تجزیہ: چودھری خادم حسین حکومت اور شدت پسند ،نئی حکمتِ عملی سے آمنے سامنے!

تجزیہ: چودھری خادم حسین حکومت اور شدت پسند ،نئی حکمتِ عملی سے آمنے سامنے!

  

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میںدہشت گردی کا سدِ باب سبھی چاہتے ہیں، لیکن طریقِ کار میں اختلاف ہے اور یہ کوئی برائی بھی نہیں۔ ہر ایک کی اپنی رائے ہوتی ہے اور وہ اپنے تجربے یا علم کے مطابق بات کرتا ہے ،کسی کو الزام نہیں دیا جاسکتا،تاہم ایک بات بالکل واضح ہے کہ حکومت نے مذاکرات کا فیصلہ کیا تو واضح طور پر پیغام بھی دینا چاہیے تھا اور اگر کالعدم تحریک طالبان والے بھی بات چیت پر آمادہ ہیں تو ان کو اپنی کارروائیوں کو معطل کرنا چاہیے تھا، ایسا بوجوہ نہیں ہوا جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ارادے ہی نہیں تھے، کہ ایسا ہوتا تویقیناً راہ بھی نکل آتی، اب تو حالیہ واقعات سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں طرف سے وقت حاصل کیا جارہا تھا۔کالعدم تحریک طالبان والوں نے اس عرصہ میں اپنا نیٹ ورک ملک بھر میں پھیلایا جس کا ثبوت بلوچستان،کراچی ، بنوں اور پشاور میں ہونے والے حملے ہیں اور افواج پاکستان کی طرف سے جوابی کارروائی ہے، اب تو سیاسی اور عسکری قیادت نے متفقہ طور پر وہی فیصلہ کر لیا ہے جو سابقہ دور کا تھا کہ جو بات کرنا چاہیں ان سے کرلی جائے اور جو بالکل نہ مانیں ان سے نمٹ لیا جائے۔ یہ حکومت عملی سوات میں کامیاب ہوچکی ہوئی ہے اور ملّا فضل اللہ اسی دور کے ہیں،اب وہ سوات کے نہیں کالعدم تحریک طالبان کے امیر ہیں،کیا ان کو پرانا رنج نہیں ہوگا؟ اب تو حکمتِ عملی کا بھی امتحان ہے اس کشمکش میں دور سے غار میں روشنی کی ایک کرن بھی نظر آتی ہے جو سالارزئی قبیلے کے گرینڈ جرگہ کا فیصلہ ہے۔سالار زئی قبیلے والوں نے طویل بحث کے بعد نتیجہ نکالا کہ شدت پسندوں کی وجہ سے پُر امن قبائلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور یہ اس لئے بھی ہے کہ شدت پسند قبائل ہی میں آکر پناہ لیتے ہیں، ان حالات میں جرگہ نے فیصلہ کیا کہ قبیلے کا کوئی گھرانہ کسی شدت پسند کو اپنے ہاں نہیں ٹھہرائے گا،اگر کسی نے اس فیصلے کی خلاف ورزی کی تو اس کا مکان گرا دیا جائے گا اور اسے ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا جائے گا۔ اس جرگہ میں یہ بھی طے کیا گیا کہ امن لشکر بنایا جائے جو اپنی حفاظت آپ کے اصول کے تحت کام کرے۔ یہ بہت مو¿ثر فیصلہ ہے ،ماضی میں ایسا تجربہ بہتر رہا تھا اگرچہ شدت پسندوں نے امن لشکر والوں پر بھی حملے کئے تھے، پھر نامعلوم وجوہات کی بناءپر امن لشکر کی سرگرمیوں کی اطلاع ملنا بند ہوگئی تھی،شاید یہ لشکر ہی بے عمل ہوگئے تھے یا پھر حکومتی مذاکرات اور مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق سے عمران خان اور سید منور حسن تک کے دلاسوں یا شدت پسندوں کی حمائت نے امن لشکر والوں کو بددل کردیا تھا۔ سیاسی اورعسکری قیادت کو یہ پہلو بھی مدِ نظر رکھنا ہوگا اور امن پسند قبائلیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی اب اگر سالارزئی قبیلے والوں نے فیصلہ کیا ہے تو ان سے تعاون کیا جائے۔ جہاں تک ملک کے دوسرے شہروں میں پھیلے شدت پسندوں کا تعلق ہے تو ان کی سرکوبی کے لئے مصدقہ اور غیر جانبدارانہ اطلاع کی ضرورت ہے، بہتر ہے کہ حکمران جماعت کو تنظیمی طور پر فعال بنایا جائے اور یہ تنظیم کسی ہچکچاہٹ یا تعصب کے بغیر سب کا تعاون حاصل کرے،شہریوں کو مشتبہ افراد کی اطلاع دینے پر آمادہ کیا جائے اور ایسے حضرات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے تو شہر شہر پھیلے شدت پسند بھی تلاش کئے جاسکتے ہیں، انٹیلی جنس اداروں کے نیٹ ورک کو مربوط بنانے کی صرف بات نہ کی جائے اسے عملی جامہ بھی پہنایا جائے،اس کے علاوہ پولیس کی ذہنی ماہیت تبدیل کرنے کی بھی ضرورت ہے ان کے لئے ایسے لیکچرز کا انتظام کیا جائے جو ان کے ذہن کی تبدیلی کا ذریعہ بنیں ان کو بتایا جائے کہ شدت پسندوں سے نجات ضروری ہے ایسا ہوگا تو یہ بھی سکھ کا سانس لے سکیں گے، یہ نہیں کہ یہ حضرات ناکے لگا کر ڈھیلے ڈھالے انداز میں کھڑے ہوں اور موٹر سائیکل رکشا والوں سے پیسے بٹورتے رہیں۔ ہزارہ قبیلہ(بلوچستان) والوں نے چودھری نثار احمد خان اور سینیٹر پرویز رشید کے ساتھ مذاکرات کے بعد 37گھنٹوں پر مشتمل اپنا دھرنا ختم کرکے میتوں کی تدفین کر دی اور دھرنا احتجاج ختم ہوگیا ہے ،ایسا دوسری مرتبہ ہوا ہے پہلے بھی سابق حکومت کے دور میں میتوں ہی کے ساتھ دھرنا دیا گیا تھا،اب ان کو پھر سے تحفظ کا یقین دلایا گیا ہے،اس سے پہلے وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک زائرین کے لئے فیری سروس کی تجویز بھی دے چکے ہوئے ہیں، بہرحال حکومت کو اب اپنی یقین دہانی پر پورا بھی اترنا ہوگا،آنے والا وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ نئی حکمتِ عملی کہاں تک کامیاب ہوتی ہے، بہرحال ایک امر طے ہے کہ کالعدم تحریک طالبان والے مجموعی طور پر پاکستانی عوام کی حمائت کھو چکے ہوئے ہیں اور یہ ان کو باور کرنا چاہیئے یہ اس لئے ہوا کہ ان کا نشانہ عام لوگ بھی بنے۔

مزید :

صفحہ اول -