جہد مسلسل کی علامت، صاحبزادہ عطاء المصفیٰ نوریؒ

جہد مسلسل کی علامت، صاحبزادہ عطاء المصفیٰ نوریؒ

  

علامہ عطاء المصفیٰ نوریؒ سے میری پہلی ملاقات 1995 ء میں میرے ہاں منعقدہ محفل میلاد میں ہوئی جہاں انہوں نے اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا بریلویؒ کی نعت ۔۔۔ ’’چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے‘‘پڑھی اور حاضرین کی کیفیات میں تغیر پیدا کر دیا۔اس کے بعد نعت کی ڈوری نے ہمیں اس طرح سے باندھ دیا کہ پتہ ہی نہیں چلاکہ کب بیس سال گزر گئے۔جود و سخا کا یہ پیکر جسے نہ لباس کی فکر ہوتی نہ وقت کی قید اس کے راستے کی رکاوٹ بنی، سواری کی فکر نہ پیسے کی، کبھی تو حیرت ہوتی کہ یہ کیسا شخص ہے جب چاہتا ہے، جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے ،نہ اسے مصروفیات قید کرتی ہیں نہ معاملات میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔اس کے پاس کس خزانے کی کنجیاں ہیں کہ لٹاتا ہی چلا جاتا ہے اور ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔فرشتوں جیسی صفات رکھنے والے ڈاکٹر غلام قادر فیاض جو ہونٹ کٹے ،تالو کٹے بچوں کا مفت علاج کرتے ہیں،ہر ماہ سینکڑوں بگڑے چہرے سرجری کے ذریعے درست کرتے ہیں اور ان پر مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں،انہوں نے کافی عرصے تک نہیں بتایا کہ ان کے پاس اتنا فنڈ کہاں سے آتا ہے کہ ایک جگہ کیمپ لگاتے ہیں تو ڈیڑھ دو سو مریضوں کا آپریشن کر لیتے ہیں ،جبکہ ایک مریض پر 50,000روپے خرچہ آتا ہے۔ان کی این جی او’’ CLAP‘‘کیسے چلتی ہے ؟بس اتنا کہہ دیتے تھے کہ فیصل آباد کی ایک شخصیت ہے ہمیں جو سب سے زیادہ پیسے دیتی ہے اور وہ نام بھی ظاہر کرنا نہیں چاہتی۔بڑی حیرت ہوتی تھی کہ ایسا کون سا بندہ ہے جو اتنا خرچ کرتا ہے اور سامنے بھی نہیں آتا۔بالآخر یہ عندیہ دیا کہ وہ خفیہ شخصیت صاحبزادہ عطاالمصفیٰ نوریؒ ہیں۔

آپ کو اللہ تعالی نے بے پناہ صبر اور حوصلے سے نوازا تھا۔والد کی شہادت کے پس پشت حالات جاننے کے باوجود معاملات اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیئے اور والد کے مشن کو پھیلانے کا عزم لے کر نکل پڑے، پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔بے شمار مد رسے ان کے زیر سایہ چل رہے ہیں، اَن گنت مساجد کی سرپرستی ان کے پاس ہے،سینکڑوں بچیوں کی شادیاں کروائیں ،قران کا انگریزی اور مختلف زبانوں میں ترجمہ کروا کر اشاعت کروائی، بے شمار غریب اور یتیم بچوں کی کفالت اور ان کی تعلیم، محافل نعت کا آغاز ، اولیائے کرام اور عظیم ہستیوں کے ایام پر سمینار اور بے شمار کام انہوں نے اپنے ذمہ لے رکھے تھے۔کچھ عرصہ قبل شروع ہونے والا ٹی وی چینل،جس نے دنوں میں اپنا مقام بنایا،اس کے ڈائریکٹر مذہبی امور صاحبزادہ عطاء المصفیٰ نوریؒ تھے اور دنوں میں شہرت پانے والے چینل کی وجہ شہرت اب سامنے آئی۔صاحبزادہ عطاالمصفیٰ نوریؒ واقعی آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عطا تھے۔اللہ تعالیٰ پر یقین اور حضورؐسے محبت کا یہ عالم تھا کہ کبھی پریشان نہیں ہوتے تھے، گویا انہیں اطلاع ہوتی تھی کہ یہ امور کیسے سر انجام دینے ہیں۔پوری دنیا میں اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا بریلوی کی تعلیمات کو فروغ دینے میں سرگرم یہ شخصیت ہمیشہ کلیدی کردار ادا کرنے میں محونظر آئی۔آپ کی یہ خاصیت تھی کہ آپ مدرسوں کو روایتی انداز میں چلانے کے قائل نہیں تھے،بلکہ انہیں کمپیوٹر اور جدید علوم سے آراستہ کر کے طلبہ و طالبات کو معاشرے میں اعلیٰ مقام دلوانے میں کوشاں رہے۔

علامہ صاحبزادہ عطاء المصفیٰ نوریؒ نے ہمیشہ اپنے مشن کو فوقیت دی تھی،پوری دنیا میں جہازوں پر سفر کرنے والا یہ درویش اپنی جہد مسلسل کے لئے فیصل آباد میں موٹر سائیکل پر ادھر اُدھرکسی نوجوان کی طرح بھاگتے نظر آئے۔شمع رسالتﷺ کا یہ پروانہ جس نے محبت رسول اللہﷺ کو زندگی کا محور اور مرکز بنا رکھا تھا، اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا بریلویؒ کی نعت پڑھنے میں بڑا مقام رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی ثنا بیان کرنے کے لئے انہیں اتنی خوبصورت آواز عطا کی تھی کہ راہ چلتے لوگ رک جاتے تھے۔بے مثل کمالات اور بے پایاں انعامات سے مزین اس عظیم ہستی نے اپنے علم و دانش کو ہمیشہ تبلیغ و اشاعت اور خدمت خلق کے لئے وقف رکھا۔تسلیم و رضا کا یہ پیکر اپنی فہم و فراست کے باعث منصب رفیع پر نہ صرف فائز تھا، بلکہ عصر حاضر میں اس گلشن عالم میں بسنے والے بے شمار ٹوٹے دلوں کا سہارا بھی تھا۔قدرت کاملہ کی جانب سے عطا کردہ جاہ و جلال ، عظمت وکبریائی اور شعور و ادارک کو حقیقی کامیابی و کامرانی کے ساتھ خلقت میں بانٹنے میں ہمہ وقت مگن رہتے۔

صاحبزادہ عطاالمصفیٰ نوریؒ کی ساری زندگی عشق مصطفی ﷺ میں جہد مسلسل کی طرح گزری۔گردش لیل و نہار اور زمانے کی چیرہ دستیاں سب ان کے اخلاص و محبت کے سامنے بے بس نظر آئے۔ان کے چہرے کی طمانیت و تسکین ،دلنوازی اور دِلربائی قدرت کے اثمار میں سے ایک تھی۔آپ کی قوت نظر اور قوت عمل آپ کے علم و عرفان کی مظہر تھی۔آپ مالک کائنات کی شان کریمی اور محبوبیت کی خلعت فاخرہ سے سرفراز تھے،یہی وجہ تھی کہ دنیاوی چمک دھمک، جاہ و جلال آپ کی عظمت و شوکت کے سامنے نہیں ٹھہر تا تھا۔آپ کی فصا حت و بلاغت کے سب معترف ہیں۔ عشق رسولﷺ کا یہ عالم تھا کہ انتہائی علالت میں جب آپ کی تیمارداری کے لئے احباب گئے تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور قصیدہ بردہ شریف بڑی عقیدت سے پڑھا ،زبان سے کلمہ شریف اور درود پاک پڑھتے رہے۔

میری مٹی جو اس مٹی میں مل جائے تو بہتر ہے

کہ اس مٹی سے تھوری دور ہے مٹی مدینے کی

اگر پوچھا گیا طیبہ کو جائے گا کہ جنت میں

تو کہہ دوں گا مجھے منظو ر ہے مٹی مدینے کی

علم و عرفان کا یہ رخشندو تا بندہ تارا، جودوسخا کا پیکر ، اطاطت و اتباع کا مظہر، شمع عشق محمدﷺ کا پروانہ جلال خداوندی کے انوار و تجلیات سمیٹے ہوئے نعت رسولﷺ پڑھتے ہوئے10جنوری2016ء کو اس فانی جہاں سے ابدی سفر پر روانہ ہو گیا اور اپنے پیچھے بے شمار انمٹ نقوش چھوڑ گیا۔صاحبزادہ عطاالمصفیٰ نوری نے دینی خدمات اور فروغِ قرآن و نعت کے جو سنگ میل طے کئے ہیں،یہ ا نہی کا خاصہ ہے۔دنیا سے رخصتی نعت پڑھتے ہوئے ہوئی۔ فرشتوں نے اس عاشق رسولﷺکا آگے بڑھ کر استقبال کیا ہوگا،جس کی ساری زندگی خدمت خلق اور عشق رسولؐ میں گزری۔ لحد میں اتارتے وقت نعتوں کی برسات ،درودوں کے گجرے نچھاور کئے گئے ہوں جس کی پہچان نعت اور محبت رسولﷺ ہو،جو مخلوق کے لئے اپنی جان وقف کر دے،اللہ کے ہاں اس کا مقام کیا ہو گا؟

لحد میں عشق رُخ شَہ کا داغ لے کے چلے

اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کے چلے

تیرے غلاموں کا نقش قدم ہے را ہ خدا

وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے

مزید :

کالم -