پانامہ کیس میں فیصلہ کن موڑ

پانامہ کیس میں فیصلہ کن موڑ
پانامہ کیس میں فیصلہ کن موڑ

  

پانامہ کیس کے حوالے سے بی بی سی کی رپورٹ کے بعد اب جرمن اخبار کی رپورٹ بھی سامنے آ گئی ہے جس کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اب تو شریف خاندان کی کرپشن بے نقاب ہو گئی ہے اور اب تو کسی قسم کے ثبوت کی بھی ضرورت نہ ہے۔ یہ تاثر اس لئے بھی قائم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ہم پاکستانی میڈیا کی نسبت بیرونی میڈیا خاص کر مغربی میڈیا کی رپورٹس پر زیادہ یقین رکھتے ہیں بلکہ ہمارے ہاں تو مغربی میڈیا کو آسمانی صحیفے کا درجہ حاصل ہوتا جا رہا ہے ، ہماری سیاسی جماعتیں اور مختلف گروپس بھی آج کل ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے بیرون ممالک سے ایسی خبریں باقاعدہ منصوبہ بندی سے جاری کروا رہے ہیں تاکہ بیرونی میڈیا کی رپورٹس کی بنیاد پر کسی کو برا یا اچھا ثابت کیا جا سکے۔ ایسی میڈیا رپورٹس کا معاملہ نیا نہیں ہے ایک وقت تھا کہ کچھ حضرات نے بیرونی میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے پاکستانی فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی تھی بلکہ ایسی کوشش کئی بار کی گئی اسی طرح عمران خان کے بارے بھی ماضی میں انٹر نیشنل میڈیا کی جانب سے کئی رپورٹس جاری کروائی جاتی رہی ہیں اور ایسی مینجمنٹ میں نواز لیگ نمبر ون رہی ہے ، ایک وقت تھا جب سیتا وائٹ کو عمران خان کیخلاف کھڑا کرنے کیلئے باقاعدہ امریکہ میں مقیم ایک صحافی کو استعمال کیا گیا جن کی سیتا وائٹ کے ساتھ دیرینہ دوستی تھی اور مذکورہ صحافی کو سیتا وائٹ کو عمران خان کیخلاف کیس کرنے کیلئے راضی کرنے کیلئے عوض ایک اہم ملک کی سفارت کاری دینے کا وعدہ کیا گیا تھا جس پر بعد ازاں کام مکمل ہونے کے بعد عمل نہ کیا گیا اور اس کیس کے حوالے سے بھی مغربی میڈیا کے ذریعے عمران خان کیخلاف متعدد خبریں شائع ہوئیں یا پھر کروائی گئیں اس طرح الطاف حسین جو لندن میں مقیم ہیں ان کے بارے میں بی بی سی کی رپورٹ نے وہ کام کر دکھایا جو پاکستانی میڈیا کئی سال کی دن رات کی محنت سے بھی نہ کر سکا۔ ایگزیکٹ اور بول کے حوالے سے بھی امریکہ سے ایک ایسے صحافی نے خبر دی جو پاکستان سے ناپسندیدہ قرار دینے کے بعد نکالے گئے تھے اور اس خبر کو بنیاد بنا کر حکومت اور حکومتی اداروں نے چڑھائی کر دی اور پھر کیا کچھ ہوا اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب پانامہ کیس کے حوالے سے دنیا بھر کے 400 سینئر تحقیقاتی صحافیوں نے باقاعدہ تحقیق کے بعد ہزاروں کی تعداد میں ڈاکومنٹس کو پبلک کیا جس میں میاں نواز شریف کے صاحبزادوں اور صاحبزادی کے بارے بھی تفصیلات موجود ہیں اب اسی حوالے سے بی بی سی اور جرمن اخبار کی رپورٹ بھی سامنے آ گئی۔ میڈیا کے عالمی اداروں کی رپورٹس کو بعض حلقے شک کی نظر سے بھی دیکھ رہے ہیں ایسے افراد یا حلقوں کا خیال ہے کہ ایسے حالات میں جب میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کیخلاف سپریم کورٹ میں ایک حساس نوعیت کے کیس کی سماعت جاری ہے عالمی ادارے خبریں بریک کیوں کر رہے ہیں یا پھر کوئی لابی ہے جو ایسی خبروں کو جاری کروانے میں کردار ادا کر رہی ہے ، حکومتی حلقوں کی طرف سے بھی بیرونی خبروں کو شاکی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ رانا ثناء اللہ تو کہتے ہیں کہ جن قوتوں نے زیڈ اے بھٹو کو راستے سے ہٹایا تھا وہی قوتیں نواز شریف کے پیچھے پڑی ہیں۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ میرے خیال میں ابھی تک پانامہ کیس کا آغاز ہی نہیں ہوا ، پانامہ کیس کا آغاز اس دن ہو گا جب عدالت نواز شریف کو طلب کریگی اور ان سے منی ٹریل ، ٹیکس کے معاملات اور اکاؤنٹس وغیرہ کا حساب مانگے گی۔ گزشتہ روز جماعت اسلامی کے وکیل نے بھی اپنے دلائل مکمل کئے جو ایک لحاظ سے بہت دلچسپ رہے، جماعت اسلامی کے وکیل نے جب پانامہ لیکس کیس پر دلائل دیتے ہوئے ظفر علی شاہ کیس کا حوالہ دیا تو بنچ میں موجود فاصل ججز صاحبان نے الٹا ان کو بے بس کر دیا۔ جسٹس عظمت سعید نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ آپ نے لگتا ہے کہ ظفر علی شاہ کیس کی فائل بھی پوری طرح نہیں پڑی، پھر کہا گیا کہ آپ نے اپنے موکل کو اپنے دلائل سے بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے جس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ آپ کی اس بات کی مجھے بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ایک طرف عدالت کے اندر جماعت اسلامی کے وکیل کی کلاس لی جا رہی تھی تو دوسری طرف عدالت کے باہر ن لیگ کے ترجمان جماعت اسلامی کو وکیل تبدیل کرنے کا مشورہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ جماعت اسلامی دوغلا پن کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی ایک طرف خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی اتحادی ہے دوسری طرف سپریم کورٹ میں کرپشن کے خاتمے اور اداروں کی مضبوطی کا کیس لڑ رہی ہے اگر جماعت اسلامی واقعی اداروں کی مضبوطی چاہتی ہے تو پھر ان کو یہ جنگ خیبر پختونخواہ میں لڑنی چاہئے جہاں پر گزشتہ ڈیڑھ سال سے احتساب کمیشن کا نیا ڈی جی نہیں لگایا جا سکتا جبکہ پی ٹی آئی کے ترجمان ہمیشہ کی طرح گزشتہ روز کے جماعت اسلامی کے دلائل کو بھی اپنی فتح قرار دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اب دلائل مکمل ہو چکے اب وزیر اعظم اور ان کے خاندان کو منی ٹریل دینی پڑے گی اور قطرے شہزادے کے خط کی اصل کہانی عدالت کے سامنے رکھنی پڑے گی حالانکہ اس سے قبل پی ٹی آئی کے وکیل دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے عدالت کو پانامہ کیس کی منی ٹریل بتا دی ہے اس بارے تمام ثبوت پیش کر دیئے ہیں اب پی ٹی آئی کے وکلا کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کو اپنی جائیداد کی تفصیلات سے آگاہ کرنا ہو گا اب تک کی عدالتی کارروائی کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال کچھ یوں سامنے آتی ہے کہ معزز عدالت کے فل بینچ کے ریمارکس اور سوالات پر سپریم کورٹ کے باہر پی ٹی آئی ، جماعت اسلامی اور ن لیگ کے ترجمانوں کی گفتگو نے عام آدمی کو کنفیوژ کر کے رکھ دیا ہے ایک طرف عدالت سے اس قدر توقعات وابستہ ہیں کہ پی ٹی آئی اور اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد چاہتے ہیں کہ عدالت راتوں رات نہ صرف وزیر اعظم کو نا اہل کر دے بلکہ ساری کی ساری حکومتوں کو ختم کر کے کل ہی نئے سیاسی سیٹ اپ یا کم از کم نئے انتخابات کا اعلان کر دیا جائے جبکہ ن لیگ بھی اپنے وکیلوں اور مخالفین کے دلائل کی روشنی میں کہہ رہی ہے کہ عدالتی فیصلے سے مخالفین کے منہ کالے ہو جائیں گے۔ اسی طرح پہلی بار میڈیا بھی اور میڈیا پروگرام کرنے والے اینکرز اور تجزیہ کار بھی تقسیم نظر آتے ہیں لیکن پانامہ کیس کے اصل سٹیک ہولڈر عوام اور عام آدمی ہے جس کی نمائندگی نہ حکومت میں نظر آتی ہے اور نہ ہی پانامہ کیس میں نظر آ رہی ہے یہ عام آدمی جو حکومتیں بناتا بھی ہے اور حکومتیں گراتا بھی ہے اس کو کوئی نہیں پوچھتا کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں عام آدمی کی اکثریت تمام سیاسی جماعتوں ، موجودہ اور سابق حکومتوں کی مجموعی کارکردگی سے مایوس نظر آ رہی ہے ۔ عام آدمی اس بار چاہتا ہے کہ اگر عدالت نے پانامہ کیس کی آڑ میں کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کر ہی دیا ہے تو اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جانا چاہئے۔ کون چور ہے ، کون ڈاکو اور کون شریف ہے اب اس کا فیصلہ اور ذمہ داری عدلیہ پر ہی آ گئی ہے تو اب حساب کتاب ہو ہی جانا چاہئے اور اس فیصلے کے نتیجے میں کس کس کے منہ پر کالک ملی جاتی ہے عدالت کو اس کی پرواہ بالکل نہیں کرنی چاہئے۔

مزید :

کالم -