مزاح نگار مرحوم محمد خالد اخترکی 94 ویں سالگرہ منا ئی گئی

مزاح نگار مرحوم محمد خالد اخترکی 94 ویں سالگرہ منا ئی گئی

  

کراچی(این این آئی)اردو کے نامور ادیب اور مزاح نگار مرحوم محمد خالد اختر کے مداحوں نے ان کی 94 ویں سالگرہ منا ئی ، کراچی کے پس ماندہ علاقے لیاری کی ایک پس ماندہ بستی چاکیواڑہ قیام پاکستان کے فوری بعد کے برسوں میں یہ بستی اردو کے ایک نوجوان ادیب کا مسکن تھی جس نے ایک ایسا ناول لکھا جس سے غریب بلوچوں کی اس بستی کا نام تاریخ میں امر ہو گیا۔ یہ نوجوان آگے چل کر اردو کا صاحب طرز مزاح نگار، مترجم اور سفرنامہ نگار قرار پایا جسے اردو ادب کی تاریخ محمد خالد اختر کے نام سے جانتی ہے۔محمد خالد اختر 23 جنوری 1920 کو بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولوی اختر علی بہاولپور سے ممبر لیجسلیٹو اسمبلی رہ چکے تھے۔ خالد اختر نے ابتدائی تعلیم صادق پبلک اسکول بہاولپور سے حاصل کی جہاں شفیق الرحمان بھی ان کے ہم مکتب تھے۔ محمد خالد اختر کی تحریروں میں وہی فراخ دلی اور درویشی نظر آتی ہے جو خود ان کی طبیعت میں تھی۔ گھر میں ان کا اپنا کمرہ ان کی ذاتی سادگی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ ادیب تو وہ تھے ہی لیکن مطالعے کا جیسا عشق ان کو تھا وہ بڑے بڑے ادیبوں میں بھی نہیں ملتا۔ محمد خالد اختر کوئی روایتی ادیب نہیں تھے۔

 انھوں نے لکھنے کے لیے کئی اصناف منتخب کیں۔ مزاح ہو یا سفرنامہ، پیروڈی ہو یا ترجمہ، انھوں نے ہر صنف میں منفرد کام کیا۔ محمد خالد اختر اب ہمارے درمیان نہیں اور وقت ایک دن چاکیواڑہ کو بھی تبدیل کر دے گا لیکن محمد خالد اختر کی تحریریں انھیں اور ان کے چاکی واڑہ کو ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔

مزید :

کلچر -