مسئلہ طالبان

مسئلہ طالبان
مسئلہ طالبان
کیپشن: HAMID WALEED

  

طالبان سے لڑ ائی توپاک فوج کر رہی ہے، لیکن ٹی وی چینلوں پر حکومتی وزراءسے سوال و جواب یوں ہو رہے ہوتے ہیں جیسے ابھی ابھی محاذ جنگ سے واپس لوٹے ہوں، کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ طالبان کے معاملے میں زمینی جنگ کم اور میڈیا وار زیادہ شدومد سے لڑی جا رہی ہے، شاید اس لئے کہ اصل مقصد پاکستانیوں کی برین واشنگ ہے ناں کہ طالبان کا صفایا!

یہ بھی طرفہ تماشہ ہے کہ طالبان سے مذاکرات بھی ہم ہی چاہتے ہیں اور طالبان سے جنگ بھی ہم ہی کر رہے ہیں، ہم دہشت گردی سے جس قدر محفوظ ہونا چاہتے ہیں ، اسی قدر غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں، اس کھیل کو سنوارنا بھی ہم نے ہے اور بگاڑنا بھی ہم نے، یہی وجہ ہے کہ معاشرے کا ایک طبقہ اگر طالبان کی کارروائیوں کو جہاد فی الارض سمجھتا ہے تو دوسرا طبقہ اسے فساد فی الارض قرار دینے پر تُلا ہوا ہے، ایک تماشہ ہے ، جو لگا ہوا ہے، ایک افراتفری ہے جو برپا ہے، ایک ہیجان ہے، جو پاکستانیوں کو لاحق ہوتا جا رہا ہے، چونکہ ہر تخریبی کارروائی دہشت گردی سے تعبیر ہو رہی ہے ، اِس لئے ہر دہشت گرد طالبان ہے خواہ وہ ریمنڈ ڈیوس ہی کیوں نہ ہو!

ہم سمجھتے ہیں کہ ہم غیر محفوظ پاکستان کے باسی ہیں اور دنیا پاکستان کو غیر محفوظ قرار دے رہی ہے ، حالانکہ غیر محفوظ پاکستان اور پاکستان کے غیر محفوظ ہونے میں فرق ہے، ڈالروں کے مقابلے میں لاغروں کی زبان لڑھکنیاں کھا رہی ہے!

ہمارے ٹی وی چینلوں کے کمالات بھی دیدنی ہیں، اُدھر بریکنگ نیوز چلاتے ہیں، دہشت گردی کی لرزہ خیز واردات کی لائیو کوریج دکھاتے ہیں اور ساتھ ہی کٹ کر کے کمرشل بریک پر چلے جاتے ہیں، جہاں کرینہ کپور ہماری بے بسی پر مسکراتی نظر آتی ہے، سمجھ نہیں آتی کہ بریکنگ نیوز والی خبر سے خوف کھائیں یا کمرشل بریک والی کرینہ کپور سے دل لبھائیں، شدت پسندوں کی شدت پسندی اپنی جگہ، لیکن ٹی وی چینلوں کی اس ستم ظریفی کو کیا کہیں گے!

آج ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ پاکستان گھیراﺅ میں ہے، نرغے میں ہے، لیکن کوئی نہیں بتارہا کہ کس طرح پاکستان نے روس کا گھیراﺅ کرکے اسے افغانستان تک محدود کیا تھا اور پھر علاقے سے مار بھگایا تھا، کوئی بھی ان جہادیوں کا تذکرہ کرنے کو تیار نہیں، جنہوں نے روس کے خلاف ایک نظریاتی جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا تھا اور جن کے ناموں کے بورڈوں سے ہمارے گاﺅں کے داخلی راستے بھرے ہوئے ہیں!

حیرت تو یہ ہے کہ کوئی بھی ٹی وی چینلوں پر یہ کہتا نظر نہیں آتا کہ طالبان سے مذاکرات کے عمل کو امریکہ نے ڈرون کا نشانہ بنایا تھا اور مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ طالبان کو کسی صورت زندہ نہ چھوڑا جائے،حالانکہ یہ ممکن نہیں اور اس حوالے سے خود پاکستان کے اندر باہر دنیا بھر میں رائے عامہ تقسیم شدہ ہے، بالکل اِسی طرح جس طرح کامران خان جیو ٹی وی پر جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں رائے عامہ کے تقسیم ہونے کا رونا رو رہے تھے !

میڈیا تسلسل کے ساتھ تاثر دے رہا ہے کہ پاکستانی قوم متحد ہو کر پاک فوج کی پشت پر کھڑی ہے، پاک فوج کے جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس مصیبت کو دھکے دیتے دیتے ہم اپنے ہی صحن میں کھینچ لائے ہیں، اور اب یہ مصیبت ایک بہت بڑی مشکل میں تبدیل ہو گئی ہے ، نہ حل ہونے والی مشکل میں!

یہ حقیقت ہے کہ ہم نے طالبان کو بنایا، اکسایا، لڑوایا، مروایا اور اب خود ان سے لڑ پڑے ہیں،کیونکہ ہم طالبان کا حل فوجی آپریشن میں سمجھتے ہیں،حالانکہ طالبان کسی ایک شکل میں یا کسی ایک جگہ پر نہیں ہیں، وہ ہمارے اندر بھی ہیں اور باہر بھی اور اگر امریکہ اس ملک میں انارکی پھیلا کر کچھ مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ،تو پھر وہ بھی طالبان ہی کی ایک شکل ہے!

لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا فوجی آپریشن مسئلے کا حل ہے یا پھر مذاکرات ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مذاکرات کا عمل امریکہ کامیاب نہیں ہونے دے رہا اور فوجی آپریشن طالبان کامیاب نہیں ہونے دیتے، پاکستان دو انتہاﺅں کے درمیان پھنسا ہوا ہے، اس سے یہ مصیبت بھری حقیقت اگلی جا رہی ہے نہ نگلی جا رہی ہے!

امریکہ چاہتا ہے کہ پاک فوج طالبان کا قلع قمع کر دے اور طالبان چاہتے ہیں کہ پاک فوج ان سے مذاکرات کر لے، لیکن اس ساری صورت حال میں پاکستانی قوم کیا چاہتی ہے ، اس کا تردد کوئی نہیں کر رہا ہے، حتیٰ کہ میڈیا بھی نہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو 11مئی کے انتخابات سے پہلے جن دگرگوں حالات کا سامنا تھا، 11مئی کے انتخابات کے بعد بھی ویسے ہی دگرگوں حالات کا سامنا ہے، پوری قوم ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کی کیفیت میں مبتلا ہے ، ایسے میں کوئی ریفرنڈم بھی کروایا جائے تو واضح نتیجہ سامنے نہیں آئے گا! ٭

مزید :

کالم -