لیجنڈ محمد علی نے باکسنگ کیوں شروع کی؟انتہائی دلچسپ کہانی

لیجنڈ محمد علی نے باکسنگ کیوں شروع کی؟انتہائی دلچسپ کہانی
لیجنڈ محمد علی نے باکسنگ کیوں شروع کی؟انتہائی دلچسپ کہانی

  


نیویارک (نیوز ڈیسک) محمد علی کلے کا شمار تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے اور خصوصاً باکسنگ کی دنیا میں تو انہیں دیوتا مانا جاتا ہے۔ وہ 17 جنوری 1942ءکو امریکی شہر لوئسویل کے ایک پسماندہ علاقے میں پیدا ہوئے اور سیاہ فام ہونے کی وجہ سے بچپن میں گوروں کے استعمال کا شکار رہے۔ جب ایک روز 12 سالہ کلے اپنے ایک دوست کے ساتھ لوئسویل شہر کے سالانہ کنونشن میں گئے اور وہاں آئس کریم اور پاپ کارن کھانے کے بعد باہر آئے تو دیکھا کہ ان کی سائیکل چوری ہوچکی تھی۔ وہ شدید برہم ہوئے اور قریب موجود باکسنگ جم کے انسٹرکٹر کے فرائض سرانجام دینے والے پولیس اہلکار جومارٹن کے پاس شکایت کیلئے گئے۔

وہ باتیں جو مر د خواتین کی نہیں سننا چاہتے ،جاننے کیلئے کلک کریں

ان کا کہنا تھا کہ وہ چور کے ملنے پر اس کی ایسی مرمت کریں گے کہ اسے نانی یاد آجائے گی۔ پولیس والا بچے کے جارحانہ انداز سے بہت متاثر ہوا اور اسے لڑنے سے پہلے باکسنگ سیکھنے کا مشورہ دیا۔ یہ کلے کے شاندار باکسنگ کیریئر کا پہلا قدم تھا اور جو مارٹن ان کے پہلے استاد تھے۔ وہ اس وقت اپنے ابتدائی نام Cassius Marcellusسے جانے جاتے تھے۔ اس بچے نے بہت کم وقت میں اس قدر ماہرانہ انداز میں باکسنگ کھیلنا شروع کردی ہے کہ سب حیران رہ گئے۔ ان دنوں سونی لسٹن نامی ایک باکسر کو دنیا کا خطرناک ترین باکر سمجھا جاتا تھا اور وہ اپنی دہشت اور خونخواری کیلئے خصوصی شہرت رکھتا تھا۔

 نوجوان کلے نے اس خطرناک باکر کے ساتھ لڑنے کا فیصلہ کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہ تھ کہ ایک نوجوان باکسر لسٹن جیسے خطرناک ریچھ کے سامنے ٹھہر پائے گا۔ میچ شروع ہوا تو لسٹن پر ایسے مکے برسانا شروع ہوئے کہ چھٹے راﺅنڈ میں جاکر اس نے اپنے ساتھیوں سے کہنا شروع کردیا کہ وہ ساتویں راﺅنڈ میں نہیں جائے گا لیکن جب اسے ساتویں راﺅنڈ کیلئے تیار کیا جانے لگا تو وہ چیخ اٹھا کہ بس اب وہ اور نہیں لڑسکتا۔ لسٹن نے شکست کا بدلہ لینے کیلئے مئی 1965ءمیں دوبارہ مقابلہ طے کرلیا۔

 اب اس کے مقابل کلے قبول اسلام کے بعد محمد علی کلے بن چکے تھے۔ لسٹن پچھلی شکست لینے کیلئے سخت مضطرب تھا اور نہایت جوش سے میدان میں اترا۔ میچ شروع اور پہلے راﺅنڈ کے پہلے ہی منٹ میں ”ریچھ“ کو محمد علی کا ایسا مُکا پڑا کہ وہ جہاں کھڑا تھا وہیں ڈھیر ہوگیا۔ دنیا کا خوفناک ترین باکسر جس طرح لمحوں میں ناک آﺅٹ ہوا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اس کلے کو باکسنگ کی تاریخ کا خطرناک ترین مکہ کہا جاتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس