مجاہد اعظم ،مولانا عبدالحفیظ مکیؒ

مجاہد اعظم ،مولانا عبدالحفیظ مکیؒ
 مجاہد اعظم ،مولانا عبدالحفیظ مکیؒ

  

"جنت والے لوگ اُس دن یقینا اپنے مشغلے میں مگن ہوں گے۔وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایے میں آرام دہ نشستوں پرٹیک لگائے ہوئے ہوں گے۔وہاں ان کے لیے میوے ہوں گے،اور ہروہ چیز ملےگی جووہ منگوائیں گے۔رحمت والے رب کی طرف سے انہیں سلام  کہاجائےگا۔"(سورہ یسین:آیت 55 تا 58)

خداکی ان نعمتوں کے وہی حقدار ہوں گے جودنیا میں اپنی خواہشوں کو خداکےتابع کردیں گے۔سال 2017ءکاپہلا مہینہ کافی غمزدہ ثابت ہوا۔یکے بعددیگرے سانحات سے دل رنجیدہ ہوگئے۔پہلے استاذالمدرسین حضرت مولاناسلیم اللہ خان رحمہ اللہ کے انتقال پرملال کی خبرآئی،پھر حرمین شریفین سے ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کادفاع کرنے والے شیخ الحجاز حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی رحمہ اللہ کے سانحہ ارتحال نے غمزدہ کردیا۔دونوں شخصیات اپنے شاندار کارناموں کی بدولت دنیا بھر میں معروف تھیں۔شیخ سلیم اللہ خان ؒکی دینی اور ملی خدما ت کا زمانہ معترف ہے۔ہزاروں طلباء آپ سے کسب فیض کرکے دنیا بھرمیں اسلام اور معاشرے کی راہنمائی میں مصروف ہیں۔پاکستان میں تمام مسالک کے درمیان ہم آہنگی اور تعلیمی لحاظ سے سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں آپ کی جدوجہد لائق تحسین اورقابل فخر ہے۔مولانا سلیم اللہ خانؒ کی طرح مولانا عبدالحفیظ مکی ؒ کی زندگی بھی دین کی دعوت،ختم نبوت کے دفاع اور امت مسلمہ کی اصلاح وتربیت  سے بھرپوررہی۔ آپ کا تعلق فیصل آبادسے  تھا،لیکن آپ کے پاس سعودی نیشنلٹی بھی تھی۔آپ نے ابتدائی تعلیم مکہ مکرمہ میں حاصل کی،بعدازاں دورہ حدیث کی تکمیل سہارن پور انڈیا  کے مشہور دینی مدرسےمظاہر العلوم سے کی۔تدریسی خدمات کاآغاز بھی مکہ مکرمہ سے کیا،جہاں مکہ مکرمہ کے مشہور مدرسے مدرسہ صولتیہ کے علاوہ مختلف مکاتب ،مساجد اور مدارس میں آپ مصروف رہے۔معروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ سے آپ کا قلبی تعلق تھا۔1964سے 1982تک یعنی مولانا زکریا ؒ کی وفات تک آپ کا مولانا زکریاؒ کی خدمت میں آنا جانا رہا۔آپ کی زندگی میں تربیتی اور اصلاحی  رنگ حضرت شیخ الحدیث ؒ  ہی  کی وجہ سے آیا۔مولانا زکریاؒ کے خلفیہ مجاز اور خاص لوگوں میں سے تھے۔شیخ الحدیث ؒکی کتابیں بالخصوص عربی کتابیں مولانا عبدالحفیظ مکی ؒ ہی کی توجہ سے شائع ہوئیں۔

مولانا زکریاؒ کےحکم سے آپ نے مدینہ منورہ میں "مطابع الرشید "کے نام سے ایک مکتبہ کی بنیاد رکھی،جہاں سے علماء عرب سمیت علماء ہندو پاک کی کتب شائع ہوتی ہیں۔اس  سے پہلے مولانا عبدالحفیظ مکیؒ نے حاجی امداد اللہ مہاجرمکیؒ کے نام پر مکہ مکرمہ میں مکتبہ امدادیہ کی بھی بنیاد رکھی۔

مولانا عبدالحفیظ مکی ؒ علماء عر ب کے ہاں کافی اثر ورسوخ رکھتے تھے۔ائمہ حرمین  شریفین سے خصوصی تعلقات تھے۔پاکستان اور انڈیا سے آنے والے علما ء کی خدمات  علماء عرب تک پہنچانے میں آپ کی کاوشیں قابل ذکر ہیں۔پاک و ہند سے حرمین شریفین آنے والے علماء کرام اور دیگر زائرین آپ سے ملے بغیر واپس نہیں جاتے تھے۔آپ بھی   ان علماء کی نہ صرف قدر کرتے،بلکہ دل کھول کر ان کی خوب خدمت کرتے تھے۔عرب دنیا میں ختم نبوت کا دفاع کرنے اور قادیانیت کے مکروہ عزائم سے لوگوں کو باخبر کرنے میں آپ کی خدمات بے مثال اوریکتا ہیں۔آپ  کے بڑے صاحبزادے مولانا عبدالروؤف مکی کے بقول آپ عموماً اسفار پر رہتے تھے۔زیادہ تراسفار ختم نبوت اور دین کی دعوت وتبلیغ کے حوالے سے ہوتے تھے۔چنانچہ آپ کی وفات بھی جنوبی افریقہ کےدعوتی اور تبلیغی سفر کے دوران ہوئی۔انگلینڈ میں ختم نبوت کے حوالے سے آپ کی خدمات لائق تحسین ہیں۔1985میں ختم نبوت کی پہلی عظیم الشان کانفرنس میں مولانا منظور چنیوٹی ؒاور دیگر علماء کرام کے ساتھ آپ بھی شریک تھے۔اس کانفرنس کے بعدبرطانیہ میں قادیانیت کے ایسے پر جلے کہ آج  تک  قادیانیت وہاں سر نہیں اٹھاسکی۔آپ نہ صرف داعی  اور مبلغ تھے ،بلکہ بہترین مصنف بھی تھے۔آپ نے 10 کے قریب کتابیں اور کئی علمی مقالے لکھے،جن میں بخاری شریف کی "شرح الکنز المتواری في معادن لامع الدراري وصحيح البخاري "اور" مؤقف ائمة الحركۃ السلفیۃ من التصوف والصوفیۃ"شامل ہیں۔بخاری شریف کی شرح زیادہ تر اگرچہ شیخ الحدیثؒ کی ہے،لیکن اس میں مولانا مکیؒ کاتالیفی اشتراک بھی شامل ہے۔جب کہ دوسری کتاب دراصل اس  غلط فہمی  کے ازالے کے لیےلکھی گئی ہے،جوعام طور پر عالم عرب بالخصوص سعودی عرب میں کئی لوگوں کے ذہنوں میں پائی جاتی ہے کہ سارے اہل تصوف عقیدے میں غلطی  پر ہیں اور تصوف غلط  ہے۔مولانا عبدالحفیظ مکی نےتین سو صفحات کی اس طویل کتاب میں اس غلط فہمی کو دورکرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ امام احمد بن حنبلؒ  سے لے کرامام ابن تیمیہؒ اور امام  محمد بن عبدالوہاب نجدیؒ تک  عرب علماء کرام حقیقی تصوف کے قطعا خلاف نہ تھے۔

دنیا بھر میں آپ کے شاگردوں اور عقیدمندوں کاوسیع حلقہ تھا۔سعودی عرب میں بھی آپ کے شاگرد اورمریدین  بےشمار تھے۔آپ کے جنازے کے دوران راقم نے اس کا عینی مشاہدہ کیا۔مسجد نبوی میں ہرنماز کے بعد جنازہ ہوتاہے۔جنازے کے بعد میت کو جنت البقیع لے کر جانے والوں میں عام طور پر زیادہ تعداد زائرین کی ہوتی ہے۔لیکن  یہ مولانا عبدالحفیظ مکیؒ کا جنازہ تھا،جس کے لیے آپ کےعقید ت مند نہ صرف سعودی عرب کے دوردرازعلاقوں سےآئے تھے،بلکہ پاکستان،دبئی،لندن اوربنگلہ  دیش وغیر ہ سے بھی خصوصی طور پرآئے تھے۔پاکستان سے مولانا فضل الرحمان،مولانااحمدلدھیانوی سمیت کئی لوگ آئے۔جب کہ  بنگلہ دیش کے مشہور عالم دین اور بنگلہ دیش کی موجودہ وزیراعظم حسینہ واجد کو  غالبا 2002 میں شکست دینے والے سابق ممبر اسمبلی مولانا شہید الاسلام  دبئی سے اور ائمہ حرمین کی طرز پر تلاوت کرنے والے مشہور قاری سعدنعمانی لندن سے   خصوصی طورپر مولانا عبدالحفیظ مکی ؒ کے جنازے میں پہنچے۔جنازہ 19 جنوری کو فجر کی نماز کےبعدمسجد نبوی کے مشہور امام الشیخ صلاح البدیر کی اقتدا میں  اداکیاگیا۔جنازےسے لے کر تدفین تک لوگ کثیر تعداد میں موجود رہے۔عام طور پر میت کو دفن کرکے لوگ چلے جاتے ہیں لیکن آپ کی تدفین کے بعد لگ بھگ دو گھنٹے تک عقیدت مند وہاں موجود رہے۔تدفین کے بعد آپ سے محبت کرنے والوں نےآپ کی قبر پرعربی قصائد پڑھ کر خراج تحسین پیش کیا۔بہت سے لوگ آپ کے کارنامے اورخدمات یادکرکے روتےرہے۔ایک ادھیڑعمرپڑھے لکھےمصری عقیدت مند جو آپ کی تدفین تک شریک تھے،تدفین کے بعدانہیں مولانا عبدالحفیظ مکیؒ کے شیخ  شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ کی قبر  کے بارے فکر مند پایا،ایک صاحب نے انہیں قبر کا بتادیا جسے انہوں نے اپنے موبائل میں محفوظ کرلیا۔پوچھنے پر بتانے لگے کہ وہ  نہ صرف مولانا عبدالحفیظ مکیؒ سےخصوصی تعلق رکھتے تھے بلکہ مولانا زکریاؒ سے بھی قلبی تعلق رکھتے تھے ۔جنازے کے بعد مولانا عبدالحفیظ مکی کے خالہ زاد بھائی مولانا یونس بٹ نے مولانا کی زندگی کے بارے بتاتے ہوئے کہا  کہ مولانا خاندان کے ہرفرد سے خصوصی محبت رکھتے تھےاوران کی دینی واصلاحی تربیت کےلیےہمیشہ فکرمند رہتے۔جنازے میں آئے قاری محمدانورمرحومؒ کے صاحبزادے سے بھی ملاقات ہوئی۔قاری محمد انورؒ شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صاحب کے ادارے میں پڑھاتے رہے ہیں اور حضرت مولانا زاہد الراشدی کے استاذ تھے۔1980 سے مدینہ منورہ میں مقیم تھے۔ان کا انتقال بھی مولانا عبدالحفیظ مکیؒ کے انتقال  بعد ہوا اور جنت البقیع میں دفن ہونے کی سعادت ملی۔

مولاناعبدالحفیظ مکیؒ کی زندگی کی سب سے اہم خوبی یہ تھی کہ آپ اپنے اہل وعیال اور دیگر عزیز واقارب کی اصلاح وتربیت میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔آپ کی اسی خصوصی توجہ کا نتیجہ ہے کہ الحمدللہ آپ کے بیٹوں سمیت خاندان کےتقریبا سبھی افراد دین دار اورمتبع سنت ہیں۔آپ کے تلامذہ اور مریدین میں بھی آپ کی اسی محنت کی جھلک خاص طورپرنظرآتی ہے۔غالبا 2012 میں راقم کو ملتان میں دارالعلوم رحیمیہ میں قیام کے دوران مولانا عبدالحفیظ مکی ؒ اور حضرت  شیخ الحدیث مولانا زکریا ؒ کےصاحبزادےحضرت مولانا طلحہ کاندھلوی سے ملاقات کا شرف ملا۔اس دوران دونوں بزرگوں کے اخلاق،تواضع،للہیت  وخشیت اور لوگوں کی اصلاح وتربیت میں خصوصی دلچسپی کا مشاہدہ کیا۔مولانا عبدالحفیظ مکیؒ  نے دو شادیاں کیں، جن سے آپ کے چار بیٹے ہوئے ۔تین بیٹے پہلی بیوی سے اور ایک دوسری بیوی سے ہے۔مولانا کے بڑے تینوں بیٹے الحمدللہ عالم دین ہیں۔مولانا عبدالحفیظ مکی ؒکی خواہش تھی کہ مرنے کے بعد انہیں جنت البقیع میں  دفن کیا جائے چنانچہ اللہ نے ان کی اس خواہش کو پورا کیا اور آپ کو جنت البقیع میں اپنے شیخ مولانازکریاؒ کے قریب دفن ہونے کی سعادت ملی۔سچی بات یہ ہے کہ دنیا اورآخرت میں یہی لوگ کامیاب ہیں،جن کی ساری زندگی اللہ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں گزری،جنہیں بروز قیامت"رحمت والے رب کی طرف سے (خصوصی طورپر) سلام کہا جائے گا"۔مرتے وقت مولانا عبدالحفیظ مکیؒ کی زبان پر اسی آیت کا ورد جاری تھا"سَلَامٌ قَوْلًا مِن رَّبٍّ رَّحِيمٍ"۔اللہ ہمیں بھی ایسی سعادت والی زندگی اور موت نصیب فرمائےاور ان بزرگوں کےنقش قدم پر چل کر دین کی خدمت اورتبلیغ کی توفیق دے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -