کارروائی نہ ہونے سے گھریلو ملازمین کے لواحقین میں خوف وہراس

کارروائی نہ ہونے سے گھریلو ملازمین کے لواحقین میں خوف وہراس

  

لاہور(کرائم سیل) گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات المیے کی شکل اختیار کرنے لگے ہیں، جس میں گھریلو مالکان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہ ہونے سے گھریلو ملازمین کے لواحقین میں خوف وہراس پھیل کر رہ گیا ہے۔لاہور میں گزشتہ چند دنوں کے دوران گھروں میں کام کرنے والی چار لڑکیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد موت کے گھاٹ ، جبکہ دس سے زائد لڑکیوں کو وحشانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس میںپولیس کسی نااہلی اور ناقص تفتیش کے باعث بھی حادثات کی شرح بڑھ رہی ہے”پاکستان “ کی جانب سے گھریلو ملازمین پر تشدد کی لہر پید ا ہونے کے حوالے میں جائزہ لیا گیا ہے تو تحقیقاتی جائزہ میں پولیس کی نااہلی اور ناقص تفتیش پائی گئی ، جبکہ گھروں میں کام کرنے والی جواں سالہ لڑکیوں اور ان کے ورثا سراپا احتجاج پائے گئے ڈیفنس میں نو عمر لڑکی فضہ بتول شمالی چھاﺅنی میں 14سالہ لڑکی ارم، جبکہ کاہنہ میں 15 سالہ عذرا اور ستوکتلہ سمیت جو ہر ٹاﺅن میں گھریلو ملازمین پر تشدد کے دوران ہونے والی ہلاکتوں سے خوف وہراس کی فضا پائی گئی اور ایسے محسوس کیا گیا کہ جیسے گھریلو ملازمین کی ہلاکتیں ایک المیے کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ دوسری جانب ڈیفنس میں گھریلو ملازمین پر تشدد کے سب سے زیادہ واقعات پائے گئے ہیں، اس حوالے سے اے ایس پی ڈیفنس محمد کاشف اسلم کا کہنا ہے کہ ملزمان خلاف مقدمات درج دو ملزمان گرفتار کرلیا گیا ہے اور باقی کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں

مزید :

علاقائی -