وطن کی خاطر قربان ہونے والوں کے پسماندگان رُل گئے

وطن کی خاطر قربان ہونے والوں کے پسماندگان رُل گئے
وطن کی خاطر قربان ہونے والوں کے پسماندگان رُل گئے
کیپشن: ا

  

لاہور(رپو رٹ :زاہد علی خا ن /ملک خیا م رفیق /دیبا مر زا)ملک کی خا طر جا نوں کا نذرا نہ دینے والوں کے مسائل میں گھرے لو احقین دردر کی ٹھوکریں کھانے اورانہیں یا د کر کے آنسو بہا نے کے باوجود مطمئن ہیں کہ ان کے پیا رے شہا دت کا رتبہ پا کر دنیا و آخرت میں اپنا مقام پیدا کر گئے ۔ شہداءکے پسماندگان کا کہنا ہے کہ اگر چہ انہیں حکو مت نے امداد دی مگر اب بھی بے شما ر شکا یا ت ہیں جن کے ازالے کیلئے وہ در بدر کی ٹھو کریں کھا نے پر مجبور ہیں ۔” پا کستا ن “نے پولیس کے شہداءایس آئی محمد انور ،سا نحہ لبرٹی کے ہیڈ کا نسٹیبل فیصل رشید بٹ اور ریسکیو 15کے انسپکٹر عبد الرﺅ ف سلطا ن کے اہل خا نہ سے ملا قا ت کی تو انہوں نے رو تے ہوئے کہا کہ جنہو ں نے دفاعِ وطن کیلئے دہشت گردو ںکا مقا بلہ کر کے جا نیں قر با ن کیں، آج ان کے ہی پسماندگان ٹھو کریں کھا نے پر مجبو ر ہیں۔شہید سب انسپکٹر محمد انور کی بیو ہ نےشکا یا ت کے انبا ر لگا دیے اور کہا کہ وہ پر یشا نیو ں میں گھری ہو ئی ہیں ، معلوم نہیں حکو مت کی نظر کر م کب ہو گی، امداد کے حکومتی وعدے ابھی تک ادھورے ہیں ،ہم تو اللہ سے آس لگائے بیٹھے ہیں ،حکومت اور شہید کے محکمہ نے تو ہمیں مایوسی کے سواکچھ نہیں دیا ۔ریسکیو 15کے شہیدانسپکٹر عبد الرﺅ ف سلطا ن کے بھائی چو دھری نعیم سلطا ن نے گلہ کیا کہ اس کا بھا ئی تو چلا گےا مگر افسوس کہ 5سالہ سے اپنے بھا ئی کی سرکا ری مراعات تو در کنا ر پنشن کے کا غذا ت بھی مکمل نہیں ہوئے جبکہ اس مقصد کیلئے ڈی ایس پی سے آئی جی اور وزیر اعلی سے وزیر اعظم تک ہر دروازے پر دستک دی مگر دلا سوں کے سواکچھ نہ ملاسکا ، آج اس قدر ما یو س اور یہ سو چنے پر مجبو رہوں کہ کیا وہ حکو مت اس کی داد رسی کر سکے گی جوخود کشکول لئے گھوم رہی ہے؟ نعیم سلطا ن کاکہنا ہے کہ اس کے بھا ئی نے تو اپنی جا ن کا نذرا نہ دےکر شہا دت کا رتبہ پا لیا لیکن اہل خا نہ کو اداس کر گیا ، حکو مت نے جن مر اعا ت کا وعدہ کیا تھا وہ ابھی تک نہیں دیں ۔میراپختہ ایما ن ہے کہ شہید ہمیشہ زندہ رہتا ہے مگر شہید کے ورثا ءکو حق نہ دینا سب سے بڑی بے انصا فی ہے۔ بھا ئی نے شا دی نہیں کی تھی،ہم نو بہن بھا ئی تھے، میر ے سوا تما م بہن بھا ئی اور ہما رے والدین بھی دنیاسے چلے گئے،انصا ف اور حقو ق دینے کے دعوے کر نے والے نہ جا نے آج کہا ں ہیں۔ سری لنکا کی ٹیم کی حفاظت پر مامور لبر ٹی چوک میں شہید ہونے والے یلیٹ فورس کے ہیڈ کانسٹیبل فیصل رشید بٹ کے والد رشید بٹ نے بتایا کہ اس کے شہید بیٹے کے لئے اعلان کی گئی رقم تو فراہم کی گئی مگر دیگر مراعات کیلئے وہ ابھی تک جگہ جگہ ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے، وہ آج بھی اپنے بیٹے کو یاد کرکے آنسو بہاتا ہوں مگر مجھے اس بات پر بھی فخر ہے کہ میرا بیٹا اپنے سر پر شہادت کا تاج سجائے دنیا سے رخصت ہوا ہے جو میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں ایف آئی اے سے ڈپٹی ڈائریکٹر ریٹائرڈ ہوا ہوں، بیٹے کی مراعات کے لئے میں نے وزیر اعلی پنجاب اور آئی جی پولیس پنجاب کو بے شمار درخواستیں دیں مگر اسے انصاف نہیں مل سکا۔ فیصل بٹ کی والدہ نے روتے ہوئے کہا کہ اسکا بیٹا سینہ تان کر دہشت گردوں کا مقابلہ کرتا رہا ، اس بات پر اسے فخر ہے کہ میں ایک شہید بیٹے کی ماں ہوں جس نے ملک و قوم کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ وہ اپنے بیٹے کی شادی کرنا چاہتی تھیں اور جب بھی میں اس بات کا ذکر کرتی تھی تو وہ کہتا تھا کہ میں نے تو شہید ہوجانا ہے مجھے شادی کی کیا ضرورت ہے ، مجھے اپنے بیٹے کے سر پر سہرے سجانے کابڑے ارمان تھا ،میرا بیٹا نمازی اور پرہیز گار تھا اور جب بھی کسی پریشانی میں مبتلا ہوتاتو وہ نماز پڑتا اور مجھ سے کہتا کہ ماں آپ بھی نماز پڑھیں اور میرے لئے دعا کریں ۔ماں نے انکشاف کیا کہ میرے بیٹے نے ترقی کا امتحان بھی پاس کرلیا تھا اور اسکی شہادت کے بعد ہمیں ایک لیٹر ملا جس میں لکھا تھا کہ اسکا بیٹا سب انسپکٹر ہو گیا ہے ۔والدہ نے مزید کہا کہ اسکے بہن بھائی آج بھی اسے یاد کر کے آنسو بہاتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ایک شہید کے بہن بھائی ہیں جس پر انہیں ناز ہے ۔والدہ نے مزید بتایا کہ اسکی 3بیٹیاں اور3بیٹے ہیں مگر اسے آج گھر کے اندر فیصل رشید نظر نہیں آتاجبکہ اسکی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنی ماں کے ہاتھ کا کھانا کھاکر جائے ۔

مزید :

قومی -