دہشت گردوں تک رسائی۔۔۔!

دہشت گردوں تک رسائی۔۔۔!
دہشت گردوں تک رسائی۔۔۔!

  


دو سال کے لئے فوجی عدالتیں قائم کر دی گئی ہیں، جس کے لئے 21ویں آئینی ترمیم لائی گئی ہے۔ فوجی عدالتیں دہشت گردوں کو فوری اور کڑے سزا کے عمل سے گزاریں گی۔ کیا اس سے وہ نتائج حاصل کئے جا سکیں گے، جس کے لئے یہ فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں؟ قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتیں اس ایک نکتے پر اکٹھی ہیں کہ بالآخر دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کا قلع قمع ہونا ہے اور یہ کام فوج کے ساتھ ساتھ پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں نے بھی مل کر کرنا ہے۔

خصوصاً سانحۂ پشاور کے بعد تو قوم ہی نہیں حکومت بھی جاگ پڑی ہے۔ دہشت گرد پہلے امن پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کرتے تھے اب خود ان کے ٹھکانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور یہ حملے اب پاک فوج ، پاک فضائیہ کی مدد سے کر رہی ہے، جس سے دہشت گردوں میں خاصا خوف پایا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے ردعمل کے طور پر آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ کیا اور نہتے بچوں اور اساتذہ کی جان لے لی۔ ان شہداء کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ تمام قوم جاگ پڑی۔ حکومت کو بھی ہوش آیا کہ اب صبر نہیں کرنا۔ تحمل کا پیمانہ لبریز ہوا تو سب مل بیٹھے اور جو حکومت سے شدید اختلاف رکھتے تھے یا اُن کی پالیسیوں کو پسند نہیں کرتے تھے یا دیگر سیاسی وجوہات کی بناء پر اُن کے کٹر مخالف تھے، وہ بھی لبیک کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اس دھرتی سے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا ہے، جو خوف ہی نہیں ایک ناسور کی علامت بھی بن چکے ہیں۔

اس سارے معاملے میں پاک آرمی اور جنرل راحیل شریف کا کردار فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے جو مشکل فیصلے لئے اور ان فیصلوں میں انہیں، جس طرح حکومت، قوم اور سیاسی جماعتوں کی حمایت اور پشت پناہی حاصل ہوئی، اُس کی ماضی کی تاریخ میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی۔

دہشت گرد اب تک بڑی تعداد میں مارے جا چکے ہیں، ابھی اور کتنے باقی ہیں اس کا اندازہ تو صحیح طور پر نہیں لگایا جا سکتا، لیکن اس بات کا تعین ضرور کیا جا سکتا ہے کہ وہ چاہے بڑی تعداد میں ہیں، یا اُن کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن وہ ہیں بڑے خطرناک۔ وہ اپنے جن مذموم ارادوں کے ساتھ آتے ہیں اُس میں نہ صرف کامیاب ہوتے ہیں، بلکہ کسی بھی مذموم کارروائی کے بعد اپنے پیچھے دردناک واقعات کی کئی کہانیاں چھوڑ جاتے ہیں۔

پشاور کے آرمی پبلک سکول میں جو اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ اُسے گزرے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس کے اثرات پوری قوم پر اب بھی باقی ہیں۔ جب بھی ان شہید بچوں کا ذکر ہوتا ہے ہر آنکھ نہ صرف پُرنم ہوتی ہے، بلکہ دل بھی درد سے ڈوب جاتے ہیں۔ اس افسوس ناک واقعے نے ہر ایک کو رُلایا ہے۔ پوری دنیا میں اس درد کو محسوس کیا گیا ہے۔ اسی لئے اب پاکستان میں دہشت گردوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔ وہ پہاڑوں میں چھپے ہیں یا میدانوں میں کہیں روپوش ہیں، ہمیں اُن کی پناہ گاہوں کا سراغ لگانا ہے، کیونکہ اس کے بغیر ان کا خاتمہ ناممکن ہے اور اس آپریشن کو، جو اُ ن کے خلاف ہو رہا ہے اور تیزی سے جاری ہے، اسی صورت میں کامیاب بنا سکتے ہیں جب ہم اپنے انٹیلی جنس کے شعبوں کو ان کے خلاف نہایت سرعت سے بروئے کار لائیں۔ اس کے بغیر دہشت گردوں تک رسائی ممکن نہیں اور انہی ناممکن حالات کے باعث دہشت گرد اپنی مذموم کارروائی یا ناپاک منصوبوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں پھیلے ہوئے انٹیلی جنس کے نیٹ ورک اسی لئے کامیاب ہوتے ہیں کہ اُن کے پاس جدید ٹیکنالوجی ہے۔ وہ جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسی تصاویر حاصل کر لیتے ہیں جو انہیں درکار ہوتی ہیں اور وہ منظر کشی اور سرگرمیاں بھی اس جدید سیٹلائٹ نظام اور اُن میں نصب کیمروں کے ذریعے اُن کے سامنے آ جاتی ہیں جو کافی لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہیں۔

اب تو ہمارے اکثر نجی ٹی وی چینل بھی ان سیٹلائٹ کیمروں کی مدد سے ایسے ایسے مناظر ٹی وی سکرین پر دکھا رہے ہیں جن کا تصور پہلے کبھی نہیں کیا جا سکتا تھا کیا ان سیٹلائٹ کیمروں اور اس جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ہم شمالی وزیرستان میں اپنی کمین گاہوں میں چھپے ان دہشت گردوں کا سراغ نہیں لگا سکتے؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو شمالی وزیرستان یا ملک کے دیگر ایسے علاقوں میں جہاں دہشت گردوں کے موجود ہونے کا شبہ ہے، بروئے کار کیوں نہیں لایا جاتا۔ اس طریقۂ کار کو سنجیدگی سے اختیار کیا گیا تو اس کے اچھے نتائج بھی سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ امید تو ہے حکومت اور انٹیلی جنس ادارے اس سے غافل نہیں ہوں گے اور ان خطوط پر ضرور غور کر رہے ہوں گے، لیکن اس کو زیادہ فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر اس جدید ٹیکنالوجی کے لئے کسی بھی بیرون ملک سے استفادہ کرنا پڑے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

مزید : کالم