پاکستان بچانے کی جنگ

پاکستان بچانے کی جنگ

  

سیاسی و عسکری قیادت کے مشترکہ اجلاس میں بالآخر اس بات کا فیصلہ ہو گیا کہ شدت پسندوں کے خلاف پوری قوت سے آپریشن کیا جائے گا۔ سبھی طرف سے کہا یہ جا ر ہا تھا کہ آپریشن کے اختیار کو سب سے آخر میں استعمال کیا جائے۔ پچھلے چند دنوں کے واقعات نے غالباً حکومت اور عسکری قیادت کو مجبور کر دیا کہ وہ آپریشن کے حق میں فیصلہ دیں، دہشت گردی کے واقعات میں تسلسل اور طالبان کی طرف سے اُن کی ذمہ داری قبول کرنے کے اعلانات نے پاکستان میں موجود اُن لوگوں کو بھی دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا، جو کہتے تھے کہ فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں، تسلسل کے ساتھ لوگ مر رہے ہوں اور اُن کے مرنے پر فخریہ انداز میں ذمہ داری قبول کی جا رہی ہو تو پھر حکومت اگر سوتی رہے تو اُس کے قائم رہنے کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں طالبان نے مذاکرات کا ایک مثبت موقع گنوا دیا۔ کچھ عرصہ پہلے تک ایک ایسی فضا پیدا ہو چکی تھی کہ جب پوری قوم اس نکتے پر جمع ہو گئی کہ یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہئے۔ اس مقصد کے لئے جہاں پارلیمنٹ نے مشترکہ قرارداد منظور کی،وہیں عوامی سطح پر بھی اس فیصلے کو بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔ اگر باالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ بعض خفیہ ہاتھوں نے اس فضا کو سبوتاژ کیا تو بھی یہ ماننا پڑے گا کہ طالبان کی طرف سے آگے بڑھ کر مذاکرات کرنے کے ضمن میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی، الٹا دہشت گردی کی لہر میں تیزی لا کے انہوں نے اپنے ہمدردوں کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ خود حکومت بھی اس حوالے سے واضح موقف اختیار کرنے میں ناکام رہی، نجانے وہ کیا مجبوریاں تھیں جن کے باعث مذاکرات کا عمل شروع ہی نہیں کیا جا سکا۔ پہلے یہ خبریں آئیں کہ مولانا سمیع الحق کو طالبان سے مذاکرات کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ اس حوالے سے اُن کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات بھی ہوئی، مگر پھر یہ خبریں سامنے آئیں کہ مولانا سمیع الحق نے حکومت کی عدم توجہی کے باعث مذاکراتی عمل میں کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ دو روز پہلے وزیراعظم ہاﺅس کی طرف سے یہ وضاحتی بیان جاری کیا گیا کہ مولانا سمیع الحق کو سرے سے کوئی ذمہ داری سونپی ہی نہیں گئی تھی، جس پر مولانا سمیع الحق نے اظہار حیرت جاری کرتے ہوئے یہ تنبیہہ کی ہے کہ سب کچھ آپریشن کا جواز پیدا کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے اور یہ بھی کہا کہ آپریشن ہوا تو اپنے ساتھ بہت کچھ بہا لے جائے گا۔

مذاکرات کا شروع نہ ہونا اور فوجی آپریشن کا فیصلہ کرنا، اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ طاقت کے مراکز میں جو کشمکش جاری تھی، اُس میں آپریشن کے حامی جیت گئے ہیں، حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ اب اس آپریشن کی مخالفت کرنے والے بھی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ گویا اب عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نوشتہ ¿ دیوار ہے، جو کسی لمحے بھی شروع کیا جا سکتا ہے۔ ریاست کی بالادستی برقرار رکھنے کے لئے آئین میں ایسے آپریشن کی مکمل گنجائش موجود ہے۔ عوام بھی چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ انہیں امن دیا جائے۔ اس وقت تو فضا بظاہر آپریشن کے حق میں نظر آ رہی ہے، لیکن کیا آپریشن شروع ہونے کے بعد اور اُس کے بعض ممکنہ منفی اثرات سامنے آنے کی صورت میں بھی یہی فضا برقرار رہے گی۔ حکومت نے جس طرح مذاکرات کے لئے پوری سیاسی قیادت کی حمایت حاصل کی تھی، فوجی آپریشن کے لئے اس طرح کی حمایت حاصل نہیں کی گئی، ممکن ہے آپریشن مخالف قوتیں فی الوقت حالات کے پیش نظر خاموش رہیں تاہم آپریشن کے دوران سول آبادی کو نشانہ بنانے یا ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کی صورت میں ان قوتوں کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا بھی ہو سکتا ہے، کیا حکومت نے اس صورت حال کے لئے خود کو تیار کر رکھا ہے ظاہر ہے آپریشن ایک بار شروع ہو گیا تو اسے درمیان میں ادھورا نہیں چھوڑا جا سکے گا، اسے اپنے منطقی انجام تک پہنچائے بغیر واپسی ممکن نہیں۔ یہ ایک طویل اور تھکا دینے والا عمل بھی ہو سکتا ہے۔ آپریشن جتنا طول پکڑے گا شدت پسندوں کو اُس کا فائدہ ہو گا، انہیں مزید کارروائیوں کا موقع ملے گا جس سے حکومت دباﺅ میں آ سکتی ہے۔

شنید ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف قوم سے خطاب میں اس آپریشن کی غرض و غایت اور اس کے دائرہ کار پر قوم کو اعتماد میں لیں گے۔ یہ بہت ضروری ہے، کیونکہ افواہوں کی گرم بازاری کا خاتمہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب عوام کے سامنے حقائق لائے جاتے رہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ لمحہ ¿ موجود میں اگر کسی شخص پر اس حوالے سے سب سے زیادہ دباﺅ ہے تو وہ وزیاعظم نوازشریف ہیں، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی طرف سے مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت اپنی رٹ کھو چکی ہے، لاشے گرنے پر بے حسی کے طعنے بھی وزیراعظم کو ہی سننے پڑتے ہیں۔ ایک خاص حوالے سے اس تاثر کو بھی عام کیا گیا کہ وزیراعظم نواز شریف طالبان سے ہمدردی رکھتے ہیں، کیونکہ خود طالبان نے پچھلے دورِ حکومت میں مذاکرات کے لئے نواز شریف کی ضمانت مانگی تھی۔ اب ظاہر ہے کہ جب دہشت گردی کی پے در پے وارداتوں میں فوجی جوان و افسران، پولیس کے ملازمین اور شہری مر رہے ہوں تو ملک کے وزیراعظم پر عام حالات میں دباﺅ بڑھ جاتا ہے، چہ جائیکہ یہ تاثر موجود ہو کہ وہ اپنے ایک خاص نقطہ نظر کی وجہ سے طاقت کا استعمال نہیں کر رہے۔ لگتا ہے وزیراعظم نواز شریف نے اس تاثر کو زائل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کی ایک جھلک تو اُس وقت نظر آ گئی تھی جب وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بہت دلیرانہ فیصلہ کن بیان جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کریں گے، پوری طاقت سے کچل دیں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف قوم سے خطاب میں طالبان کو مذاکرات کے لئے ایک آخری پیشکش کریں گے، جس کامثبت جواب نہ آنے پر آپریشن شروع کیا جائے گا۔ نتیجہ خواہ کچھ بھی نکلے یہ بات تو اب طے ہے کہ موجودہ صورت حال کو جوں کا توں برقرار نہیں رکھا جا سکتا، اسے کسی ایک طرف جانا ہے، مذاکرات یا آپریشن۔ اب یہ دونوں فریقوں پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک دونوں معاملات میں آگے جاتے ہیں۔

