وطن میں ہم لوڈشیڈنگ مزید سے مزید تر بڑھائیں گے

وطن میں ہم لوڈشیڈنگ مزید سے مزید تر بڑھائیں گے
وطن میں ہم لوڈشیڈنگ مزید سے مزید تر بڑھائیں گے

  

یہ نواز شریف کے دوسرے دور کی بات ہے کہ جب پی ٹی وی پر بہت زور و شور سے ایک گانا چلایا جاتا تھا ”وطن کو ہم عظیم سے عظیم تر بنائیں گے۔ ہم اپنے ملک کا وقار روز و شب بڑھائیں گے“ اس گانے میں وزیراعظم نواز شریف کی فوٹو اس امید کے ساتھ چلائی جاتی تھی کہ پاکستان آنے والے سالوں میں ایک بہت بڑی طاقت بن جائے گا۔نہ لوڈشیڈنگ اور نہ کوئی امن و امان کا مسئلہ۔اور تو اور اپوزیشن بھی نہیں تھی کہ انہیں تنگ کرتی۔ہاں،بس ایک یا دو بار پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی ہوئی اور تب انہوں نے امریکہ سے اس کا’سخت ‘احتجاج بھی کیا ۔کیونکہ وہ پاکستان کی خود مختاری پر بہت یقین رکھتے ہیں اس لئے یہ احتجاج بنتا تھا۔

 کئی لوگ اس بات پر یقین رکھنے لگے تھے کہ اگر پاکستان ترقی کرسکتا ہے تو وہ صرف اور صرف میاں نواز شریف کی قیادت میں ممکن ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس وقت ہماری معیشیت کی شرح نمو(گروتھ ریٹ) چار فیصد سے بھی کم تھا جبکہ سٹاک مارکیٹ بھی اپنے دور کے بدترین بحران سے دوچار تھی ،روزگار کے لئے لوگ مارے مارے پھرتے تھے ، مڈل کلاس بھی مسائل کا شکار تھی لیکن یہ کون سی بڑی بات ہے۔چونکہ اس وقت بجلی کی زیادہ ضرورت نہیں تھی اس لئے انہوں نے ایک بھی پاور پلانٹ لگانے کو اہمیت نہیں دی، اصل چیز تو موٹر وے تھی جو انہوں نے بنا ڈالی۔ان کے سامنے بظاہر کوئی بھی مشکل نظر نہیں آرہی تھی لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا اور ان کی حکومت ختم کردی گئی اور انہیں سعودی عرب بھیج دیا گیا ۔ وطن ان کی غیر موجودگی میں بھی تیزی سے ترقی کر رہا تھا ، ایک آمر (صدرمشرف) کے دور میں شرح نمو دس فیصد تھا ،عوام کا معیار زندگی بہتر ہوا تھا ،سٹاک مارکیٹ میں شدید تیزی،مڈل کلاس کا معیار زندگی بلند ہوا ، بینکوں اور انڈسٹری میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے لیکن پھر بھی وہ مزہ نہیں تھا جو میاں نواز شریف اور جمہوریت میں آتا ہے۔

وقت گزرتا گیا اور وہ دن آیا جب وہ وطن واپس لوٹے ۔انتہائی مشکل حالات کا سامنا انہوں نے کیا ، ان کے بھائی نے پنجاب میں ’مجبوراً‘حکومت سنبھالی اور آمریت سے چھٹکارہ پانے کے لئے ترقی کے تمام منصوبے ختم کردئیے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ آمر کا ایک منصوبہ 1122بھی ختم کرنا چاہتے تھے لیکن بہت مشکل سے اسے جاری رکھنے پر راضی ہوئے۔انہوں نے نندی پور پاورپراجیکٹ شروع کیا لیکن یہ بیل بھی منڈھے نہیں چڑھالیکن ایسی کئی ’چھوٹی چھوٹی‘غلطیو ں کو وہ کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے ۔

میاں نواز شریف نے 2013ءمیں مرکز میں حکومت بنائی۔چونکہ لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی کو اجیرن بنا رکھا تھا اس لئے انہوں نے الیکشن سے قبل ہی عوام سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ اس بحران پر قابو پا لیں گے ،اپنی تمام کوششوں اور ’تجربہ کار قیادت‘ کے ساتھ اس بحران پر اس حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوئے کہ جہاں کبھی سردیوں میں بجلی کاایک بریک ڈاﺅن ہوتا تھا اب اس کی جگہ یہ بریک ڈاﺅن چار بار ہو چکا ہے۔کیا ہوا اگر وہ معیشیت کو ترقی نہیں دے پائے، ایک چیز تو یقینی ہے کہ انہوں نے لوڈشیڈنگ کو بہت ترقی دی ہے۔ انہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دیا لیکن اب یہ نیوکلئیر ملک ایک ایک میگا واٹ بجلی کو ترستاہے ۔ اب 1997ءمیں چلنے والے گانے کو تھوڑا سا تبدیل کرکے دوبارہ چلانے کی ضرورت ہے اور نیا گانا کچھ ایسا ہوگا’وطن میں ہم لوڈشیڈنگ مزید سے مزید تر بڑھائیں گے۔ہم اپنے ملک کو اندھیروں میں ڈبو جائیں گے‘

مزید :

بلاگ -