نمبر نئے سرے سے تفویض کئے گئے۔ یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہم تینوں دوستوں  یعنی اکرم، مجھے اور احمد خان کو رول نمبر ایک، دو اور تین الاٹ ہوگئے۔ یہاں سے ہم تینوں جگری دوستوں کا ایک طویل سفر شروع ہوا،تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہم گو مختلف سمتوں میں روانہ ہوگئے تھے مگر پھر بھی ہمیشہ رابطے میں رہے او ر یہ سلسلہ آج بھی قائم ہے۔اکرم نے برطانیہ سے پوسٹ گریجوایشن اور کینیڈا سے ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ اور پھر پی آئی ڈی سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اس کے بعد وفاقی سیکرٹری کی حیثیت سے بہت اہم ذمہ داریاں نبھائیں اور بعد ازاں وفاقی وزیر اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے تک جا پہنچا۔ احمد خان نے واپڈا میں اپنی ملازمت کا آغاز کیا اور بہت اہم جگہوں پر فائز رہا اسی دوران اس نے برطانیہ سے پوسٹ گریجوایشن بھی کیا اور ممبر واپڈا کے رتبے تک جا پہنچا۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -