اوباما کا دورہ بھارت،خطے میں نئی سرد جنگ کا امکان بڑھ گیا

اوباما کا دورہ بھارت،خطے میں نئی سرد جنگ کا امکان بڑھ گیا
اوباما کا دورہ بھارت،خطے میں نئی سرد جنگ کا امکان بڑھ گیا

  


لاہور (ویب ڈیسک)امریکا نے اگر بھارت کو ترجیح دی تو پاکستان کو بھی نئے افق تلاش کرنے پڑیں گے، امریکی صدربارک اوباما کا دورہ بھارت خطہ میں ایک نئی سرد جنگ شروع ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔ علاقائی سیاست کے ماہرین نے اوباما کے دورہ بھارت کو خطہ کے دو روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان مزید کھچاو¿کے ایک محرک کے طورپر لینا شروع کردیا ہے اور ان کی رائے میں امریکاکی خطہ میں علاقائی ترجیح اگر بھارت ہے تو پاکستان کیلئے علاقائی صورتحال میں اپنے کردار کے تعین کیلئے نئے افق تلاش کرنے کی ضرورت بڑھ گئی ہے اور وہ مستقبل میں امریکا کے سہولت کنندہ کے بجائے چین کے ساتھ مضبوط شراکت داری کی جانب دیکھ رہا ہے ۔

چین اور روس امریکا سے مقابلہ کیلئے نئے نئے طریقوں پر غورکررہے ہیں جبکہ امریکا چین کی معاشی سبقت کا خاتمہ اور روس کی ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست میں پیش قدمی کاراستہ روکنا چاہتا ہے ، چنانچہ امریکا چین کا مقابلہ علاقے میں بھارت کو نئی طاقت اورتوانائی دے کر کرنا چاہتا ہے جبکہ چین اپنی روایتی سیاست کے ذریعے بھارت کو معاشی مفادات میں غیرجانبدار رکھنا چاہتا ہے اور خطہ میں حریفوں کے بجائے حلیفوں کا ماحول پیدا کرکے اپنی تیز رفتار معاشی پیش قدمی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے جس کیلئے وہ پاکستان کو خوشحالی کی نئی راہداری کے طورپر دیکھتا ہے اور اسے وسط ایشیائی ریاستوں سے لے کر بھارت تک معاشی سرگرمیوں کے لئے ایک محوری ریاست سمجھتا ہے۔

بھارت کی موجودہ حکومت نے اس حوالے سے جوپالیسی اختیار کی ہے اس ضمن میں پاکستان نے امریکا کو بروقت آگاہ کررکھا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورہ پاکستان میں انہیں فوج اور سرکاری حلقوں کے ذریعے ان تمام حقائق سے آگاہ کیا گیا تھا مگر امریکا اپنی پالیسی میں ایک جوہری بدلاو¿ لا چکا ہے مگرپاکستان کی اشک شوئی کرنے کیلئے تیار نہیں۔

امریکی صدر کا دورہ بھارت سے دو روز قبل بیان بھی اسی کا آئینہ دار ہے جس میں انہوں نے بھارت کو ایک طرف گلوبل پارٹنر قرار دیا جبکہ پاکستان کیلئے وہی پرانے الفاظ د ہرائے جس کے تحت دہشت گردوں کا تعاقب جاری رکھنے کیلئے پاکستانی علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ امریکی صدر کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی پچھلے چند دنوں سے جاری امریکا کے حوالے سے سرگرمیاں ناکام رہی ہیں۔اوباما کا دورہ بھارت بش کے دورہ بھارت سے مختلف نہیں وہی زبان و بیان’ وہی دباو¿ اور وہی علاقائی کھیل میں بھارت کی پشت پناہی۔ امریکی صدر کے اس بیان کے بعد بھارت میں خوشگوار فضا پیدا ہوگئی ہے اور بھارتی ذرائع ابلاغ اس حوالے سے بغلیں بجا رہے ہیں۔ دوسری طرف بھارت نے بھی نہایت چابکدستی اور مہارت سے اپنی وزیرخارجہ سشما سوراج کے ذریعے پیشکش کی کہ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش سے ازسرنو اچھے تعلقات چاہتا ہے۔

ایک طرف بھارت نے پاکستان کو بنگلہ دیش کے ساتھ شامل کرکے اپنے علاقائی کردار میں چودھراہٹ پر مبنی مزاج کو ظاہر کیا تو دوسری طرف امریکی صدر کے دورہ بھارت سے پہلے امریکیوں کیلئے ایک سفارتی بند باندھا ہے تاکہ امریکا کی طرف سے پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے کیلئے کسی دباو¿ کوپیدا کرنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔

مزید : بین الاقوامی