چارسدہ میں ”طالبان“آگئے ، مسلح افراد کاسڑکوں پر گشت، نقل مکانی شروع

چارسدہ میں ”طالبان“آگئے ، مسلح افراد کاسڑکوں پر گشت، نقل مکانی شروع
Charsada
کیپشن: Taliban

  

چارسدہ (بیورورپورٹ)چارسدہ اور شبقدر کے بیشتر علاقوں میں طالبان کا گشت شروع ہوگیا ہے اور عوام سے حکومت کے ساتھ تعاون ختم کرنے کی ہدایت کردی،سورج ڈھلتے ہی تجارتی مراکز بند جبکہ عوام گھروں میں محصور ہونے پر مجبور ہیں اور مسلح افرادسڑکوں پر نکل آتے ہیں , طالبان کے نام پر بھتہ خور گروہ نے امراءکا جینا حرام کر دیا۔ کروڑوں روپے بھتہ لینے کیلئے افعانستان کے موبائل نیٹ ورک سے فون کالوں کی وجہ سے عوام میں خوف وہراس پھیل گیا۔تفصیلات کے مطابق طالبان کے سرگرمیوں کے حوالے سے سیکیورٹی اداروں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے چارسدہ کے بیشتر علاقوں اور شبقدر ریجن میں طالبانائز یشن میں خیرت انگیز اضافہ دیکھنے میں آر ہا ہے ۔ سیکیورٹی اداروں پر عوام کا اعتماد ختم ہو چکا ہے جس کی وجہ سے عوام کی نظریں فطری طور پر یا اپنے عدم تحفظ کے شکار ہونے کی وجہ سے طالبان کی طرف راغب ہو رہی ہیں۔گزشتہ کئی سالوں سے چارسدہ میں جاری دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتاہے کہ شبقدر کے تھانہ خواجہ وس ،تھانہ سرو اور کئی دیگر علاقوں میں سورج ڈھلتے ہی حکومتی عملداری ختم اور مسلح طالبان کی عملداری شروع ہو جاتی ہے ۔ مسلح طالبان مختلف علاقوں میں گشت پر نکل آتے ہیں اور عوام کو باقاعدہ ہدایات جاری کر تے ہیں ۔ طالبان کی طرف سے عوام کو حکومت کے ساتھ تعاون ختم کرنے کی ہدایت کے بعد اب عوام خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ طالبان کے نام پر بھتہ خور گروہ کی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور امراءکو افغانستان کے موبائل نیٹ ورک سے کروڑوں روپے بھتہ اور سنگین نتائج کی دھمکیاں روز کا معمول ہے جبکہ بھتہ خور گروہوں نے متعدد بار دھمکیوں پر عمل درآمد بھی کیا جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ماربل فیکٹریوں کے مالکان اوردیگر بڑے کاروباری لوگوں سے ماہانہ بنیادوں پر بھتہ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ عوام کے سیکیورٹی پر مامور اداروں کو اپنی جان کی فکر لگ گئی ہے اور انہوں نے دفاتر اور تھانوں کو ریت کی بوریوں سے محفوظ بنایا ہے۔ شبقدر اور مہمند ایجنسی کے مابین 16 کلو میٹر پر محیط لمبی سرحد کو محفوظ بنا نے کیلئے ذمہ دار اداروں کے پاس کو ئی سیکیورٹی پلان نہیں ۔محدود تعداد میں چیک پوسٹوں پر تعینات پولیس اہلکاروں کے پاس جدید اور بھاری ہتھیار موجود نہیں جس سے وہ طالبان کے حملوں کو روک سکیں ۔ شبقدر میں علاقہ قلعہ شاہ بیگ ، ظریف کو ر،انگور کور، باڈی کو ر ، پر چاوے کے عوام مسائل سے دو چا رہیں۔

مزید :

چارسدہ -Headlines -