دہشت گردوں کی زبان میں بات کرنے کا فیصلہ

دہشت گردوں کی زبان میں بات کرنے کا فیصلہ

  

ملکی سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم نے سیکیورٹی فورسز کو ہدایت کی ہے کہ دہشت گردوں سے انہی کی زبان میں بات کی جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملکی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی، مذاکرات کی حکمت عملی تبدیل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس کو مزید مربوط بنایا جائے گا۔ قبائلی علاقوں میں ٹارگٹڈ سرجیکل آپریشن مثبت نتائج برآمد ہونے تک جاری رہے گا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس کے عملی نفاذ کے لئے ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ادھر پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ انسداد دہشت گردی فورس کے قیام کے لئے تیزی سے اقدامات کئے جائیں۔ وزیر خارجہ اور وزیر اطلاعات کے کوئٹہ میں سانحہ مستونگ کے دھرنا دینے والے سوگوار لواحقین سے مذاکرات کے بعد ملک بھر میں مظلومین کی حمایت میں دیئے گئے دھرنے ختم کردیئے گئے ہیں۔ میتوں کی تدفین جمعہ کے روز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔

 جہاں ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے اور امن و امان تباہ ہونے سے ملکی معیشت بھی ڈوبنے لگے وہاں معاملات سے جنگی بنیادوں پر ہی نمٹا جائے گا۔ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے اگر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو مینڈیٹ دیا تھا تو اب عسکری اور سیاسی قیادت کے باہم متفق ہوکر دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے بھی انہیں اپنی افواج اور منتخب حکومت کے پیچھے کھڑا ہونا چاہئے۔ ماہرین کی طرف سے بار بار یہ حقیقت سامنے لائی جا رہی ہے کہ دہشت گرد اس وقت تک اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ انہیں اپنی کارروائیوں کے لئے کہیں نہ کہیں کسی طرح کی مداخلت سے پاک زمینی ٹھکانے اور کسی نہ کسی طرف سے فکری اور سیاسی تائید و حمایت حاصل نہ ہو۔ پاکستان کے عوام حیلوں بہانوں سے دہشت گردوں کی پیٹھ ٹھونکنے والوں کو پہچان چکے ہیں۔ طالبان کا تعلق افغانستان سے ہے ان کا جہاد اپنے ملک پر غاصب غیر ملکیوں کے خلاف ہو سکتا ہے، پاکستان کی منتخب حکومت کے خلاف نہیں۔ جہاد کرنے والے ایٹمی طاقت کے مالک واحد اسلامی ملک کو کمزور کرنے کے لئے نہیں غیر مسلموں سے مسلمانوں کو آزاد کرانے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ دہشت گرد پورے ملک میں تاوان کے لئے امراءکو اغوا، عام لوگوں کو قتل اور خوف و بدامنی کی فضا پیدا کرنے کے لئے بے گناہ بوڑھوں، بچوں اور خواتین کو قتل کرنے جیسے گھناﺅنے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود کچھ لوگ یہ سب کچھ کرنے والوں کی حمایت کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ اگر کسی کی طرف سے یہ کہا جائے کہ کسی بھی طرح کے آپریشن کے وقت دہشت گرد اور شر پسند لوگوں اور پُرامن لوگوں کے درمیان تمیز کی جائے، عام شہریوں کی زندگیوں کو تحفظ دیا جائے تو اس کی سمجھ آ سکتی ہے، لیکن دشمن کے منصوبوں کو آگے بڑھانے اور ملکی سلامتی اور امن تباہ کرنے کے لئے وحشیانہ کارروائیوں میں مصروف لوگوں کی حمایت کوئی نہیں کر سکتا۔

دہشت گردی نے قوم و ملک کی بقاءکا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ اس کے لئے پوری قوم کو حکومت اور اپنے محافظ جوانوں کی تائید و حمایت میں آگے آنا ہو گا۔ ہر بستی اور ہر قصبے میں نوجوانوں کو دہشت گردی کے مقابلے کی تربیت دی جانی چاہئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انصاف مہیا کرنے والی عدالتوں کے کام کو موثر اور فعال بنانے پر توجہ دی جانی چاہئے۔ عوام کا حکمرانوں پر ا عتماد اس وقت تک بحال نہیں ہو سکتا جب تک انہیں انتہا کی مہنگائی، جان و مال کا تحفظ اور فوری اور سستا انصاف مہیا نہیں ہوتا۔ آج ہر گلی اور ہر محلے میں بے انصافی، جبر اور غنڈہ گردی کے ہاتھوں برباد ہونے والوں کی داستانیں عوامی نفرت میں اضافے کا باعث ہیں۔ لوگوں کے جان و مال کو دہشت گردی سے تحفظ دینے کے لئے اگر عوامی اعتماد کی ضرورت ہے تو دوسری طرف عوامی اعتماد کے لئے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔ ملک و قوم کو بچانے کے لئے حکمران عوام سے ایک سادہ سی اپیل بھی کریں تو عوام جان و مال کی قربانیاں دینے کی لازوال مثالیں پیش کرتے ہیں، لیکن یہ خود حکمرانوں کے سوچنے کی بات ہے کہ وہ ملک و قوم کو مصائب سے نجات دلانے اور آگے لے جانے کے لئے عوام کے لئے کیا کرتے ہیں؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی عوام کی بھاری اکثریت پورے جوش و خروش سے اپنی حکومت اور وطن کے پاسبانوں کا ساتھ دے گی۔ مغالطے پیدا کرنے والے چالاک لوگ ناکام رہیں گے۔ قومی وحدت اور اتحاد میں رخنہ ڈالنے کی کوششیں ناکام رہیں گی۔

امید کرنی چاہئے کہ صوبوں میں انسداد دہشت گردی فورسز جلد سے جلد قائم کی جائیں گی اور ہزارہ برادری کے خلاف مسلسل حملے کرنے والی طاقت کا سر ہمیشہ کے لئے کچل دیا جائے گا۔ اقلیتوں کے لئے کسی بھی طرح ملک میں غیر محفوظ ہونے کا عمومی تاثرہرگز قائم نہیں ہونا چاہئے۔ ملک کے تمام طبقے، قبائل اور فرقے باہم بھائی چارے کی فضا میں ایک دوسرے سے مل کر رہنا چاہتے ہیں، ان کے درمیان نفرت اور عداوت پیدا کرنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا جانا ضروری ہے۔ یہ اسی صورت ممکن ہو گا جب حکومت ہزارہ برادر ی سے کئے گئے اپنے وعدوں پر سختی سے عمل درآمد کرے گی۔

پی آئی اے کو منافع بخش ادارہ بنانے کا عزم

وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے ہوابازی اور انچارج سول ایوی ایشن ڈویژن شجاعت عظیم نے کہا ہے کہ پی آئی اے کو جلد ہی منافع بخش ادارہ بنا کر دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں شامل کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں جہازوں کی کمی ہے۔ اسے درمیانے درجے کے جہازوں کی بہت ضرورت ہے۔ ہم پی آئی اے کو نہ صرف جدید طیارے مہیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،بلکہ موجودہ جہازوں کو بھی اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں جو فلائٹس اور روٹس ختم کئے گئے، وہ بھی بحال کئے جا رہے ہیں۔ اس سے پی آئی اے کی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔ شجاعت عظیم نے بتایا ہے کہ سول ایوی ایشن میں بھی بہتری پیدا کی جا رہی ہے ، ملکی اور غیر ملکی مسافروں کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

جناب شجاعت عظیم ہوا بازی کے میدان میں بین الاقوامی سطح پر مانے گئے مستند منتظم اور ماہر ہیں۔ ان کی دیانت اور مستعدی کسی طرح کے شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ ان کی وزیراعظم کے خصوصی مشیر کے طور پر تقرری ہی سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف پی آئی اے کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دینے سے زیادہ اسے نفع بخش اور عوامی امنگوں کے مطابق کامیاب قابل فخر قومی ادارہ بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شجاعت عظیم کی طرف سے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کے اداروں سے متعلق ظاہر کئے گئے عزائم قوم کے لئے ایک اہم خوشخبری کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شجاعت عظیم جیسے مستعد پروفیشنل انسان سے پی آئی اے کو قابل فخر ادارہ بنادینے کا کام ہو جانے کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔

پاکستان کرکٹ کا مستقبل؟

حکومت کی طرف سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین چودھری ذکاءاشرف کی بحالی کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ ایک اطلاع کے مطابق یہ واپس لے لی گئی ہے، ابھی یہ علم نہیں کہ یہ اپیل کسی فنی نقص کو درست کرنے کے لئے واپس لی گئی یا ایک مثبت اقدام کے طور پر عمل کیا گیا ہے۔ بہرحال اگر حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کا فیصلہ تسلیم کر لیا تو بہتر ہے۔ ذکاءاشرف نے بحالی کے بعد واضح کیا تھا کہ وہ حکومت سے تعاون کریں گے اور یہ عہدہ غیر سیاسی ہے اسے غیر سیاسی ہی رکھا جائے گا۔

اس وقت پاکستان کرکٹ کی جو صورت حال ہے اس میں کسی بھی قسم کی اکھاڑ پچھاڑ درست نہیں کہ عالمی سطح پر کرکٹ بھارتی بورڈ کی سازش کا شکار ہے، جو کرکٹ پر بھی اپنی بالادستی کے لئے آئی سی سی کو بلیک میل کر رہا ہے۔ ذکاءاشرف آئی سی سی کے اجلاس میں شرکت کے لئے جانے والے ہیں جہاں انہوں نے جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے ساتھ مل کر بھارتی سازش کا مقابلہ کرنا ہے، جس کی تجویز کے مطابق قواعد تبدیل کر کے اے بی کیٹیگری بنائی جا رہی ہے اور بھارت آسٹریلیا اور انگلینڈ کو سپر پاور تسلیم کیا جانا ہے ان کو فیصلوں پر ویٹو کا اختیار بھی ہو گا۔ بھارت نے تو عالمی کرکٹ کے بائیکاٹ کی بھی دھمکی دی ہے۔ ایسے مرحلے پر اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا مستقبل ہی داﺅ پر لگا ہو تو وہ نمائندگی خاک کرے گا، لہٰذا یہ بہتر ہے کہ ذکاءاشرف کسی ذہنی دباﺅ کے بغیر جائیں۔ یوں بھی وہ حکومت کے لئے پریشانی پیدا نہ کرنے کا یقین دِلا چکے ہیں۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف خود کرکٹ کے شائق اور دلدادہ ہیں اس لئے ان کو اس کا خیال رکھنا چاہئے۔ ابھی تک پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کا بھی سوال ہے اور ذکاءاشرف بھارت والوں سے کرکٹ کے رشتے پھر سے استوار کرنے کی بات کرنے کا اعلان کر چکے ہیں، بہتر یہ ہے کہ کسی تنازعہ میں نہ الجھا جائے۔

مزید :

اداریہ -