نر یندر مودی اور بھا رتی کا رپورےٹ سےکٹر!

نر یندر مودی اور بھا رتی کا رپورےٹ سےکٹر!

  

 قو می سلا متی کی حا مل کسی بھی رےا ست کی طرح پاکستان کی دا خلی سےا سی اور معا شی پا لےسےوں کو ہمےشہ خارجہ امور کے تنا ظر میں ہی تشکےل دےا جا تا رہا ہے۔ ےہی وجہ ہے کہ لےا قت علی خان کے پہلے دورہ¿ امر ےکہ، سےٹو ، سےنٹو معاہدے،سرد جنگ میں امر ےکی حلےف کا کردار ، افغا نستان میں سٹرٹےجک ڈےبٹھ کی پا لےسی،9/11کے بعد اےک مر تبہ پھر امرےکی حلےف بننا۔ ان تما م فےصلوں کو جواز بخشنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ نے ہمےشہ بھارتی خطرے کو ہی اےک عامل کے طور پر استعما ل کےا حتی کہ دا خلی سےا ست میں بھی کئی اتار چڑھاو اےسے آئے ،جن کا براہ را ست تعلق بھا رت سے ہی تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا اقوام متحدہ میں بھارت کے خلاف ہزار سال تک جنگ کا نعرہ بلند کر نا اوربعدمیں تاشقنہ کے معاہدے پر حکومت سے الگ ہوجانا،اسی پس منظر میں دیکھے جاتے ہیں۔ 1988ئ 1993ءاور1997ءکے انتخا با ت کی مہم میں مخا لفےن پر بھا رت نواز ےا بھارتی اےجنٹ ہونے کا الزام لگانا اےک مقبول سےاسی رویہ تھا....تا ہم 1997ءکے بعد ہماری قومی سےاست میں اےنٹی انڈےن رویہ اس وقت تبد ےل ہو نے لگا ، جب اےک کا رو با ری گھرا نے کے فرد مےا ں نواز شر ےف نے یہ با ور کر لےا کہ بھارت کے ساتھ ہتھےا روں کی دوڑ کا مقا بلہ کر نے سے معا شی مےدان میں اس کا مقا بلہ کر نا نہ صرف پاکستان، بلکہ پورے بر صغےر کے حق میں بہتر ہو گا۔

پاکستانی سےاست میں یہ تبدےلی اس لئے بھی جو ہری اور اہم تھی، کےونکہ اس بار بھا رت سے تعلقا ت بہتر بنا نے کی با ت اےک اےسا سےا سی لےڈر کر رہا تھا، جس کی سےا سی طا قت کا ماخذ وہی پنجاب تھا ، جہاں کبھی بھا رت سے ہزار سال تک جنگ کرنے کے نعروں کو سرا ہا جاتا تھا۔آج صورت حال یہ ہے کہ مسلم لےگ(ن)، پےپلز پارٹی اور تحرےک انصاف سمےت کوئی اےک بھی قومی سوچ رکھنے والی سےاسی جما عت اےسی نہیں جو بھارت مخالف نعروں کو اپنی سےاسی مقبولےت کے لئے استعمال کرے۔ سےا سی جماعتوں کے علاوہ پاکستانی مےڈےا کا بڑا حصہ ، سول سوسا ئٹی اور دانشوروں کی اکثرےت بھی اس حقےقت کو تسلےم کر چکی ہے کہ برصغےر کی خوشحا لی کے لئے بھا رت سے اچھے تعلقات نا گزےر ہیں۔ےہی وجہ ہے کہ پاکستانی پرنٹ اور الےکٹرانک مےڈےا کا بڑا حصہ اس وقت بھارتی انتخابات میں پاکستان فےکٹر کا بغور مشاہدہ کر نے کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی جانب سے نرےندر مودی کو وزارت عظمیٰ کے امےدوار کے طور پر پےش کر نے کو پاک بھارت تعلقات کے حو الے سے نےک شگون کے طور پر نہیں لے رہا۔ ےہاں یہ بنےادی سوال پےدا ہو تا ہے کہ کےا واقعی نر ےندر مودی کے اقتدار میں آنے کی صورت میں پاک بھارت تعلقا ت متاثر ہوں گے؟ ....ےقےنا اس سوال کا جواب اس مفروضے کا سہا را لئے بغےر ممکن نہیں کہ بھارتی انتخابات میں بی جے پی اور اس کے اتحادی (اےن ڈی اے) ہی کامےاب ہوں گے۔

