پٹرولیم بحران :10مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھاری جرمانے کرنے کا فیصلہ

پٹرولیم بحران :10مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھاری جرمانے کرنے کا فیصلہ

                                                                  اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن / این این آئی) حکومت نے پٹرول بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے متعدد فیصلے کئے ہیں جن میں سابق منیجنگ ڈائریکٹر پی ایس او امجد جنجوعہ کیخلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنا بھی شامل ہے جبکہ دس مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھاری جرمانہ کیا جائے گا۔تفصیل کے مطابق آئل اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پنجاب میں پیٹرولیم کے حالیہ بحران پر 10 مارکیٹنگ کمپنیوں کو پاکستان پیٹرولیم رولز کی خلاف ورزی کا مرتکب ہونے پر بھاری جرمانہ عائد کرنے فیصلہ کر لیا ہے۔اوگرا نے پیٹرول بحران پر ابتدائی تحقیقات مکمل کر لی ہے اور شوکاز نوٹس ملنے پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے بھی اوگرا میں جواب جمع کرا دیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پاکستان پیٹرولیم رولز کی خلاف ورزی کی مرتکب قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت کم ہونے کے باعث 10 مارکیٹنگ کمپنیوں نے 20 روز کیلئے پیٹرول کا سٹاک برقرار نہیں رکھا۔رپورٹ کے مطابق پی ایس او، شیوران، شیل، اٹک پیٹرولیم ، ایڈمور، آسکر، باکری اوور سیز آئل اور بائیکو کو پاکستان پیٹرولیم رولز کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار قرار دیا گیا ہے اور ان کمپنیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔ آن لائن کے مطابق ملک بھر میں پٹرول بحران کے ذمہ دار قرار دیئے گئے سابق ایم ڈی پی ایس او امجد جنجوعہ کیخلاف نیب میں ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ وفاقی حکومت نے ان کا نام ای سی ایل میں بھی ڈال دیا ہے تاکہ وہ بیرون ملک فرار نہ ہوسکیں ۔یہ فیصلہ حکومت کی اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد کیا گیا اس حوالے سے وزارت پٹرولیم اور قدرتی وسائل کی طرف سے تمام ضروری اقدامات کرلئے گئے ہیں جبکہ نیب کو بھی اس حوالے سے آگاہ کردیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ پٹرول کے بحران پر وزیراعظم نے نوٹس لیتے ہوئے سابق ایم ڈی پی ایس او امجد جنجوعہ سمیت سابق وفاقی سیکرٹری پٹرولیم و ایڈیشنل سیکرٹری سمیت دیگر افسران کو معطل کردیا تھا جبکہ تحقیقاتی کمیٹی نے بھی ان کی معطلی کو برقرار رکھنے کی سفارش کی تھی ۔ تحقیقاتی کمیٹی طرف سے کی گئی انکوائری کے بعد امجد جنجوعہ پٹرول بحران نے ذمہ داری ، لاپرواہی اور بدعنوانی کے حوالے سے ٹھوس شوائد سامنے آئے ہیں جس پر یہ معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لایا گیا تو وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ فوری طورپر یہ کیس تحقیقات کیلئے نیب کو بھجوایا جائے۔

مزید : صفحہ اول