سانحہ پشاور میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ملوث ہونے کے اشارے

سانحہ پشاور میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ملوث ہونے کے اشارے

لاہور(شعیب بھٹی )سانحہ پشاور میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی (این ڈی ایس ) کے ملوث ہونے کے اشارے ملے ہیں جوپاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کو مبینہ طور پر سپورٹ کر رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق سانحہ پشاور کے حوالے سے ذرا ئع نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس (نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی) پاکستان میں کام کررہی ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کو مبینہ طور پر سپورٹ کر رہی ہے، شبہ ہے کہ سانحہ پشاور میں اسی کا ہاتھ ہوسکتا ہے ۔انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق پاکستان کے پاس تو اس ضمن میں کافی حد تک شواہد بھی موجود ہیں کہ افغانستان سے دہشت گردی کو کنٹرول کیا جا رہا ہے ۔واضح رہے کہ این ڈی ایس کو 2002ء میں امریکا نے بنایا تھاجبکہ این ڈی ایس کے پہلے سربراہ امراللہ صالح تھا جو پاکستان کا سخت ترین مخالف تھا جبکہ اس کی تربیت بھی بھارت سے کرائی گئی تھی ۔ پاکستان کی طرف سے شکایات کرنے پرامراللہ صالح کو 2010 میں حامد کرزئی نے ان کے عہدہ سے ہٹا دیا تھاتاہم اب جبکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں تو مبینہ طور پراین ڈی ایس پاک افغان تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔یادر رہے کہ سانحہ پشاورکے بعد فوری طور پر آرمی چیف اور ڈی جی ائی ایس آئی کا دورہ افغانستان بھی یہ ظاہرکرتا ہے کہ اس دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان میں جاملتے ہیں۔دریں اثناء سانحہ پشاور کی تحقیقات کی میں پیش رفت ہوئی ہے اور دہشت گردوں کے زیر استعمال موبائل سمیں لاہور سے جاری ہوئیں جس میں 2افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے ،دونوں کے ان سموں سے افغانستان میں ملا فضل اللہ سے بھی رابطے کے بھی شواہد ملے ہیں جبکہ اس ضمن میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

مزید : علاقائی