 حال ہی میں بی جے پی راجستھان، مدھےہ پردےش، دہلی اور چھتےس گڑھ کے رےا ستی انتخابات میں اکثر ےتی جما عت کے طور پر ابھری ہے۔کانگرس کے لئے اس کے دور میں 2G سکےنڈل میں 40ارب ڈالرکی کرپشن، کامن وےلتھ گےمز سکےنڈل میں9 ارب ڈالر کی کرپشن اےسے کئی سکےنڈل انتخابات کے موقع پر اپنا مُنہ کھولے کھڑے ہیں۔ اےسے میں اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ کانگرس مسلسل تےسری بار اقتدار میں آئے۔ رےاستی انتخابات میں کرپشن کے خلاف وجود میں آنے والی جماعت عام آدمی پارٹی بلاشبہ دہلی کی 70نشستوں میں سے 27نشستےں لےنے میں کامےاب رہی، مگر اس کو اقتدار میں آنے کے لئے اسی کانگرس کی چھ نشستوں کی ضرورت پڑی ، جس کانگرس کی کرپشن کے ردعمل میں اس پارٹی کی بنےاد پڑی تھی۔ ےوں برصغےر کی کئی آدرش وادی سےا سی جماعتوں کی طرح اس جماعت نے بھی اقتدار کے لئے کسی حد تک عملےت پسندی کا راستہ اختےار کےا۔

 دوسرا متوقع طور پرمئی میں ہونے والے بھارتی انتخابات تک عام آدمی پارٹی ےوپی، سی پی، راجستھان، مہاراشٹر، بنگال اور گجرات جےسی فےصلہ کن رےاستوں میں اپنی بنےا دوں کو مضبوط بنا سکے! ....اےسا ممکن ہوتا دکھا ئی نہیں دےتا۔انہی بنےادوں پر یہ قےاس کےا جا سکتا ہے کہ بی جے پی اپنے اتحادےوں کے ساتھ انتخابات میں اکثر ےت حا صل کر لے اور مودی بھارت کے وزےراعظم بن جا ئےں....مگر کےا مودی کی کامےابی ہندتوا اےجنڈے کی کامےابی ہو گی؟ےا اس کا مےابی کے پےچھے اور عوامل کار فرما ہوں گے؟اس سوال کے جواب کے لئے ہمےں اےسے عوامل سے رجوع کرنا ہو گا ،جن کا کردار بھارتی سےاست میں اہمےت کا حامل ہوتا ہے۔ 1991ءکے کانگرسی راج کے تحت نہروےن سوشلزم کا راستہ چھوڑنے اور آزاد منڈی کی معےشت کا راستہ اپنا نے کے بعد بھارتی سےاست میں بھی دےگر جمہوری ممالک کی طرح کارپورےٹ سےکٹر کا کردار انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ یہی کارپورےٹ سےکٹر اب نہ صرف بھارت کی اندرونی سےاست، بلکہ بھارتی خارجہ پالیسی کی تشکےل میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بی جے پی نے 1998 کے انتخابا ت جےتنے کے لئے ہندتوا، رام مندر کے ساتھ ساتھ پاکستان مخالفت کو بھی اپنی انتخابی مہم کا حصہ بناےا، مگر 1998ءسے2004ءتک کارگل اور پارلےمنٹ حملوں پر بھارتی ردعمل کے علاوہ یہ دور پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے مثا لی رہا۔

 وزےراعظم نواز شرےف، پھر پروےز مشرف کے دور میں بی جے پی حکومت کے ساتھ بھارت سے تعلقات میں بہتری کا آغاز ہوا۔ ان چھ سال میں اگر بی جے پی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا جائزہ لےا جائے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اس عرصے میں بی جے پی نے رےا ستی کارپورےشنز میں بڑے پےما نے پر نجکاری کا عمل شروع کےا، آزاد منڈی کی معےشت کو بھرپور طرےقے سے فروغ دےا، جس سے بھارت میں کارپورےٹ سےکٹرمضبوط ہوا۔ اس کارپورےٹ سےکٹر کے ہی اثرات کے تحت بھارتی خارجہ پالےسی کی تشکےل میں اب جنگجوبانہ پالیسی کی بجا ئے معاشی مسابقت کے عامل کو ترجےح دی گئی۔اس دور میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ ساتھ چےن سے بھی بہتر تعلقات استوار کئے۔ ما ضی کی پالےسی کے برعکس اسرائےل کو تسلےم کےا۔ سرد جنگ کی پالیسوں کے برعکس امر ےکہ کے ساتھ بھی سٹرٹےجک، تجارتی اور معاشی تعلقات میں بہتری لائی گئی، کےونکہ کارپورےٹ سےکٹر کو اپنے سرمائے کے تحفظ کے لئے منڈےوں کے ساتھ ساتھ امن اور سازگار ماحول کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔

بلاشبہ کانگرس نے 2004ءمیں لبرل معا شی پالیسیوں کو ہی اپناےا، مگر 2004ءسے 2008ءتک کانگرس اپنے اقتدار کے لئے چو نکہ کمےونسٹ پارٹی کی محتاج تھی اور کمےونسٹ پارٹی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ نجکاری اور لبرل معےشت کی پالیسیوں میں تعاون نہیں کر رہی تھی ، جبکہ خود کانگرس کے اندر نٹور سنگھ جےسے نہروےن معےشت کے حامی رہنما بھی لبرل معےشت کی مخالفت کر رہے تھے،اِس لئے اس عرصے میں کارپورےٹ سےکٹر کی توقعات پوری نہ ہوئیں، جبکہ کانگرس کے دوسرے دور حکومت میں اےک طرف عالمی کساد بازاری کے اثرات اور دوسری طرف اقربا پروری کی حدوں کو پار کر تی ہوئی کرپشن کے باعث بھارت کی معاشی صورت حال خراب ہونا شروع ہو گئی۔کانگرس کا معاشی اصلاحات کا اےجنڈہ بھی اس سے شدےد متا ثر ہوا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ جی ڈی پی 5فےصد سے بھی کم ہے۔ پرائےوےٹ کارپورےٹ سرما ےہ کاری ، جس کا حصہ 2008ءمیں 14فیصد تھا ،وہ اب کم ہو کر 10فیصد رہ گےا ہے۔کارپورےٹ سےکٹر کی سب سے اہم ضرورت انفراسٹرکچر کی حالت مخدوش ہے، پاور پلا نٹس کے شعبوںسے لے کر ماننگ کے شعبے زوال کی جانب جا رہے ہیں۔ ٹےلی کام اور کئی صنعتوں میں رےگولےشن کا نظام سرے سے ہی ٹوٹ گےا ہے۔کارپورےٹ سےکٹرز ،بھارتی ایئرپورٹس کی نجکاری سمےت کئی اہم پبلک اداروں کی نجکاری کے لئے حکو متی فےصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

 ےہی وہ بھارتی معروضی حالات ہیں، جن میں بھارتی کا رپورےٹ سےکٹر کے زےر اثر مےڈےا نرےندر مودی کو اےک مسیحا کے طور پر پےش کر رہا ہے اور مودی کے گجراتی ماڈل کو پورے ہندوستان پر لا گو کر نے پر زور دے رہا ہے۔ گزشتہ سال کے آخر میں ”دی اکانومِسٹ“ نے.... Why Indian firms are rooting for Narendra Modi ....کے عنوان سے اےک آرٹےکل شا ئع کےا، جس میں کہا گےا کہ بھارتی کارپورےٹ سےکٹر کے اکثر حصوں کو ےقےن ہے کہ مودی کی گجرات ماڈل پر مبنی پالیسیوں کے پورے ہندوستان پر اطلاق سے معاشی اصلاحا ت اور نجکا ری کا عمل انتہا ئی تےز ہو جا ئے گا ۔ رےڈ ٹےپ کا خا تمہ ہو گا ۔اسی رپورٹ کے مطا بق بھارتی ارب پتی سرمایہ دار رتن ٹا ٹا اور مکےش امبانی مودی کو اپنی حماےت کا ےقےن دلا چکے ہیں۔” دی اکنا مک ٹا ئمز“ نے ستمبر2013 ءمیں اےک پول کے نتا ئج شائع کئے، جس کے مطا بق 100کارپورےٹ لےڈروںمیں سے 74 مودی کو بھارت کا اگلا وزےراعظم دےکھنا چا ہتے ہیں۔ اسی حما ےت کے پےش نظر بھارتی کارپورےٹ سےکٹر کے زےر اثر مےڈےا اب مودی کے 2002ءمیں گجرات کے مسلم کش فسا دات کو بھی فرا موش کر چکا ہے۔

نریندر مودی اگر وزیراعظم بن سکے تو کس حد تک بھارتی کا رپورےٹ سےکٹر کی امےدوں کو پورا کر پا ئےں گے؟ اس با رے میں ابھی وثوق سے کچھ کہنا ممکن نہیں، تا ہم یہ با ت طے ہے کہ پاکستا ن کے ساتھ جنگجونہ پالےسی اختےا ر کر نا کارپورےٹ سےکٹرکے مفا دمیں نہیں ہوگا۔کارپورےٹ سےکٹر کی یہی خواہش ہو گی کہ مودی اقتدار میں آنے کے بعد اپنے گجراتی ماڈل کی طرز پر بھا رت میں سرما ےہ کاری کے لئے سازگار ما حول فراہم کرےں اور بھارتی ہمسا ےوں کے ساتھ ساتھ دےگر مما لک سے بھی ان کو مراعات دلائےں۔اس تنا ظر میں پاکستانی مےڈےا کے ان خدشا ت میں زےا دہ دم نہیں لگتا کہ مودی کے وزےر اعظم بننے کی صورت میں پاک بھارت تعلقا ت متا ثر ہو ں گے۔پاکستانی مےڈےا کے اےک حصے نے 1998ءمیں بھی بی جے پی،خاص طور پر اےنٹی پاکستا ن رویہ رکھنے وا لے اےل کے اےڈوانی کے اقتدار میں آنے پر شدےد تحفظات کا اظہا ر کےا تھا،پھر ہم نے دےکھا کہ اقتدار سے رےٹائر ہو نے کے بعد اےل کے اےڈوانی نے اپنی کتاب....”مائی کنٹری،مائی لائف“ ....میں بی جے پی حکومت کے بڑے بڑے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقا ت کو بھی اپنی حکومت کا اےک بڑا کارنامہ قرار دےا۔  ٭

مزید :

کالم -