بجلی اور کوئلے سے بجلی!

بجلی اور کوئلے سے بجلی!
بجلی اور کوئلے سے بجلی!
کیپشن: Ch Khadim Hussain

  

وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف ضدی ہیں یا مستقل مزاج، اس کا فیصلہ تو بہرحال وقت ہی نے کرنا ہے، لیکن ایک امر تو بالکل واضح ہے کہ وہ جس کام کے پیچھے پڑ جائیں ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں، اس کا ایک ثبوت تو ان کی طرف سے میٹرو بس کے حوالے سے ملا، بڑے اعتراضات ہوئے، بہت کچھ کہا گیا۔ ہم نے بھی تحفظات کا اظہار کیا، لیکن یہ میٹرو بس نہ صرف چل کر رہی، بلکہ اب اس کی توسیع کا پروگرام بھی بن رہا ہے اور تو اور خود وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پچھلے دنوں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے یہاں ایک اجلاس کی صدارت کی تو انہوں نے ہدایت کر دی، راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان میٹرو بس چلانے کے لئے کام شروع کیا جائے اور دوسرے شہروں کے حوالے سے بھی جائزہ لیاجائے۔

یہ تو میٹرو بس ہے۔ اب تو لاہور میں آزادی چوک اور چونگی امر سدھو انٹر چینج کا کام بھی شروع ہے اور اس میں بھی کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لایا جا رہا، احتجاج ہو رہے ہیں، ہوتے رہیں گے، کام نہیں رکے گا۔ آزادی چوک انٹر چینج کے لئے تو نہ صرف زچہ بچہ کا دیرینہ ہسپتال مسمار کیا جا رہا ہے، بلکہ اقبال پارک میں مینار پاکستان سے ملحق جھیل بند کرنے کے علاوہ کرکٹ کلبوں والی گراﺅنڈ بھی زد میں آ گئی ہے، ہسپتال کے حوالے سے تو یہ کہا گیا کہ اسی علاقے میں حکومت متبادل طور پر جدید ہسپتال بنا کر دے گی، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ کرکٹ گراﺅنڈ کا متبادل کیا ہو گا اور یہاں کے دیرینہ ممدوٹ کلب اور کریسنٹ کلب کو متبادل جگہ کہاں دی جائے گی، جبکہ اقبال پارک کا معتدبہ حصہ جنرل بس سٹینڈ والوں کے قبضے میں ہے۔ اطلاع تو یہ ہے کہ یہ بس سٹینڈ بھی منتقل کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو گراﺅنڈ کی جگہ واپس ہو سکتی ہے اور یہ بھی توقع کی جا سکتی ہے کہ وزیراعلیٰ اقبال پارک کو بھی ایک جدید پارک میں تبدیل کر دیں گے کہ یہ قدیمی پارک شہر والوں کے لئے کھیل کے میدانوں کے طور پر واحد جگہ ہے یہ بھی یقین کر لینا چاہئے کہ وزیراعلیٰ ذاتی دلچسپی لے کر دونوں مقامات کے انٹر چینج کے متاثرین کو بھی مارکیٹ ریٹ کے مطابق معاوضہ دلائیں گے۔

بات دراصل ایک دوسرے حوالے سے کرنا مقصود تھی، درمیان میں اپنا شہر لاہور آ گیا کہ جب انٹر چینج بن جائیں گے تو شاید لیڈی ولنگڈن اور کرکٹ گراﺅنڈ کا غم بھول جائے۔ اس وقت تک یوں بھی صدمہ کم ہو جائے گا۔ اس وقت ذرا ذکر کر لیں، توانائی کے بحران کا، جب سے نئی حکومت بنی اور وفاق میں بھی مسلم لیگ (ن) برسر اقتدار آئی ہے۔ میاں محمد شہباز شریف نے اپنی تمام تر توجہ توانائی کی طرف مبذول کر لی ہے۔ وہ دن رات اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، گزشتہ بدھ کو انہوں نے ماڈل ٹاﺅن میں جو پریس کانفرنس کی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بہت حد تک اس ہدف کو حاصل کرنے کے قریب ہیں۔ یہ پریس کانفرنس توانائی ہی سے متعلق تھی، اس میں انہوں نے بڑا خوش کن منصوبہ بیان کیا اور بتایا کہ پنجاب میں توانائی کے شعبہ میں 10ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا انتظام ہو گیا ہے اور چھ مختلف اضلاع منتخب کر کے وہاں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ لگائے جائیں گے، جن سے چھ ہزار میگاواٹ روزانہ بجلی پیدا ہو گی، جبکہ پنجاب حکومت اپنے سرمائے سے دو پلانٹ الگ لگائے گی جو 660میگاواٹ بجلی روزانہ بنائیں گے اور یہ منصوبے تین سے پانچ سال کے اندر مکمل ہوں گے۔ میاں شہباز شریف کے مطابق کوئلے سے بجلی9روپے یونٹ کے حساب سے بنے گی اور یوں یہ فرنس آئل (تھرمل) سے پیدا کی جانے والی بجلی سے سستی ہو گی۔

 پریس کانفرنس اور کاغذ پر تو یہ منصوبہ بہت خوش کن ہے اور یقین اس لئے کر لینا چاہئے کہ یہ مکمل بھی ہو گا کہ خود میاں محمد شہباز شریف ان منصوبوں کے پیچھے ہیں۔ انہوں نے تو اس مقصد کے لئے سیاسی کام اپنے صاحبزادے حمزہ شہباز کے سپرد کر رکھے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اپنی پریس کانفرنس میں ماحولیاتی آلودگی کا خود ہی ذکر کر دیا اور دعویٰ کیا کہ پاور پلانٹ ایسی مشینری سے لگیں گے جو ماحول دوست ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاور پلانٹ کے لئے کوئلہ درآمد کیا جائے گا کہ پنجاب میں کوئلہ اول نہیں دوم درجے کا ہے جبکہ تھرکول کی پیداوار شروع ہو گی تو جائزہ لیاجائے گا۔ یہ کوئلہ براہ راست کراچی سے مال گاڑیوں کے ذریعے منزل مقصود تک پہنچے گا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری فکر شروع ہوتی ہے۔ یہ اتفاق ہے کہ سواری نہ ہونے کی وجہ سے ہم دعوت کے باوجود پریس کانفرنس میں پہنچ نہ سکے اور رپورٹیں پڑھ کر اظہار خیال کیا ہے۔ ہم یہی پوچھنا چاہتے تھے کہ اس امر کی ضمانت کیا ہو گی کہ کوئلے کی درآمد اور اس کو کراچی بندرگاہ سے منزل مقصود تک پہنچانے کے لئے تسلسل برقرار رہے گا۔ وزیراعلیٰ کے منصوبے اور جذبے سے تو یہی احساس ہوتا ہے کہ ان کو ریلوے کی بہتری پر بھی یقین ہے اور وہ پُرامید ہیں کہ جب تک کوئلے کی ضرورت ہو گی اس وقت تک ریلوے کا نظام اس قابل ہو گا کہ بلا تعطل اور بروقت کوئلہ بندرگاہ سے پاور پلانٹوں تک پہنچ سکے۔ یوں اندازہ ہوتا ہے کہ ایک سے دوسرا کام بھی ساتھ چل پڑے گا۔ بہر حال یہ خوش کن تو ہے ۔ اب اگر لوڈ شیڈنگ پر احتجاج کے لئے مینار پاکستان کے سائے تلے خیمہ دفتر بنانے کی ضرورت نہیں رہی تو مستقبل میں بجلی بھی مل جائے گی۔ یقین کرنا چاہئے کہ سستی بھی ہو گی۔ دوسری طرف فکر ماحول سے متعلق ہے کہ گرین ہاﺅس والے عالمی ماحول کی بہتری کے لئے اس منصوبے کے خلاف ہیں، جس سے آلودگی پیدا ہو، وزیر اعلیٰ نے چین ، جاپان ، امریکہ اور بھارت کی مثال دے کر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ماحول دوست ماحول ہی ہو گا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔

پریس کانفرنس میں امن و امان اور دہشت گردی کے حوالے سے جو گفتگو ہوئی اس کا ذکر برادرنجم ولی نے کردیاجو وہاں موجود تھے، اس سے کافی آگاہی ہوئی ہے، تاہم ایک تاثرہمارا بھی ہے کہ میاں محمد شہباز شریف اپنے مزاج کے حوالے سے یقینااس مسئلے سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹنے کے لئے آمادہ نظر آتے ہیں، اس حوالے سے پنجاب میں جو تیاریاں ہیں اس کا ذکر ان کے بیانات سے ہوتا ہے، تاہم بنیادی پالیسی تو وفاق کی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہاں بھی اثرات پہنچ چکے۔ ٭

مزید :

کالم -