آنے والے الیکشن اور ہماری وڈیرہ شاہی

آنے والے الیکشن اور ہماری وڈیرہ شاہی
آنے والے الیکشن اور ہماری وڈیرہ شاہی

  

پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی، معاشی اور معاشرتی بیماری جو اس ملک کو گھن کی طرح کھا کر بے جان کر چکی ہے، وہ یہاں کی وڈیرہ شاہی ہے۔ یہی وڈیرہ شاہی ہے جو انگریزی سامراج کے قدم جمانے کا کام کرتی رہی۔ اسی وڈیرہ شاہی نے ہندو کانگریس کو 1946ءکے الیکشن میں سہارا دے کر علامہ اقبالؒ کی کوشش پر پانی پھیر دیا اور تحریک پاکستان کو نقصان پہنچا کر قائداعظمؒ کی مسلم لیگ کو نہ صرف ہائی جیک کر لیا، بلکہ ان کی وفات کے بعد پاکستان کو بھی ہائی جیک کر لیا اور آج تک اسے ہائی جیک کر رکھا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری اس وڈیرہ شاہی کے اکثر پرزے بزدل، خود غرض اور ظالم ہیں۔ ان کی بزدلی، خود غرضی اور ظلم کا خمیازہ پاکستان اور اس کے غریب عوام کی اکثریت کو بھگتنا پڑ رہا ہے، چونکہ اس ملک پر قابض وڈیرہ شاہی اس کے سیاہ و سفید کی مالک بنی ہوئی ہے، اس لئے داخلی اور خارجی سطح پر دوسرے لفظوں میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر ناکامیاں، نامرادیاں اور ظلم و افلاس کی چکی میں پستے رہنا ہمارا مقدر بن گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہماری یہ وڈیرہ شاہی بھارت کی ہندو لیڈر شپ سے جرا¿ت کے ساتھ بات کرتے ہوئے اسی طرح ڈرتی ہے، جس طرح پارٹیشن سے پہلے ہندو کانگریس کے لیڈروں سے ڈرتے تھے اور نئے عالمی سامراجیوں ،خصوصاً امریکی سامراج سے بھی اسی طرح ڈرتے تھے ،جس طرح آزادی سے پہلے انگریز سامراجیوں سے ڈرتے اور دبتے تھے۔

انہیں خطرہ یہ ہے کہ کہیں کرسی نہ چھن جائے، حالانکہ یہ کرسیءاقتدار انہیں بظاہر غریب عوام نے دینا ہوتی ہے، مگر یہ وڈیرہ شاہی کے ناکارہ پرزے اپنے عوام کو کالانعام سمجھتے ہوئے اسے کھوکھلے نعروں اور جھوٹے وعدوں سے بے وقوف بنا کر کامیاب ہوتے ہیں ، پھر کرسی کے مزے لوٹنے کے ساتھ ساتھ ملک کو بھی لوٹتے ہیں۔آج بھی یہی صورت حال ہے۔ ہر وڈیرے کی خواہش ہے کہ کسی طرح کھوکھلے نعروں اور جھوٹے وعدوںسے پنجابی عوام کو بے وقوف بنا کر ایک بار پھر اسی طرح ایوان اقتدار میں پہنچ جائے، جس طرح 1970ءکے الیکشن میں پی پی پی نے روٹی، کپڑے اور مکان کے نعرے سے غریب عوام، خصوصاً پنجاب کے عوام کو بے وقوف بنا لیا تھا.... چنانچہ ایک صاحب جو غریب ہونے اور غریب پرور ہونے کے دعویدار بھی ہیں اور خود ساختہ جلاوطن بنے ہوئے ہیں، باہر سے ہی ”اوئے جاگیردارا“ کی کھوکھلی بڑھک لگا کر پنجاب کے عوام کو اپنے پیچھے لگانے کے جتن کرتے آ رہے ہیں.... اور تو اور ہمارے صدر محترم آصف علی زرداری جو صدر کم وزیراعظم اور صدر کم پارٹی چیئرمین ہونے کے مزے بھی لوٹ چکے ہیں، مگر سیر نہیں ہو پائے، اس لئے اس لذت کو مسلسل جاری رکھنے کے لئے کوشاں ہیں، مگر خفیہ اور خاموش تیر چلا کر....

 مگر ان کا پہلا تیر جو ایک فوجی ڈکٹیٹر کا چلایا ہوا تھا، آصف علی زرداری نے بھی برسراقتدار آکر اس ”تیر“ کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی تھی ، وہ لاہور کو لاڑکانہ بنانے کا اعلان فرماتے تھے، مگر وہ اپنے ہی محافظ کی گولی کا نشانہ بن گئے۔ خدا انہیں اپنے کئے کی جزا دے.... اس کے بعد سے پنجاب کے عوام کو اپنے پیچھے لگانے کے لئے، بلکہ یوں کہئے کہ پنجاب کے عوام کو شریف برادران سے توڑنے کے لئے وہ مسلسل تیر پر تیر چلا رہے ہیں ، مگر کوئی بھی کارگر نہیں ہو پا رہا۔ ان کا دوسرا تیر کھوسہ تھا جو پچ پر پھسلتے پھسلتے گرد آلود ہو کر بیکار ہوگیا۔ ان کا تیسرا تیر ”وٹو تیر“ تھا جو چلتے ہی ٹھس ہوگیا۔ اب آصف علی زرداری اپنے زخمی شکار سید یوسف رضا گیلانی کے مشورے اور مدد سے آخری تیر لائے ہیں اور وہ ہے ”مخدوم تیر“.... مگر وہ بھی ٹھس ہوتا دکھائی دے رہا تھا، چنانچہ اپنے اس آخری تیر کو صوبہ سازی کی مشین سے پھونکیں ماری جا رہی ہیں۔ اصل مقصد صرف پنجاب کے ووٹروں کے دل جیت کر اکثریت حاصل کرنا ہے، جو ممکن نظر نہیں آتا، اس لئے لذتِ اقتدار کو طول دینا بھی مشکل ہے۔ دوسرے صوبوں کے عوام کی طرح پنجاب کے غریب عوام بھی اب جاگ رہے ہیں۔ بھلے بُرے کو پہچان رہے ہیں۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون صرف نعروں، وعدوں اور دعوو¿ں سے انہیں بے وقوف بنا رہا ہے اور ان کی صحیح خدمت کس نے کی ہے۔ اب صرف وعدے نہیں چلیں گے، بلکہ یہ بتانا ہوگا کہ پانچ سال میں کیا کیا ہے اور عوام کو کیا کچھ دیا ہے۔ کچھ دیا بھی ہے یا سب کچھ کھایا لوٹا ہے اورعوام کو پورے پانچ سال جانوروں کی طرح ہانکا ہے۔

اوپر جو اوصاف بیان ہوئے ہیں، وہ پنجاب کی وڈیرہ شاہی میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ وڈیرہ دنیا دار بزدلی کے باعث جرا¿ت کے ساتھ زبان کھولنے سے بھی عاجز ہوتا ہے، اس لئے وہ ہندو لیڈر شپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پاکستان کا حق مانگنے سے بھی قاصر چلے آتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے مبنی بر انصاف حقوق بھی ہندو نے غصب کر رکھے ہیں۔ چالاک برہمن نئی سامراجی دنیا کو بھی یہی گر سکھاتے ہیں کہ یہ پاکستان کے کرسی پرست وڈیرے صرف اپنے پیٹ کی بات کرنے اور اپنے حقدار عوام کو بھاڑ میں ڈالنے کے لئے تیار ہوں گے، اس لئے انہیں آنکھیں دکھا کر خاموش کر سکتے ہو، بالکل ویسے ہی جیسے غلامی کے زمانے میں یہ ہندو ہیں۔ انگریزوں کے پاس ان وڈیروں کی چغلیاں کھاتے تھے اور وہ ان وڈیروں کو ڈرا دھمکا کر اپنے جوتے کے نیچے رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے مبنی بر انصاف حقوق بھی غاصب ہندو سے حاصل نہیں کر پائے اور دنیا کے سامنے ان کو پیش کرنے کی جرا¿ت بھی نہیں کر سکے! حتیٰ کہ ستر سال سے مظلوم کشمیریوں کا حق دلوانے اور دنیا سے منوانے میں بھی عاجز چلے آتے ہیں، کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو کرسی چھن جانے کا ڈر ہے۔ اگر ہندو ناراض ہوگئے تو وہ نئے سامراجیوں سے ہماری شکایت کر دیں گے اور ہم سامراجیوں کے طفیل حاصل ہونے والے اقتدار سے محروم کر دئیے جائیں گے۔ اس لئے کہ یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم سامراجیوں کے کام نہ آسکے تو ڈھونگ مارکہ الیکشن میں غریب عوام کو جھانسہ دے کر کسی اور وڈیرے کو کرسی پر بٹھا دیا جائے گا۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو صرف عوامی ووٹ اور جمہور کی طاقت سے بنا ہے۔ اگر پاکستان بنانے والے ان غریب عوام کو آزادانہ، منصفانہ اور شفاف الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا موقع ملے تو کوئی بددیانت، کوئی لٹیرا نہیں جیت سکے گا اور اب چونکہ عوام کو آزادانہ ووٹ کا موقع ملنے کی قوی امید ہے، اس لئے وہ الیکشن میں تمام بددیانت، لٹیرے اور ظالم وڈیروں کا پٹڑا کر دیں گے اور صرف خادم عوام اور مخلص لوگ ہی آگے آسکیں گے، اس لئے سب وڈیروں کو پنجاب کی اکثریت کی فکر لگی ہوئی ہے اور ہر ایک پنجابیوں کو ڈھور ڈنگر سمجھ کر اپنے پیچھے لگانے کے جتن کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ سب کے سب آنکھیں بند کر کے اسے اسی طرح جتا دیں جس طرح 1970ءمیں پی پی کو جتا دیا تھا۔

آصف علی زرداری چونکہ خود کو بھٹو کا وارث تصور کرتے ہیں، اس لئے وہ اس میدان میں پیش پیش ہیں اور جلد سے جلد صوبہ سازی کے جھانسے دے کر پرانی تاریخ کی فکر میں دہراتے ہیں۔ بے شک صوبے چھوڑ صوبیاں بھی بنوائیں، مگر آئین کے مطابق اور جمہور عوام کی مرضی سے اور ان کے فائدے کے لئے! ورنہ بہاول پور شہر کو سرائیکی صوبے کا دارالحکومت بنانے کا اعلان نہ صرف عوام کی حق تلفی اور آئین کی خلاف ورزی ہے، بلکہ بے تُکی بات بھی ہے۔ بہاول پور کے اصل مالک تو عوام ہیں یا عباسی ریاست کے وارث نواب زادہ صلاح الدین، جن کے بزرگوں نے پاکستان کے لئے بہت بڑی قربانی دی اور خدمات انجام دی ہیں۔ پھر بہاول پور کو صوبہ بنانے کا آئینی فیصلہ تو پنجاب اسمبلی متفقہ طور پر کر چکی ہے، مگر پاکستان کی وڈیرہ شاہی کا کیا کہنا! اس نے تو قائداعظم کے پاکستان کو بھی اپنا کھلونا اور اپنی لوٹ مار کی چراگاہ بنا رکھا ہے جو چاہے اس وڈیرہ شاہی کا حسن کرشمہ ساز کرے!

( ڈاکٹر ظہور احمد اظہر پنجاب یونیورسٹی کی فیکلٹی آف اورئنٹل سٹڈیز کے سابق ڈین اور ممتاز سکالر ہیں ان دنوں پروفیسر ایمریطس اور مسند ہجویری کے مسند نشین ہیں۔)  ٭

مزید :

کالم -