سمارٹ فون کو اپنا ہم بستر نہ بنایئے!

سمارٹ فون کو اپنا ہم بستر نہ بنایئے!
سمارٹ فون کو اپنا ہم بستر نہ بنایئے!
کیپشن: Ghulam Jilani Khan

  

اگلے روز انگریزی زبان کے ایک معروف میگزین ”دی نیچر“ میں ایک آرٹیکل پر نظر پڑی جس کا عنوان تھا:

Do not make Smart Phone your bed-fellow

اس کا ترجمہ وہی ہے جو مَیں نے اس کالم کا عنوان بنایا ہے۔ bed -fellow والے ٹکڑے کو دیکھ کر مَیں نے از راہِ تجسس اس آرٹیکل پر سر سری سی نگاہ ڈالی تو معلوم ہوا کہ کسی بندہ¿ خدا نے یہ سب کچھ گویا میرے بارے میں لکھا ہے۔.... پہلے اس مضمون کا خلاصہ دیکھ لیجئے۔

آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن میں ایک امریکی یونیورسٹی میں طبی ماہرین اور نفسیات کے اساتذہ نے مل کر گزشتہ دس برسوں میں اس موضوع پر تحقیق کی ہے کہ سمارٹ فون کس حد تک ہمارے حواسِ خمسہ کا معاون و مددگار ہے یا کس حد تک ان کا دشمن اور حریف ہے۔ ان لوگوں نے جو اعدا و شمار جمع کئے ہیں اور جو متعدد رپورٹیں پورے امریکہ کا سروے کرنے کے بعد مرتب کی ہیں، ان کی رو سے سمارٹ فون دن بدن جتنی ترقی کر رہا ہے، معلومات و اطلاعات کے جو نئے آفاق ہم پر کھول رہا ہے اور ہمارے علم و فضل میں جو اضافے کر رہا ہے وہ ایک طرف ہیں اور وہ اس آلہ ¿ مواصلات کا پلس پوائنٹ ہیں۔ لیکن اس کا منفی پوائنٹ وہ ہے کہ جس کے سامنے اس کے تمام فوائد، نقصانات میں بدل جاتے ہیں۔

سب سے بڑا منفی پوائنٹ جو اس سمارٹ فون کا ہے وہ یہ ہے کہ یہ آپ کی نیند کا قاتل ہے!

ماہرین نے معلوم کیا ہے کہ جس طرح نِت نئے سے نیا سمارٹ فون زیادہ چارجنگ ٹائم مانگتا ہے بالکل اسی طرح آپ کا اپنا جسمانی ”سمارٹ فون“ بھی زیادہ چارجنگ ٹائم مانگتا ہے۔اس جسمانی سمارٹ فون کا نام ”انسانی دماغ“ ہے جس کی چارجنگ کو ہم ”نیند“ (Sleep) سے تعبیر کرتے ہیں۔

24گھنٹوں میں آپ کا یہ جسمانی سمارٹ فون (دماغ) کم سے کم پانچ گھنٹے کی چارجنگ (نیند) طلب کرتا ہے۔ پانچ گھنٹے کی یہ نیند، نیند کا کم سے کم سکیل ہے، جو عمر کے ساتھ ساتھ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ بچے کو زیادہ، جوان کو کم اور بوڑھے انسان کو اس سے بھی کم نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جب سب کے لئے کم سے کم سکیل پانچ گھنٹے ہو تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم جیسے بزرگوں کو بھی کم از کم پانچ گھنٹے کی ”گہری“ نیند درکار ہوتی ہے.... یاد رکھیں بستر میں لیٹنے یا کسی لحاف میں گھس جا نے اور سونے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

ویسبٹر ڈکشنری میں نیند کا لغوی مفہوم یہ لکھا ہوا ہے:”آرام کرنے کی وہ زمانی کیفیت جس میں دنیا کی آگہی کا شعور معطل رہتا ہے۔“.... اسی شعورِ آگہی کی معطلی کا نام ”گہری نیند“ ہے۔ استثنائی صورتوں سے قطع نظر ایک صحت مند آدمی کو فطرتاً پانچ سے لے کر سات گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہے۔ اس وقفے میں آپ کے جسمانی سمارٹ فون یا جسمانی کمپیوٹر یا جسمانی لیپ ٹاپ کی بیٹری چارج ہوتی ہے۔ اس میں آپ جتنی کوتاہی برتیں گے، آپ کا فون اسی نسبت سے کام کرنے کی صلاحیت سے بے بہرہ رہے گا۔ بقول ِ شاعر:

پنج ساعت خواب از فطرت بود

ہفت ساعت موجب صحت بَود

خوابِ نُہ ساعت بود از کاہلی

زیں زیادہ مرگ را قربت بَود

(ترجمہ: پانچ گھنٹے نیند فطرت کا تقاضا ہے، سات گھنٹے سونا صحت کی نشانی ہے، نو گھنٹے کی نیند سستی اور کاہلی لاتی ہے اور اس سے زیادہ سونا، موت کو قریب کر دیتا ہے)۔

امریکی ماہرین نے اس بات پر اپنی تحقیق مرکوز کی کہ نیند کے اس کم ترین سکیل میں آج کل کے انسان کے روزانہ مشاغل میں کون کون سے ایسے عوامل ہیں جو اس سکیل پر ڈاکہ ڈالتے ہیں، انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی آبادیوں میں جس ایک چیز نے اس سکیل میں خلل ڈالا ہے، وہ سمارٹ فون ہے۔ انہوں نے اپنی تحقیقات کی بنیاد اس کلچر پر رکھی ہے جو آج کا انسان اپنی معلومات بڑھانے کی جستجو میں روبہ عمل لاتا ہے۔ وہ اپنے فون (موبائل) کو اکثر و بیشتر تو بستر میں ساتھ لے کر سوتا ہے۔1/8x4x6 انچ کا یہ ننھا سا آلہ بظاہر آپ کے لئے بڑا کارآمد ہے، بڑا معاون ہے اور آپ کا بڑا دوست ہے، لیکن صرف اور صرف اس وقت جب آپ جاگ رہے ہوں۔ لیکن اگر آپ گہری نیند سو رہے ہوں اور آپ کاہم بستر(Bed Fellow) گھنٹیاں بجانا شروع کر دے تو اس دوست سے بڑا کوئی اور دشمن آپ کا نہیں ہو سکتا۔ اس کی یہ دشمنی بظاہر، دوستی معلوم ہو گی لیکن یہ ایسا دوست ہے جو آستین کا سانپ کہا جا سکتا ہے۔ یہ دوست اگر آپ کے بستر میں نہ ہو اور آپ کے سرہانے پڑا ہو یا آپ کی آسان رسائی میں بھی ہو تو بھی مضمون واحد ہے۔ مَیں سوچتا ہوں ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو صاحب ِ سمارٹ فون ہیں اور رات کو یہ فون ان کی ”آسان رسائی“ میں نہیں ہوتا....میرا اندازہ ہے کہ کوئی ایک بھی نہیں۔

مَیں اس آرٹیکل کو جوں جوں بڑھتا گیا، مجھے احساس ہوتا گیا کہ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر بہت کم توجہ دی گئی ہے اور جس کی وجہ سے ہماری نہ صرف انفرادی بلکہ قومی صحت و تندرستی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

پہلے پہل جب یہ سمارٹ فون مارکیٹ میں آیا تو وائی فائی یا انٹرنیٹ کی وہ سہولتیں بھی ساتھ لایا جو مختلف سیل فونوں کی کمپنیاں مہیا کرتی ہیں اور ہر ماہ آپ کی جیب پر اضافی بوجھ کا باعث بنتی ہیں۔ ہم جب اس مالی بوجھ اور ان عنایاتِ معلومات کا موازنہ کرتے ہیں کہ جو اس آلے سے حاصل ہوتی ہیں تو یہی سمجھتے ہیں کہ چند ہزار روپوں کا یہ سمارٹ فون اور ہر ماہ چند ہزار روپوں کا جاری خرچہ، اس فائدے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو اس سمارٹ فون کی ہمہ وقت خدمت کے طفیل ہمیں حاصل ہوتا ہے۔

قارئین کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارا میڈیا اگلے روز یا اس سے اگلے روز جو خبریں اور معلومات اپنے چینل یا اپنے روزنامے میں دیتا ہے، وہ اس سمارٹ فون میں سب سے پہلے آتی ہیں۔ چنانچہ مَیں نے”خوشی خوشی“ اس فون کو اپنا ”ہم بستر“ بنا لیا۔ رات کے کسی پہر اگر واش روم میں جانا ہوتا تو واپس بستر میں آ کر ایک بٹن دباتا اور دیکھتا کہ کس کس کا SMS آیا ہے، فیس بُک پر کس کس نے یاد فرمایا ہے، کس کس کی کال آئی ہے، کس اخبار کی لیڈ کیا ہے اور کس نیوز چینل کی ٹاپ سٹوری کون سی ہے۔ مَیں دل ہی دل میں اس آسانی پر عش عش کرنے لگا۔ پھر ہر شب یہی معمول ہو گیا کہ نمازِ تہجد سے بھی پہلے اس ”تہجد“ کو ادا کیا جانے لگا۔ (نعوذ باللہ)

 مَیں نے یہ بھی محسوس کیا کہ معلومات و اطلاعات کا ایک سیلاب ہے جو ساری دنیا سے اکٹھا کر کے اس سمارٹ فون میں سمو دیا گیا ہے اور پھر اس کی Presentation اتنی خوبصورت، پُرکشش اور رنگین ہوتی ہے کہ آپ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ خبر کا متن تازہ ترین ہوتا ہے، مصدقہ ہوتا ہے، تصاویر بر موقع ہوتی ہیں اور ایک بڑی آسانی یہ بھی ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ منسلک لیکن مربوط (Related) موضوعات کا ایک اور سیلاب، آرٹیکلز کی صورت میں آپ کی جنبش ِ یک انگشت کا منتظر رہتا ہے۔

ہمارا اپنا پاکستانی میڈیا چونکہ اللہ کے فضل و کرم سے رات دن اپنے ناظرین کو خوشی کی کوئی خبر سنانے سے تائب ہو چکا ہے ۔ اس نے اپنی عادت ہی بنالی ہے کہ ناظرین و قارئین کو حسرت و یاس، خوف و فکر اور اندیشوں کے حصار میں محصور رکھنا ہے تو ایسے میں اگر آپ کا سمارٹ فون آپ کو دنیا کی دوسری”خوش آئند“ خبروں سے سرشار کردے تو آپ نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے گاہے بگاہے چھیڑ خانی کرتے رہیں گے۔ اور امیدوار ہوں گے کہ:

شائد آ جائے کہیں سے کوئی مہمان ِ عزیز

اول اول تو اس سمارٹ فون کی قیمت ایک اوسط آمدنی والے شخص کی رسائی میں نہیں تھی مگر جوں جوں وقت گزر رہا ہے قیمت کا یہ گراف کم ہوتا جا رہا ہے۔ آئندہ چند برسوں میں آپ دیکھیں گے کہ آپ جہاں کہیںبھی ہوں گے، آپ کو کسی وائی وفائی نیٹ ورک کی ضرورت نہیں ہو گی۔ آج کا ہر سستا سیل فون کل کا سمارٹ فون بن جائے گا اور ہر شخص، صاحب ِ معلومات بن کے رہے گا۔ یہ سمارٹ فون گویا آنے والے دور کا جامِ جم ہے اور ساری خلق خدا کو ”ہمہ دان “ بنانے کا پیامی بھی ہے۔

آپ نے شائد یہ بھی دیکھا ہو گا کہ ہماری نئی نسل چند برسوں سے بڑی شدت سے ”سمارٹ فون زدہ“ ہو چکی ہے۔ زبانی کلامی اور بالمثافہ گفتگو کی بجائے SMS کے سوال و جواب کا کلچر فروغ پانے لگا ہے۔ آج کے نوجوان بچے اور بچیاں بولتے چالتے کم ہیں اور اپنے سیل فون پر نگاہیں زیادہ مرکوز رکھتے ہیں۔ لگتا ہے گویا دنیا جہان سے الگ اور روٹھے ہوئے ہیں....

 چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ یہ کلچر دن بدن اور سال بہ سال روبہ عروج ہوتا چلا جائے گا۔ لیکن اس کلچر کے فروغ میں جس ایک انتہائی ضروری اور لازمی جسمانی تقاضے کا قتل عام ہو جائے گا وہ آپ کی نیند کا سکیل ہو گا۔ اس سکیل کا زوال آپ کے ذہنی قواءاور فکری صلاحیتوں کے زوال کا باعث بھی بنے گا۔ یعنی آنے والا دور مزید پاگلوں یا نیم پاگلوں کا دور ہو گا.... اللہ خیر کرے!

واشنگٹن یونیورسٹی کے اِن اساتذہ اور ماہرین نے مذکورہ بالا رپورٹ کے آخر میں یہ سفارش کی ہے کہ سمارٹ فون کو اپنا Bed Fellow نہ بنایئے۔ رات کو (زیادہ سے زیادہ) دس بجے سمارٹ فون بالکل آف کر دیں، اس کے ساﺅنڈ سسٹم کو بھی آف کر دیں، اس کی لائٹ کی افقی لکیر کو زیرو پر لے آئیں۔ اور صبح جب آنکھ کھلے تو پہلے کی طرح اللہ کریم کا نام لیں۔ اپنی اپنی صبح گاہی عبادات سے فارغ ہوں، ناشتہ کریں اور پھر اس ”ہم بستر“ کو جگائیں۔....

مَیں نے چند دنوں سے یہ نسخہ آزمانا شروع کیا ہے اور کافی شفا پائی ہے۔ آپ بھی اسے چند روز تک ہی سہی، بستر سے دور کر کے دیکھیں تو انشا اللہ اپنی صحت میں ایک مثبت تبدیلی پائیں گے۔ ٭

مزید :

کالم -