شمالی وزیرستان سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی

شمالی وزیرستان سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی
شمالی وزیرستان سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی
کیپشن: Displacement

  

بنوں(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیوں کے بعد مقامی آبادی کی نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور اب تک 13 ہزار افراد قبائلی علاقے سے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں پہنچے ہیں۔بنوں میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ دو روز پہلے شمالی وزیرستان میں بمباری کے بعد سے لوگ بنوں پہنچ رہے ہیں جن میں خواتین بچے اور بوڑھے افراد شامل ہیں۔حکام نے بتایا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کل کتنے خاندان نقل مکانی کر کے بنوں پہنچے ہیں لیکن انفرادی طور پر شہر میں داخل ہونے والے لوگوں کی تعداد تیرہ ہزار تک ہے۔متاثرہ افراد اپنے طور پر رہائش کا انتظام کر رہے ہیں کچھ لوگ رشتہ داروں اور جاننے والے افراد کے پاس پہنچ رہے ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد مکان تلاش کرنے کے لیے سڑکوں کے کنارے اور میدانوں میں ڈیرے ڈال بیٹھے ہیں۔گزشتہ روز نقل مکانی کرنے والی ایک خاتون نے چھ بچوں کو جنم دیا ہے جن میں چار لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں۔بنوں چھائونی اور راولپنڈی کے آر اے بازار میں دھماکوں کے بعد شمالی وزیرستان میں دو روز پہلے سکیورٹی فورسز نے شدید بمباری کی تھی۔اس کارروائی میں تیس سے چالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن کے میں غیر ملکی بھی شامل تھے ۔بنوں کے حکام نے بتایا کہ اب تک متاثرین کو کوئی امداد نہیں دی گئی ہے تاہم قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے حکام بنوں پہنچے ہیں اور حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے ملک اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں کہیں رہنے نہیں دیا جا رہا۔ان کا کہنا تھا کہ ’میرانشاہ اور میر علی کے علاوہ ایجنسی میں حالات پیچیدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بڑی تعداد میں لوگ ٹرکوں،ٹریکٹروں اور دیگر گاڑیوں میں بنوں کی طرف آ رہے ہیں میرانشاہ میں گاڑیاں نہیں مل رہیں لوگ سڑکوں کے کناروں پر موجود ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے اکثر افراد کے جاننے والے بنوں میں نہیں ہیں اس لیے انھیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مزید :

بنوں -