کیا ہم اسی معمولی اور اوسط درجے کی زندگی پر اکتفا کرنا چاہتے ہیں؟ بجٹ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی زیادہ سوچ کی ضرورت ہے

کیا ہم اسی معمولی اور اوسط درجے کی زندگی پر اکتفا کرنا چاہتے ہیں؟ بجٹ کے ...
کیا ہم اسی معمولی اور اوسط درجے کی زندگی پر اکتفا کرنا چاہتے ہیں؟ بجٹ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی زیادہ سوچ کی ضرورت ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:11
اس اشتہار کے ذریعے یہ بتا یا گیا ہے یہ کار کس قدر پرتعیش، کھلی اور آرام دہ ہے۔ اس اشتہار میں ایک خوبصورت کار دکھانے کے علاوہ ایک بہت ہی اچھے گھر کی تصویر بھی موجود ہے، جس کا مالک ایک ایسا شخص ہے جس نے زیادہ سے زیادہ سوچنے، غور و فکر کرنے اور سوچ بچار کی عادت اپنا رکھی ہو۔
میرے خیال کے مطابق، مندرجہ بالا مضمون، جس میں اوسط اور معمولی کامیابی کے علاوہ کم سوچنے اور غوروفکر کرنے کی تبلیغ کی گئی ہے، اور پھر یہ اشتہار، جس میں ایک بہتر اور پرتعیش زندگی اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، ان دونوں کا تقابل، ہمیں اپنی پسند و ناپسند اختیار کرنے کے حق سے سرفراز کرتا ہے۔ کیا ہم اسی معمولی اور اوسط درجے کی زندگی پر اکتفا کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم زندگی کے اسی اکتا دینے والے معمول کے غلام رہنا چاہتے ہیں؟ اور یا پھر کولہو کے بیل کی طرح اسی معمولی اور اوسط درجے کی زندگی کا ہی شکار ہونا چاہتے ہیں؟ یا پھر یہ کہ ہم زیادہ سے زیادہ سوچ، غوروفکر اور سوچ و بچار کے ذریعے، ایک با سہولت اور پرآسائش زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں؟
بجٹ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی زیادہ سوچ کی ضرورت ہے:
آج، تمام دنیا میں، مختلف انفرادی افراد، شادی شدہ جوڑے، تجارتی ادارے اور حکومتیں و حکومتی محکمے اپنے بجٹ کے متعلقہ مسائل حل کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہیں۔ اس ضمن میں بنیادی مسئلہ ایک ہی ہوتا ہے کہ لوگ اپنی چادر کو دیکھ کر پاؤں نہیں پھیلاتے، یعنی اپنی آمدنی سے بڑھ کر خرچ کر ڈالتے ہیں۔
عام طور پر بجٹ کے اس بنیادی مسئلے کا حل کرنے کے لیے لوگ ایک ہی طریقہ اختیار کرتے ہیں اور یہ طریقہ اور حل نہایت ہی نامعقول اور غلط ہے۔ اس حوالے سے جین(Jane) اور بل (Bill) کے درمیان ہونے والی گفتگو پر غور کیجئے:
جین:    ”ہمارے ماہانہ اخراجات پورے نہیں ہو رہے، اور اب ہمیں لازمی طور پر چاہیے کہ ہم اپنے اخراجات میں کمی کر لیں۔“
بل:     ”بالکل صحیح، لیکن کیسے؟“
جین:     ”سب سے پہلے تو ہم ویک اینڈ پر باہر سیر و تفریح کے لیے جانا بند کر دیں، اور پھر ہم تعطیلات میں باہر جانے کے پروگرام کو منسوخ کردیں۔ مزید یہ کہ ہم کار کا استعمال بھی کم کر سکتے ہیں۔ اور پھر تم اپنی ماں کو بھی دور دراز علاقے سے اپنے پاس بلا لیتے ہو۔“
بجٹ کے متعلقہ مسائل کے سلسلے میں ایسی ہی صورت حال جاری رہتی ہے۔ لوگ اپنے بجٹ کو متوازن بنانے کے لیے اپنی سوچ، دائرہ محدود کر لیتے ہیں، اپنے اخراجات تم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اپنی ضروریات خواہشات سے منہ موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بہرحال”اصراف سے اجتناب اور کم خواہش“ ایک اچھی اور مفید بات ہے لیکن اپنی زندگی کو خوشحال بنانے، اپنے بجٹ کو متوازن بنانے کے ضمن میں اپنی ذہنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کے کم اظہار پر مبنی رویہ اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ حال ہی میں، میں نے ایک بنک میں ”بچت“ اور ”قرضے“ کا اکاونٹ کھولا۔ نبک نے مجھے بارہ کتابچے دیئے جن میں مالی معاملات بہتر بنانے کے طریقے بتائے گئے تھے۔ میں ان کتابچوں کو اپنے گھر لے گیا اور ان کا معائنہ کیا اور ان کو پڑھا بھی۔ ہر کتابچے میں یہی بتایا گیا تھا کہ خوراک، توانائی، ایندھن تعلیم کے اخراجات میں کمی کے ذریعے رقم بچائی جا سکتی ہے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -