امن

امن

  

چوپایوں کی نہیں یہ انسانی بستیاں ہیں اور انسانی بستیاں امن سے قائم رہتی ہیں، امن انصاف سے جنم لیتا ہے۔ جنگل ہوتا تو درندگی پر خاموشی اور دہشت گردی کو قبول کرنے پر افسوس نہ ہوتا ،مگر دکھ یہ ہے کہ یہاں دہشت گردوں کی درندگی پر اکثریت خاموش ہے ، جبکہ جن کو راہبری ملی وہ راہزنی پر خوفزدہ ہوکر انسانی بستیوں کو درندوںکی شکار گاہ بنانے پرگومگو کی کیفیت سے دوچار ہیں۔

مغل سلطان تیمور گورگانی تزک تیموری میں لکھتا ہے.... اپنے پیش رو حکمرانوں کا انجام دیکھ کرمَیں نے اپنے آپ سے عہد کیا کہ اگر مجھے بادشاہت اور سلطنت کرنی ہے تو عدل و انصاف اور جودو سخا سے کام لوں گا۔ استحکام حکومت کی یہ بنیادی شرط ہے ۔ اپنی سپاہ کو مضبوط کروں گااورعام جنگجوﺅں کو بے دست وپا کروں گا کہ یہ کل کو میرے خلاف متحد ہوکر اٹھ کھڑے نہ ہوں۔اسلام آباد کے ہمارے سقراطوں نے ، جن کے دماغ ہر وقت ایڈونچر کے لئے مصروف رہتے ہیں، سات لاکھ فوج کے ہوتے ہوئے بھی جہاد کے نام پر جنگجو گروپ تیار کرتے وقت ایک لمحے کے لئے بھی اس پہلو پر غور نہ کیا ۔

انسانی بستیوں کو جنگل میں کس نے بدلا، دو ہاتھوں اور دو ٹانگوں والے انسانوں کی نسل کے ہاتھ سے قلم اور کتاب چھین کر بندوق اور بم دینے کا جرم کس نے کیا؟ کس نے انہیں علم کی روشنی سے اشرف المخلوقات بننے کی بجائے آگ اور خون میں جھونک کر درندوں کا روپ دھارنے پر مجبور کیا۔ ان درندوں کو شوق سے مارو، لیکن اسلام آباد کے ان پالیسی سازوں کی کھوپڑیوں پر بھی کھولتا ہوا پانی ڈالو ،جنہوں نے انسانی بستیوں کو جنگلوں میں تبدیل کردیا۔ انسانی بچوں کو علم وہنر سکھانے کی ذمہ داری کو ادا کرنے کی بجائے انہیں وحشی درندوں کی تربیت دی اور انہیں اس قدر گمراہ کردیا کہ یہ انسان اور بلی کے بچے میں فرق کرنے کے قابل بھی نہیں رہے ۔

کیا اس حکومت کے سامنے کوئی واضح پالیسی ہے یاسوات کی طرح اپریشن کرکے بس واہ واہ کرانا مقصود ہے؟.... پھر چند ماہ بعد قوم کو پتہ چلتا ہے کہ ملا فضل اللہ اور اس کے ساتھی تو محفوظ ہیں، بلکہ پہلے سے مضبوط ....حکومت بتائے کہ اس کی پالیسی کیا ہے ؟جن لوگوں کے گھر تباہ ہوں گے یا جو لوگ بے گھر ہوں گے، ان کے لئے حکومت کا کیا پلان ہے؟ ان کے بچوں کی تعلیم کیسے جاری رہ سکے گی؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ باغی گروہ حکومتی طاقت کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ حکومت کے پاس تربیت یافتہ فوج ہے ،مگریہ بھی یادرہے کہ سب اپنے علاقے ہیں اور اپنے ہی پاکستانی شہری ، طاقت کا استعمال انتہائی احتیاط سے کیاجائے ۔ جانور ہی نہیں انسان کو بھی جب طاقت ملتی ہے تو وحشت کا غلبہ طاری ہوجاتا ہے۔ انتقام کی آگ اپنے سامنے آنے والی ہر چیز جلادیتی ہے۔قوم کو متحدہ کےا جانا ضروری ہے، کےونکہ فوج پہلی لائن پر لڑرہی ہوتی ہے ،اگر اس کی پشت پر عوام کی طاقت اور حوصلہ موجود نہ ہوتو وہ کبھی کامےابی حاصل نہےں کرسکتی ۔فوج کو عوام کا بےک اپ حاصل ہونا چاہئے اس لڑائی کے متاثرےن کے لئے بھی پےشگی منصوبہ بندی کرنا لازمی ہے، اےسا نہ ہو کہ لوگ رل جائےں اور ان کے بچوں کی تعلےم کا نقصان ہو۔حکومت کو ےہ بات ذہن مےں رکھنی چاہئے کہ بندوق اٹھائے دہشت گردہماری ہی غلط پالےسےوں کے نتےجے مےں پےدا ہوئے ہےں ۔ ان کی اصلاح زےادہ اہم ہے کہ ان بھٹکے ہوئے لوگوں کو اس حال تک پہنچانے والے لوگ آج خود کو معززشہری کے طور پر پےش کرتے ہےں ،جبکہ ان کے پالے ہوئے سانپ نفرت کی علامت بن چکے ہےں۔

جنگجو گروہوں سے بھی ہماری درخواست ہے کہ وہ اس ملک کو کمزورکرنے کی بجائے اسے مضبوط بنانے کے لئے جدوجہد کرےں۔اپنی محب وطن بہادر فوج کے خلاف لڑکر فوج کو اور خود کو کمزور کرنے کی بجائے فوج کے شانہ بشانہ اصل دشمن سے لڑنے کی تےاری کرےں۔ہمارا اصل دشمن دن بدن طاقتور ہورہا ہے اور ہم اےک دوسرے سے لڑکر خود کو کمزورتر کرتے جارہے ہےں۔حکومتےںکبھی جنگجوﺅں کے سامنے نہےں جھکتےں ۔حکومتی رٹ کو چےلنج کرنے اور پاک فوج سے لڑنے کا کوئی فائدہ نہےں ،فوج تمام گروہوں کو کچل دے گی۔افسوس مگر اس بات کا ہوگا کہ بہادروں کے جس خون کو اس پاک دھرتی کے لئے قربان ہونا تھا، وہ دہشت گردوں کا روپ دھار کر اس پاک دھرتی کے مخالف بے دقعت بہہ گےا۔ ہتھےارڈال کر اپنی اصلاح کرےں، کےونکہ ےہ درندگی اب زےادہ دےر برداشت نہےں ہوسکتی، عوام امن چاہتے ہےں۔ سات لاکھ پچانوے ہزار مربع مےل پرپھےلاخطہ جنگل نہےں۔پاکستان ہے جس کی بقاءامن سے بھی ممکن ہے۔

امن صرف عوام کی جان ومال کے لئے ہی نہےں، اس مملکت کے وجود اور ترقی وخوشحالی کے لئے بھی لازم ہے۔جو لوگ اس مملکت کا امن تباہ کررہے ہےں ،وہ ہرگز اس کے ہمدرد نہےں ہوسکتے ۔انہےں اب ےہ جان لےنا چاہئے کہ امن قائم کرنے کے لئے قوم اور فوج متحد ہو چکےں ۔ےہ مملکت پاکستان ہے ،20 کروڑ جےتے جاگتے لوگوں کی رےاست ،کوئی جنگل نہےں کہ درندگی کو قبول کرلےا جائے ۔اب انہےں دہشت گردی ترک کرنی ہوگی، نہےں توفوج اور قوم مل کر دہشت گردی کا قلع قمع کردےں گی۔افسوس مگر اس بات کا رہے گا کہ جوامن بات چےت اور خون خرابے کے بعد ممکن بننے دےا ۔جنگجو گروہ اگر اس ملک وقوم سے ہمدردی رکھتے ہےں تو انہےں خون خرابہ کئے بغےر امن کی طرف بڑھنا ہوگا ،کےونکہ امن تو ہر حال مےں قائم ہونا ہے۔اس مملکت کے وجود کو قائم رکھنے اور اسے خوشحالی وترقی کی راہ پرگامزن کرنے کے لئے امن ضروری ہے۔

چوپاےوں کی نہےں، ےہ انسانی بستےاں ہےں اور انسانی بستےاں امن سے قائم رہتی ہےں ، ہم نے انشاءاللہ اس بستی ”پاکستان“کو قےامت تک قائم رکھنا ہے .... اور ہم اس کا امن قائم کرنے کے لئے ہر قربانی دےنے کے لئے تےار ہےں۔درندگی پر خاموشی اختےار کرنے والے پاکستانےوں اور خوفزدہ لےڈرو!گومگوکی حالت سے نکلواور اس پاک دھرتی پر امن قائم کرنے کے لئے اٹھو اور فےصلہ کرو کہ امن چاہئے ےا دہشت گردوں کے ہاتھوں بزدلی کی موت مرنا ہے؟....جو ہر مےرکے اشعارےادآرہے ہےں:

بات جگنوکی نہےں ہے روشنی کا ساتھ دے

ےوں بھی مرجانا ہے تجھ کو زندگی کا ساتھ دے

دوستوں اور دشمنوں کے درمےان تنہا نہ رہ

فےصلے کا وقت ہے تو بھی کسی کا ساتھ دے

مزید :

کالم -