میری سوچ تو اس نکتے پر اٹکی ہوئی ہے کہ آپریشن کی صورت میں کیا ہو گا؟ کیا حکومت اور متعلقہ اداروں نے اس کی پوری منصوبہ بندی کر لی ہے، اس کے ذیلی اثرات کا اندازہ لگا لیا ہے۔ اس بارے میں کسی خوش فہمی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں کہ یہ آپریشن صرف شمالی وزیرستان تک محدود رہے گا۔ دہشت گردوں کا مرکز یقینا یہی علاقے ہیں، مگر اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ طالبان نامی جس قوت کے خلاف ہم آپریشن کرنے جا رہے ہیں، اُس کی جڑیں پورے ملک میں پھیل گئی ہیں، اُن کی کارروائیاں چاروں صوبوں میں جاری ہیں اور وہ جہاں چاہتے ہیں بآسانی اپنے ہدف کو نشانہ بنا لیتے ہیں ایسے میں اس امر کو یقینی کیسے بنایا جائے گا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے ردعمل میں ملک کے مختلف شہروں کو نشانہ نہ بنایا جا سکے، کیا اس سلسلے میں چاروں صوبائی حکومتوں کو اس آپریشن میں شامل رکھا جائے۔ کیا عسکری و سول اداروں میں ہم آہنگی پیدا ہو گی، جو ایسے اثرات کو روکنے کے لئے ضروری ہے۔ کیا صوبوں کی پولیس میں اتنا دم خم اور جذبہ ہے کہ وہ ایک ایسی جنگ کے لئے خود کو تیار کر سکے، جو ایک نامعلوم دشمن کے خلاف لڑی جانی ہے۔ کیا انٹیلی جنس کے ادارے آپس میں معلومات کا ایک مربوط نظام وضع کر سکیں گے، آپریشن سے پہلے اور اس دوران متاثرہ علاقوں سے جو نقل مکانی ہونی ہے اس کے لئے کیا حکمت ِ عملی وضع کی جا رہی ہے۔ اس امر کو کیسے یقینی بنایا جائے گا کہ ان پناہ گزینوں کی شکل میں دہشت گرد بھی ہمارے مختلف شہروں میں داخل نہ ہوں۔ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ دہشت گردی کے خلاف شروع کی جانے والی یہ جنگ صرف قبائلی علاقوں تک محدود رہے گی، اس کی تپش بالآخر ہمارے شہروں تک آئے گی، کیونکہ دہشت گرد ہر شہر میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے جب تک وفاقی وزارت داخلہ چاروں صوبائی حکومتوں سے مل کر ایک ایکشن پلان ترتیب نہیں دیتی۔ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کی خواہش ایک خام خیالی ہی رہے گی۔ شاہد یہی وہ تحفظات اور خدشات ہیں، جن کے پیش نظر بعض سیاسی قوتیں آپریشن کی مخالفت کرتی ہےں۔ دو ممالک کے درمیان جنگ عموماً سرحدوں تک محدود رہتی ہے، مگر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دائرہ گلی محلے تک پھیلا ہوتا ہے حکومت اگر بادل نخواستہ ایک طویل انتظار اور سوچ بچار کے بعد فوجی ایکشن کا فیصلہ کر ہی چکی ہے، تو اس کے لئے تمام ریاستی اداروں کو ایک نکتے پر جمع کرنا بھی اُس کی ذمہ داری ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت نے مذاکرات کا آپشن بھی کھلا رکھا ہے اور ہتھیار پھینک کر مذاکرات کی میز پر آنے والوں کو خوش آمدید کہنے کا عندیہ دیا ہے۔ امید ہے کہ اس پالیسی کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور شدت پسندوں کے وہ گروپ جو مذاکرات کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں، اس کی وجہ سے آپریشن کی زد میں آنے سے بچ جائیں گے۔

پاکستان اپنی تاریخ کے ایک اور نازک دور سے گزر رہا ہے، ہماری سلامتی و اقتدار اعلیٰ کو نئے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اگر ہم پاکستان کو امن کا گہوارہ نہیں بنا پاتے، تو پھر واقعتا ہم پر ایک ناکام ریاست کا الزام حقیقت بن جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ہر سیاسی جماعت ، ہر قومی ادارہ اور ہر پاکستانی صرف پاکستان کے لئے سوچے، پاکستان کو بچانے کی جنگ کا پوری قوم کو سامنا ہے اور اس جنگ میں کامیابی ہمارے لئے زندگی و موت کا مسئلہ ہے۔ اس جنگ میں کامیابی اتحاد و یکجہتی کے بغیر ممکن نہیں۔ پاکستان کو بدامنی کی دلدل سے نکالنے اور پُرامن و مستحکم بنانے کے لئے ہر قسم کے سیاسی اختلافات بھلا کر متحد ہونے کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی، کاش ہم اس حقیقت کو دل سے تسلیم کر لیں۔ ٭

مزید :

کالم -