شاہ سلمان کا عہدِ حکومت اور سعودی پالیسیوں کا تسلسل

شاہ سلمان کا عہدِ حکومت اور سعودی پالیسیوں کا تسلسل

سعودی عرب کے نئے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں، خادم الحرمین شریفین کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں شاہ سلمان نے کہا ملک موجودہ سمت میں ہی آگے بڑھتا رہے گا۔ ہم اللہ کی مدد سے اسی راستے پر چلیں گے جو مرحوم بادشاہ عبدالعزیز نے طے کیا تھا۔ سعودی عرب کے قیام سے اب تک کی پالیسیوں پر عمل کیا جائے گا۔ شاہ عبداللہ کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔ ملک کو نقصان سے بچانے کے لئے کام کروں گا۔ مغربی ممالک سے معتدل رویہ رکھنا ہوگا، امن کے لئے مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اسلامی ممالک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔

عالمِ اسلام میں سعودی عرب کو ایک خصوصی مقام اور سعودی حکمرانوں کو ایک خاص احترام و مرتبہ حاصل ہے۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہو گئے تھے۔ ہر کڑے وقت میں سعودی حکومت نے پاکستان کی دل کھول کر مدد کی، شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا یہ عزم خوش آئند ہے کہ سعودی عرب کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور شاہ عبداللہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سعودی عرب دنیا کے امن کے لئے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ شاہ سلمان کے بارے میں عمومی رائے یہ ہے کہ وہ مغرب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اعتدال پسندانہ خیالات رکھتے ہیں۔ نئے سعودی فرمانرواکاروبار حکومت و کارِ جہانبانی کے ساتھ ایامِ جوانی سے ہی وابستہ چلے آ رہے ہیں، وہ بیس سال کی عمر میں وزیر بن گئے تھے، پچاس سال تک سعودی پایہ تخت ریاض کے گورنر رہے۔2012ء میں انہیں ولی عہد بنایا گیا تھا۔ وزارتِ دفاع کا اہم منصب بھی ان کے پاس تھا، اس لحاظ سے وہ شاہ عبداللہ کے عہد میں ہی اہم ذمہ داریاں ادا کرنے لگے تھے۔ مرحوم شاہ نے اپنی علالت کے دوران بھی انہیں اپنے بعض اختیارات سونپ دیئے تھے، اب جب وہ سلطنت کے ساتویں بادشاہ کے منصب پر فائز ہو گئے ہیں انہوں نے دنیاکو باور کرادیا ہے کہ سلطنت کی پالیسیوں کا تسلسل جاری رہے گا۔

نئے ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز بھی پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں اور سیاسی بحرانوں کے دوران ہمیشہ مثبت کردار ادا کرتے رہے ہیں، اس لئے توقع کی جا سکتی ہے کہ سعودی حکومت کے نئے عہد میں بھی دونوں ملکوں کے قریبی تعلقات نہ صرف پہلے کی طرح قائم رہیں گے، بلکہ ان میں مزید خوشگوار اضافے بھی ہوں گے۔ مرحوم شاہ عبداللہ جب بطور ولی عہد پاکستان کے دورے پر آئے تھے تو انہوں نے بجا طور پر پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیا تھا۔سعودی حکومت کے دوسرے اہم وزراء اور سفیر حضرات بھی پاکستان کے بارے میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں، جس سے دونوں ملکوں کے قریبی تعلقات کا اندازہ ہوتا ہے، مشکل حالات میں سعودی حکمرانوں نے ہمیشہ دل کھول کر پاکستان کی مدد کی ہے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا سعودی عرب نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر دیئے تھے جسے سعودی حکومت کی خواہش پر خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی، لیکن جب معاملہ سامنے آ ہی گیا تو بعض حلقوں کی طرف سے ایسے خیالات کا اظہار بھی کیا گیا، جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق ہی نہ تھا اور وہ ایک دوست ملک کے جذبہء خیرسگالی کے متعلق بدگمانی پیدا کرنے کی ہی کوشش تھی، اسی سعودی عطیئے یاتحفے کی بنا پر پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی اور ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مستحکم ہو گیا اور ڈالر کے نرخ بھی کم ہو گئے جواب تک بڑی حد تک مستحکم چلے آ رہے ہیں۔ مشکل ایام میں جب عالمی منڈی میں تیل کے نرخ بہت بڑھ گئے تھے سعودی عرب تیل کی صورت میں بھی پاکستان کی امداد کرتا رہا ہے۔ یہ امداد مفت تیل کی صورت میں بھی ملتی رہی اور ادھار کی شکل میں بھی اور یوں پاکستان سعودی عرب کی معاونت سے اقتصادی مسائل سے بخیر و خوبی باہر آ گیا۔

عالم اسلام میں ایسے ملک اور ایسی قیادتیں بھی ہیں، جو سعودی عرب کی پالیسیوں کو پسند کی نگاہ سے نہیں دیکھتیں اور ان کے خیال میں ان سعودی پالیسیوں کی وجہ سے عالم اسلام کے اتحاد کی راہ میں رکاوٹیں آتی ہیں، لیکن ان چند ممالک کو چھوڑ کر مجموعی طور پر عالم اسلام سعودی پالیسیوں کو بنظرِ استحسان دیکھتا ہے اور انہیں مسلم امہ کے لئے مفید خیال کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پورے عالم اسلام میں شاہ عبداللہ کے انتقال پر دُکھ اور رنج کی لہر دوڑ گئی، ان ملکوں نے اپنے اپنے قومی پرچم سرنگوں کر دیئے اور سوگ منایا،فلسطین نے خاص طور پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سعودی قیادت اپنے دل میں عالمِ اسلام کے لئے کیا جذبات رکھتی ہے۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے عالم اسلام کے اتحاد پر زور دیا ہے جو وقت کا تقاضا ہے اس وقت مسلم امہ کو جو چیلنج درپیش ہیں ان کا مقابلہ متحد ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی بہت بڑا مسئلہ ہے جسے عالمِ مغرب کے کچھ حلقے اسلام کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پیرس (فرانس) کے حالیہ واقعات کے بعد بھی ایسی کوششیں کی گئیں حالانکہ وہاں مسلمانوں نے غیر مسلموں کی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا اور اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر غیر مسلموں کی زندگیاں بچائیں۔ لیکن پیرس کے واقعات کے بعد مسلمانوں کی مساجد پر اشتعال انگیز تحریریں لکھی گئیں اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے لئے گستاخانہ خاکوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا، دنیا بھر میں اس اشتعال انگیز حرکت پر دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے اور احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ان حالات میں سعودی عرب کی نئی قیادت کو آگے بڑھ کر قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے اور مغربی ملکوں پر واضح کر دینا چاہیے کہ عالم اسلام کو مشتعل کرکے تہذیبوں کے تصادم کی راہ ہموار کرنے کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔ شاہ سلمان اپنی اعتدال پسند شخصیت کی وجہ سے مغرب کے ساتھ معتدل تعلقات کے داعی ہیں اور امید ہے مغربی ملک بھی ان کی شخصیت کے اس پہلو سے فائدہ اٹھا کر عالمِ اسلام کے ساتھ اپنی غلط فہمیاں دور کرلیں گے۔

مزید : اداریہ