حافظ محمد سعید اورحکومتی رویہ

حافظ محمد سعید اورحکومتی رویہ
حافظ محمد سعید اورحکومتی رویہ

  



پاکستانی آئین کے آرٹیکل گیارہ کے تحت ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ جب تک اس شخص پر تعزیراتی دفعات کے تحت عائد کئے جانے والے الزامات عدالت سے ثابت نہیں ہوجاتے اس وقت تک اسے بے گناہ تصور کیا جائے گا۔

30دسمبر 2016ء حافظ محمد سعید کو جب نظر بند کیا گیا اورنظر بندی کا لیٹر ان کے پاس لایا گیا تو انہوں نے آنے والے مہمانوں کا خود استقبال کیا اور چہرہ پر مسکراہٹ بکھیرے نظرآرہے تھے ۔

نظر بندی کا نوٹس لیکر آنے والے سکیورٹی اداروں کے پاس بیٹھ کر انہوں نے اپنے نظربندی کے آرڈر پردستخط کئے اور ان کے ساتھ چل دیئے۔ اس دوران انہوں نے راستے میں نظربندی سے پہلے میڈیا سے گفتگو کی اور کارکنوں کونصیحت کرتے ہوئے کہاکہ کوئی احتجاج نہیں کرناہماری وجہ سے املاک کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے ۔

انہوں نے ایک بات بڑی شاندار کی کہ ہم پاکستان کے محافظ ہیں ۔اور میری نظربندی کا نوٹس دہلی سے واشگٹن اور پھر واشگٹن سے اسلام آباد آیا ہے۔چونکہ انہوں نے 2017ء کا سال کشمیر کے نام کیا تھا جو بھارت کو برداشت نہیں ہوا جس پر ان کو بغیر کسی ثبوت کے نظر بند کر دیا گیا ۔

10ماہ تک حافظ محمد سعید کو نظر بند رکھا گیا لیکن پاکستان کی حکومت کوئی ثبوت فراہم نہ کرسکی۔ لاہور ہائیکورٹ 3رکنی ریویوبورڈ نے حکومتی موقف کو رد کرتے ہوئے ، 24 نومبر 2017ء کی شب حافظ محمد سعید کی نظربندی ختم کر نے کا حکم دے دیا گیا۔

حافظ محمدسعید رہا ہوکر اسلامیان پاکستان کے لئے اپنی خدمات پھر سے سر انجام دے رہے ہیں۔اور پاکستان کے مختلف شہروں میں بڑے بڑے جلسے منعقد کر کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کررہے ہیں۔

مجاہد وطن حافظ محمد سعید نے حالیہ دنوں فیصل آباددھوبی گھاٹ دفاع پاکستان کونسل کے جلسے میں کہا کہ میں نے نظر بندی سے پہلے آخری خطاب دھوبی گھاٹ میں کیا تھا اور آج میں پھر وہیں کھڑا ہوں لیکن مجھے نظر بند کرنے والے خود نا اہل ہو گئے ہیں کیونکہ فیصلے آسمانوں پر ہوتے ہیں ۔ اور پھر انہوں نے اسی جگہ پر کھڑے ہوکر 2018ء کا سال بھی کشمیر کے نام کرنے کاعلان کیا ہے ۔

جس پر بھارت اور امریکہ سراپا احتجاج ہیں ۔حالیہ دنوں ٹرمپ کی طرف سے کی جانے والے توہین آمیز ٹویٹ نے پاکستانی سول گورنمٹ اور عسکری اداروں کو سر جوڑ کر بیٹھنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ مسئلہ پاکستا ن کی سلامتی کاہے کہ کیا سٹریٹیجی ترتیب دی جائے ۔

ٹرمپ کی ٹویٹ کے فورا بعد جماعۃ الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کے خلاف اقدامات کئے جائیں ان کی ایمبولینس قبضے میں لی جائیں ان کے فنڈز کو بند کیا جائے ستم ظریفی تو یہ ہے کہ قومی اخبارات میں اشتہار شائع کئے جارہے ہیں اور محب وطن پاکستانیوں کو ملک دشمن دہشتگردوں کی فہرست میں شمار کیا جارہا ہے جو ایک افسوسناک عمل ہے ۔

پاکستان کا ایک ایک فرد جانتا ہے کہ جماعۃ الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کا پاکستان میں کیا کردار ہے ۔جب تھرمیں قحط سالی کے دن تھے تو فلاح انسانیت فاؤنڈیشن نے دن رات کوشش کرکے وہاں کے مسلمانوں اور ہندؤں کی یکساں طور پر خدمت کی

تھی۔ اور آج تھر پارکر سر سبزو شاداب نظر آتا ہے وہاں پر مختلف فصلوں اور سبزیوں کی پیداوار ہورہی ہے بلوچستان میں جب زلزلہ آیا تو سب جانتے ہیں کس این جی او نے وہاں پہنچ کر ان بلوچوں کی مرہم پٹی کی تھی تو فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کا نام سرفہرست ہوگا ۔

گزشتہ دنوں پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حافظ محمد سعید کے خلاف پاکستان میں کوئی کیس نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے کوئی جرم کیا ہے لیکن ان کے مسئلے کو بار بار سامنے لایا جاتا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔

یہی جواب پاکستان کے آرمی جنرل قمر جاوید باجوہ نے ارکان سینیٹ کے سوال کے جواب میں دیا تھاکہ حافظ محمد سعید فلاحی کاموں میں مصروف ہیں وہ اگر کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں تویہ مطالبہ خود کشمیریوں کا بھی ہے ۔ پاکستان میں حافظ محمد سعید کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ کے الفاظ ایک بہت بڑی گواہی ہے جس کو قبول کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔

وزیر اعظم صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اقتدار کے اندر بیٹھے ان لوگوں کے خلاف سخت روش اختیار کریں جو کسی کے کہنے پر محب وطن پاکستانیوں کو ملک دشمن قرار دے رہے ہیں ۔

ایک طرف پاکستان کے وزیر اعظم ، حافظ سعید کو بے گناہ قرار دے رہے ہیں اور دوسری طرف پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر ان کو دہشتگردوں کی فہرست میں شمار کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

جو باعث تشویش بات ہے۔پاکستانی وزارت خارجہ کے سینئر عہدیداروں نے امریکہ کو صاف اور دوٹوک بات کی ہے کہ حافظ سعید کے خلاف بغیر ثبوت کارروائی نہیں ہوسکتی۔ پاکستان میں دہشت گردوں اور دہشت گردی سپانسر کرنے والوں کے خلاف بھرپور ایکشن لیا جارہا ہے۔ امریکہ اور بھارت کے پاس اگر کوئی حافظ سعید کے خلاف ثبوت ہے تو ہم سے شیئر کیا جائے۔

مزید : رائے /کالم