غیر متوقع تبدیلی

غیر متوقع تبدیلی
غیر متوقع تبدیلی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ملکی سیاست میں تیزی سے رونما ہونے والی ہمہ جہت تبدیلیوں کے ساتھ بدلتی سیاسی ترجیحات کو از سر نو مدون کرنے کا عمل لاشعوری طور پر اس متعین قومی پالیسی کو تحلیل کر دے گا، جس نے پچھلے چالیس سال سے مملکت خداداد سمیت پورے جنوبی ایشیا کی جیوپولیٹیکل صورت حال کو اپنی گرفت میں لئے رکھا،ایسا لگتا ہے کہ بظاہر غیر مربوط واقعات کی مدد سے تقدیر ہمیں کسی غیر متوقع تبدیلی کے دروازے تک پہنچا دے گی۔

قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ سمیت پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کو قبائلی علاقوں تک وسعت دینے کا بل منظور کر کے فاٹا میں اصلاحات کی طرف جو پیش قدمی کی اس کا قبائلی عوام کی طرف سے بڑے پیمانے پر خیرمقدم نہیں ہو سکا،ایسے محسوس ہوا جیسے قبائلی پٹی کو اعلی عدلیہ کے دائرہ اختیار میں لانے کے فیصلہ سے فاٹا انضمام کے پُرجوش حامیوں کے جذبات پہ اوس پڑ گئی،اس سے واضح ہوتا ہے کہ ٖفاٹا کو خیبر پختون خوا میں ضم کرانے کی جلد منظوری کے لئے دباؤ بڑھانے والوں کے مقاصد سیاسی تھے،چند دن قبل جب قومی اسمبلی کثرت رائے سے فاٹا اصلاحات بل کی شق منظور کرنے لگی تو جے یو آئی کے اراکین نے بل میں ایسی ترامیم شامل کرانے کی کوشش کی، جس سے ٹرائیبل ایریا کے کچھ معاملات کو محدود عرصہ کے لئے عدالتی اختیار سے باہر رکھنا مقصود تھا، لیکن حکومت شاید جمعیت کی ترامیم سے صرف نظر کر کے مولانا فضل الرحمن کے اعتماد کو متزلزل کرنا چاہتی تھی، تاہم مولانا نے اسی روز فون کر کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو تحفظات سے آگاہ کیا تو وفاقی وزیر سیفران عبد القادر بلوچ نے حضرت جی سے ملاقات کر کے بتایا کہ حکومت نے فاٹا اصلاحات کے 27 نقاطی بل کی صرف ایک شق منظور کر کے اس ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کی کوشش کی جس نے فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے عمل کو مفلوج کر رکھا تھا،مولانا پُر امید ہیں کہ بل کو جب سینٹ میں لایا جائے گا تو انکی پیش کردہ ترامیم قبول کر لی جائیں گی۔

بلوچستان میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے نواب ثناء اللہ زہری کی حکومت کا تختہ الٹنے میں جے یو آئی کی شمولیت کے بعد نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان باہمی اعتماد کے رشتے کمزور ہوئے،جمعہ کے روز جب جاتی امرا میں زہری حکومت کو تار پیڈو کرنے کے معاملہ پر غور و خوص کے لئے نواز شریف نے پارٹی رہنماوں اوراتحادی جماعتوں کا مشاورتی اجلاس بلایا تو اس میں محمود اچکزئی،حاصل بزنجو اور عبدالمالک بلوچ تو شریک تھے، لیکن چودھری نثار اور مولانا فضل الرحمن کو اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ،حالانکہ مولانا اس روز لاہور میں تھے، جہاں پہلے انہوں نے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے ساتھ نماز پڑھی اور پھر نواز لیگ کے ساتھ دوستی کے رشتوں میں پڑنے والی دراڑ کو پُر کرنے کی خاطر پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کر کے انہیں نواز لیگ کے قریب لانے کی کاوش کرتے رہے۔

حیرت انگیز طور پہ بلوچستان میں رجیم چینج کے بعد فاٹا کو خیبر پختون خوا میں ضم کرانے کی وہ پرجوش تحریک مدہم پڑ گئی، جسے بظاہر محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کی مخالفت نے روک رکھا تھا،پختون قوم پرست جماعتوں اور قبائلی کارکنوں کی توجہ فی الحال مبینہ پولیس مقابلہ میں جاں بحق ہونے والے خوبرو نوجوان نقیب اللہ محسود کو انصاف دلانے پہ مرکوز ہے،اسلئے فاٹا اصلاحات کا ہنگامہ فی الحال پس منظر میں چلا گیا۔

پشاور سے شائع ہونے والے ایک معاصر روزنامہ نے دور کی کوڑی لاتے ہوئے اعلیٰ عدالتوں کی فاٹا تک رسائی کو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی تسخیر میں امریکی خفیہ اداروں کی مدد کرنے کے جرم میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا راستہ ہموار بنانے سے جوڑا دیا،اخبار نے لکھا کہ انتخابی مہم کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے ووٹرز سے وعدہ کیا تھا کہ وہ صدر بن کر بن لادن کی گرفتاری میں امریکی اداروں کی معاونت کرنے والے شکیل آفریدی کو رہائی دلائیں گے چنانچہ قومی اسمبلی کے ذریعے عدالتوں کے دائرہ اختیار کو قبائلی علاقوں تک پھیلانے سے شکیل آفریدی کی رہائی کی گنجائش نکل آئے گی،شکیل آفریدی کو خیبر ایجنسی کے پولیٹئیکل ایجنٹ نے12 مئی کو کالعدم لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ کی مبینہ اعانت کے جرم میں ایف سی آر کے تحت 33 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی،جسے ملک کی آئینی عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا،واقفان حال کا کہنا کہ دراصل انہیں ایبٹ آباد میں روپوش القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن تک امریکی اداروں کو پہنچانے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا، لیکن عالمی دباو کو ٹالنے اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کی خاطر سزا انہیںْ ایف سی آر کے تحت دلائی گئیٍٍ۔

اس پُرہنگام سیاست کا سب سے زیادہ غیر متوقع پہلو یہ نکلا کہ سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیکر ایگزیکٹ جعلی ڈگری سکنڈل کے معاملہ کو اٹھا لیا،ایگزیکٹ کا ایشو اگرچہ چار سالوں سے ملکی و غیر ملکی میڈیا پہ چھایا رہا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ بھی پچھلے کئی سالوں سے اس کیس کی چھان بین میں مصروف رہا، لیکن بوجوہ ایف آئی اے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کو ورک آوٹ کرنے میں ’’ناکام‘‘ رہا، ایگزیکٹ گروپ کا ٹی وی چینل تین سال سے پورے خشوع و خضوع کے ساتھ عدلیہ اور مقتدرہ کی مدح سرائی کے علاوہ نہایت بے حجابی کے ساتھ حکمراں لیگ اور ایک بڑے میڈیا گروپ کے مالک کی کردار کشی کرتا رہا،اب عدالت اعظمی کی جانب سے ایگزیکٹ جعلی ڈگری سکینڈل کو از خود اٹھانے سے لگتا ہے کہ ملک کے اس بڑے میڈیا گروپ اور عدالتی مقتدرہ کے درمیان ویسا ہی کوئی’’قانونی‘‘توازن قائم ہو رہا ہے جیسا سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی آزاد عدلیہ اور اس بڑے میڈیا ہاوس کے درمیان چھ سال تک بنا رہا،چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے جمہوریت کے ساتھ اپنی لازوال وفاداری کا اعلان اور ہری پور جلسہ میں عدلیہ بارے نواز شریف کے لب ولہجہ میں پائی جانے والی معمولی سی نرمی بھی اس امر کی غماض تھی کہ کہیں نہ کہیں کچھ ہو ضرور رہا ہے، یہ بھی شاید اِسی تغیر کا شاخسانہ ہو کہ جنگ گروپ نے چار سال بعد پی ٹی آئی کے سربراہ کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کرنے کا نوٹس دیکر عمران خان سے ان الزامات پر معافی مانگنے کا مطا لبہ کیا جو انہوں نے چودہ اگست دو ہزار چودہ کے لانگ مارچ، پانامہ کیس کی سماعت اور جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران جنگ گروپ پر لگائے تھے،نواز شریف نے ہری پور جلسہ میں پہلی بار عدلیہ کے لاڈلے عمران خان کو جیل بھجوانے کی وعید سنائی،فرانسس بیکن نے کہا تھا کہ سیاست میں ہر تبدیلی طاقت کے ایما پر آتی ہے اور یہ محض کوئی اتفاق نہیں ہو سکتا کہ مال روڈ پہ ملک کی پوری اپوزیشن کا اجتماع، شعلہ بیاں مقرر علامہ طاہر القادری کی تحریک قصاس کے ساتھ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کا بھی واٹرلو ثابت ہوا ،چنانچہ اب بلاول بھٹو، بعد از خرابیء بسیار، میڈیا کی توجہ حاصل کرنے اور اپنی سیاسی ساکھ کوبہتر بنانے کے لئے سپریم کورٹ کے ججز کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں، لیکن اس وقت زخم خوردہ لیگی قیادت اہداف بدل کے مقتدرہ اور عدلیہ کی بجائے اپنی غضبناک تنقید کا رخ صرف عمران خان کی طرف پھیر رہی ہے،سابق وزیراعظم کے قریب سمجھے جانے والے ایک صحافی نے چند روز قبل خبر دی تھی کہ میاں صاحب ہری پور کے جلسہ میں بلوچستان حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے کرداروں کو بے نقاب کریں گے، لیکن ’’ دیکھنے ہم بھی گئے پہ تماشا نہ ہوا‘‘ کے مصداق ایسا کچھ نہ ہوا،مریم اور نوازشریف دونوں کی توپوں کا رخ خان کی طرف رہا، عمران اور شیخ رشید کی دبئی میں حساس ادارے کے سابق سربراہ سے مبینہ ملاقاتیں بھی اسی بدلتی ہوئی صورت حال کا تناظر بیان کرتی ہیں، حالات کے تیور بتاتے ہیں کراچی میں بتدریج حالات نارمل ہوں گے تو ایم کیو ایم کو قومی دھارے میں شامل ہونے کی گنجائش ملے گی اور مارچ میں سینٹ کے انتخابات اور جولائی میں جنرل الیکشن وقت پہ ہو جائیں گے،اگر نواز لیگ کی عدلیہ اور مقتدرہ کے ساتھ رسہ کشی جاری رہی تو عام انتخابات کے امکانات کم ہو جائیں گے، کیونکہ انتخابی جمہوریت، اقتصادیات،سیاسیات اور ذہن انسانی میں کشمکش برپا کرتی ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ تلخیوں کے ماحول میں منعقد ہونے والا انتخابی عمل مملکت کی سلامتی کے لئے مہلک ثابت ہوتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -