شکست میں کوئی انداز دیکھتا میرے

شکست میں کوئی انداز دیکھتا میرے
شکست میں کوئی انداز دیکھتا میرے

  


اگر قوم دشمنی کا طعنہ نہ دیا جائے تو آپ کا یہ کالم نویس اپنی زندگی میں جن شخصیات سے متاثر ہوا ان میں مہاتما گاندھی کا نام بھی شامل ہے ۔ یہ نام سنتے ہی لوگوں کا دھیان سیاست کی طرف جائے گا اور جیسا کہ ہمارا دستور ہے ، ایک ایک کر کے اعتراضات شروع ہو جائیں گے ۔ سب سے پہلے تو یہی کہ وہ ہمارے اس دو قومی نظریہ کو نہیں مانتے تھے جس پہ ہم نے علیحدہ وطن کی بنیاد رکھی ۔ دوسرے اگر انہیں ایک بڑا سیاست دان مان بھی لیا جائے تو اس دنگل میں قائداعظم ؒ نے انہیں چاروں شانے چت کر دیا تھا ۔ ذرا سا زور لگا کر ان دلائل کی سچائی تاریخی طور پہ بھی ثابت کی جا سکتی ہے ۔ پر کیا کروں میری پسندیدگی سیاسی نہیں ، نجی نوعیت کی ہے ، ہر چند کہ مہاتما کے بعض بعض سیاسی کرتب مجھ جیسوں کے لئے چاہت کی چاشنی کو اور بڑھا بھی دیتے ہیں ۔

یہی دیکھ لیں کہ اب سے ٹھیک ایک سو سال پہلے جب گاندھی جی جنوبی افریقہ سے ہندوستان لوٹے تو آتے ہی عوامی شخصیت کا عکس ڈالنے کے لئے ٹائی سوٹ اتارا اور دھوتی باندھ لی ۔ ساتھ ہی پوائنٹ مارا کہ بر صغیر کے کسان کی وضع قطع یہی ہوا کرتی ہے ۔ اسی حال میں جگہ جگہ گھومتے رہے ، جلسے کئے ، ہڑتالیں کرائیں ، تحریکیں چلائیں ۔ یہاں تک کہ لندن میں شاہ برطانیہ سے ملاقات کرنے گئے تو اسی حلیہ میں بکنگھم پیلس جا پہنچے ۔ محل سے واپسی پر کسی نے پوچھا کہ بادشاہ سے ملتے ہوئے کیا آپ کو اپنی بے لباسی پہ خفت محسوس نہ ہوئی ۔ کہنے لگے ’بادشاہ نے جو ہم دونوں کے حصہ کا لباس پہنا ہوا تھا ‘ ۔ ظاہر ہے یہ لطیف چوٹ ان آرائشی عباؤں اور قباؤں پہ ہے جو ہر زمانے میں تاج و تخت کے مالکوں کی زینت بنتی رہیں اور کہیں کہیں اب تک بنی ہوئی ہیں ۔

اب اسٹوری کو ٹرن دینے کے لئے وہ پرانی فلم جس میں بین کنگزلی نے موہن داس کرم چند گاندھی کا رول کیا ہے ۔ اگر فلم دیکھی ہے تو آپ کو یاد ہوگا کہ جنوبی افریقہ میں ریلوے کی فرسٹ کلاس سے نسلی بنیاد پر دھکا دے کر پلیٹ فارم پہ گرائے جانے کے بعد مہاتما نے ٹرین میں ہمیشہ سب سے نچلے درجہ میں سفر کرنے کا عہد کر لیا تھا ۔ ایک بار کسی نے پوچھا ’آپ تھرڈ کلاس میں کیوں سفر کرتے ہیں؟‘ ’بالکل نہ کرتا ، اگر کوئی فورتھ کلاس ہوتی‘ گاندھی نے جواب دیا ۔ کچھ لوگ سادگی کی اس کہانی کو ذرا مختلف رنگ میں لیتے ہیں ۔ جیسے آزاد برصغیر میں بھارتی ریاست یو پی کی گورنر سروجنی نائیڈو نے تھرڈ کلاس کے ڈبہ کو جراثیم سے پاک اور گرمیوں میں ٹھنڈا کرنے پہ ہنسی ہنسی میں کہہ دیا تھا کہ گاندھی جی کو کچھ پتا نہیں کہ انہیں غربت میں رکھنے کے لئے کانگریس کتنا خرچہ کرتی ہے ۔

تو کیا مہاتما کے کمالات محض شعبدہ بازی تھے یا اس سچ کا تسلسل جس کی جستجو کا اشارہ ان کی سوانح میں ملتا ہے ؟ شائد اس سوال کا بہتر جواب اس صورت میں مل سکتا تھا جب گاندھی جی ، جنہوں نے پنڈت نہرو کی سرکاری جیب سے پاکستان کو اس کا مالی ترکہ دلانے کے لئے مرن بھرت رکھا ، کسی روز ترنگ میں آ کر ہندوستان چھوڑ کر مستقل طور پہ پاکستان آ بستے ۔ ان جیسی ڈرامائی طبیعت کے آدمی سے ایسی حرکت بعید تو نہیں ۔ تقسیم کو رکوانے کے لئے محمد علی جناح کو متحدہ ہندوستان کا وزیر اعظم بنا دینے کی حیران کن تجویز آخر کس نے پیش کی تھی ؟ اس سے پہلے دوسری عالمی لڑائی میں برطانوی حکومت کو یہ مشورہ بھی انہوں نے دیا کہ جاپانی فوجیں اگر ہندوستان پہ بلا مزاحمت قبضہ کر لیں تو اچھا ہو ۔ اس پر وائسرائے نے چونک کر کہا تھا ’خدا کا نام لیں ، مسٹر گاندھی ، ہم حالت جنگ میں ہیں‘ ۔

یہ مراد نہیں کہ مہاتما کے سارے ہی منصوبے خیالی قسم کے ہوتے تھے ۔ بدیشی کپڑے کے بائیکاٹ ہی کو لیں تو برطانوی ملوں کو بند کرانے کے لئے گاندھی جی نے کھڈی کے کھدر کی تحریک چلائی اور خود بھی بڑے پریم سے چرخہ کاتنے لگے ۔ روزمرہ غذائی ضرورتیں پوری کرنے کی خاطر انہوں نے ایک بکری پال لی تھی ۔ تھرڈ کلاس میں ریلوے سفر کے اخراجات کا رولا ڈالنے والوں نے یہ بھی مشہور کر رکھا ہے کہ گاندھی کی بکری ، جسے وہ اپنے ساتھ انگلستان کا دورہ بھی کرا لائے ، روزمرہ خوراک میں سیب اور کیلے کھایا کرتی ۔ یہ سوچ کر رشک آتا ہے کہ اس بکری میں سے دودھ کی بجائے ، ملک شیک کی دھاریں نکلتی ہوں گی ۔ خیر جو کچھ بھی نکلتا ہو ، اپنے تو پچھلے دو ہفتے دودھ کی جگہ پٹرول کے کرائسز میں گزرے جس پر قابو پانے میں ایم ۔کے۔ گاندھی کی باطنی روشنی یا ’انر لائٹ‘ سے مدد ملی ۔

بین کنگزلی والی فلم میں سالٹ مارچ کے دوران گاندھی جی نے پا پیادہ ساحل پہ پہنچ کے سمندری پانی سے نمک نکال کر دکھا دیا تھا ۔ میں نے سوچا کہ راوی کا رخ کروں اور دریا سے پٹرول نکالوں ۔ مشکل یہ پڑی کہ گاندھی کے جا نشینوں کے ساتھ نصف صدی پہلے کی دریائی ڈیل کے نتیجہ میں ہمارے حصہ کا راوی اب بہتا ہی نہیں ، بس شاہدرہ کے پاس مست فقیروں کے انداز میں لیٹا رہتا ہے ۔ اس لئے پطرس بخاری کی طرح میرے لئے بھی یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ لاہور دریا کے دائیں کنارے بستا ہے یا بائیں کنارے ۔ پر جی ، مہاتما گاندھی نے پارچہ ساز ملوں کی کلیں روکنے کے لئے چرخے کی چرخی گھما ئی تھی اور کافی میکر یا جوسر خریدنے کی بجائے بکری کے ناز اٹھانے لگے تھے ۔ سوچا کہ کیوں نہ میں بھی خود میں پیدل پھرنے کی ہمت پیدا کروں ۔ صحت کی صحت اور پٹرول کی محتاجی بھی ختم ۔

پہلے ہی سفر میں گاندھی جی دل و دماغ پہ حاوی رہے۔ ایک تو شادمان سے نیو کیمپس کے نواح تک کی یہ مسافت تھی ہی خوشگوار کہ خالہ زاد بہن نے چھٹی کے دن دوپہر کی روٹی رکھی تھی ۔ دوسرے گاندھی کے نمک جلوس کی طرح کچھ بھانجیاں بھتیجے میرے آگے پیچھے بھی چلنے لگے ۔ البتہ عوام میں گھل مل جانے سے قدم قدم پر یہ احساس ہوا کہ لاہور میں سڑکوں کی توسیع و تعمیر کرتے ہوئے جتنا خیال اہل موٹر کا رکھا گیا ہے ، کاش اتنا ہی ان راستوں کو پیدل فرینڈلی بھی بنا دیا جاتا ۔ چنانچہ نہر کے ساتھ ساتھ سروس لین پہ چلتے چلتے فیروز پور روڈ تک تو آسانی سے پیش قدمی کی ، پھر ایک دوست کا قول یاد آنے لگا کہ آدمی کھچرا نہ ہو تو ہمارے شہر میں سڑک پار نہیں کر سکتا ۔ بہرحال ، زمین دوز میٹرو اسٹیشن سے ہو کر اہل ایماں صورت خورشید دوسری طرف نکل آئے۔

یہ تو پہلے بھی کہا جا چکا ہے کہ ماضی کا پنجاب ایک صوبہ تھا اور لاہور اس کا دارالحکومت جبکہ شہر کے روز افزوں پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے آنے والے دنوں میں ڈی ایچ اے ایک پورا شہر ہوگی اور لاہور اس کا ایک محلہ رنگ روڈ کے بیچوں بیچ اگر آپ سیر کرنا چاہیں تو یہ نہیں ہو گا کہ ’گلیاں ہوون سنجیاں ، وچ مرزا یار پھرے‘ ۔ اب تو داروغہ والا سے ٹھوکر تک پہنچنے کے لئے مرزا یار کو گاندھی جی کے برعکس ، موٹر کار کی ضرورت ہو گی یا رکشہ کرانا پڑے گا ۔ بعض علاقوں میں پیدل نہ چلنا رتبہ کے مطابق ایک سماجی ضرورت بھی ہے ، اسی لئے گاندھی کے مقلدین کو مالیوں ، چوکیداروں اور سکیورٹی محافظین سے بار بار سننا پڑتا ہے ’ سر کیہہ گل اے ، اج پیدل جارہے او؟ ‘ پر راز کی بات یہ ہے کہ ہر لحظہ پھیلتے ہوئے اس شہر میں درمیانی مسافت کے اکثر فاصلے ہمارے اندازے کے مقابلے میں کہیں کم ہیں ۔

ذاتی تجربہ کو بنیاد بناؤں تو میرے گھر سے نیو کیمپس کے مین گیٹ کا فاصلہ ابتدائی خدشات کے برعکس چار کلو میٹر سے کچھ کم ہی نکلا ۔ یہ میرا حساب نہیں بلکہ گوگل میپ کی سائنسی شہادت ہے ۔ وقت کا پوچھیں تو معتدل سی رفتار پر پنتالیس منٹ ۔ اندازہ ہے کہ پرانے ائر پورٹ ، صفانوالہ چوک اور سمن آباد کے دوسرے گول چکر تک کا دورانیہ اس سے بھی تھوڑا ہوگا ۔ پھر گرد وپیش کا جائزہ لے کر آپ یہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ چائے کا اسٹال ، پھلوں کا رہڑا اور مونگ پھلی کا ٹھیلہ کہاں کہاں ہے ۔ میں نے پیدل سفر میں ایف سی کالج کے باہر یہ جلی عبارت غور سے پڑھی کہ ’ایک دوسرے کی خدمت پیار سے کرو‘ ۔ اسی پل کو پار کرتے ہوئے ماہر چشم ڈاکٹر علی حیدر زندگی کی مسافت پھلانگ گئے تھے ۔ اس دن گاندھی جی میرے ہمراہ ہوتے تو ضرور کہتے ’بائیبل کا یہ سبق پاکستانی مسلمانوں کے لئے ہے‘ ۔

مزید : کالم