فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر340

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر340
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر340

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

باتھ روم میں پناہ لینے والے دونوں نرسوں کو جب باہر سے کوئی آواز سنائی نہیں دی تو وہ یہ سمجھیں کہ سینئر نرس کمرے سے رُخصت ہوچکی ہیں۔ چنانچہ وہ باتھ روم کا دروازہ کھول کر کمرے میں آگئیں۔ دونوں کے ہاتھوں میں آئس کریم تھی۔
سینئر نرس نے انہیں دیکھا اور انہوں نے سینئر نرس کو دیکھا۔ تینوں کے ہاتھوں میں ایک ایک آئس کریم تھی اس لیے سب یکساں مجرم تھیں۔ دونوں نرسیں گھبرا کر دوبارہ باتھ روم میں گھس گئیں مگر ہیڈ نرس نے شکوہ بھرے انداز میں ہماری طرف دیکھا اور بولیں ’’مسٹر آفاقی۔ یو آر امپاسیبل۔ آپ نے ہمارے ہسپتال کا نظام خراب کردیا ہے۔‘‘
ہم نے کہا ’’مگر منہ کا ذائقہ تو اچھّا کردیا ہے نا؟‘‘

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر339 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
انہوں نے اپنی مسکراہٹ روکنے کی کوشش کی مگر پھر بے اختیار مسکرانے لگیں۔
ہم نے کہا ’’مسز پی۔ آپ اکثر مسکراتی رہا کیجئے۔ مسکراتی ہوئی آپ بہت اچھّی لگتی ہیں۔‘‘
انہوں نے جلدی جلدی بقایا آئس کریم ختم کی اور ہمیں گھورتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئیں۔
ہم نے باتھ روم کی طرف دیکھ کر آواز دی ’’باہر آجائیے۔ خطرہ ٹل گیا ہے۔‘‘
وہ دونوں باہر نکلیں تو بہت سہمی ہوئی تھیں۔
’’آج خیر نہیں ہے ہماری‘‘ چھوٹی نرس نے کہا۔
ہم نے کہا ’’فکر نہ کیجئے۔ سبھی یکساں قصوروارہیں۔ آرام سے اپنی آئس کریم ختم کرلیجئے۔ مسز پی آپ کوکچھ نہیں کہیں گی۔‘‘
اس طرح کی شرارتیں ہمارے کمرے میں اکثر ہوتی رہتی تھیں۔ اس دوران میں نرسوں اورہسپتالوں کے دوسرے عملے سے بھی ہماری خاصی بے تکلّفی ہوگئی تھی۔ ہنسی مذاق اور لطیفہ بازی کا سلسلہ بھی چلتا رہتا تھا۔ ہمارے کمرے میں فلمی ہستیوں کی آمدورفت جاری رہتی تھی اس لیے نرسیں اور اسٹاف کے دوسرے لوگ بھی بہانے بہانے کمرے میں آجاتے تھے۔ ہمارے کمرے کی انچارج نرسیں ان لوگوں کے جانے کے بعد فن کاروں کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار بھی کردیتی تھیں۔
ہمیں نرم غذا کھانے کی اجازت بھی دے دی گئی تھی جس کی وجہ سے خون اور گلوکوز وغیرہ سے جان بچ گئی تھی۔ ایک دن عجیب واقعہ پیش آیا۔ ہم ناشتا کرنے کے بعد بستر پر نیم دراز اخبار پڑھ رہے تھے کہ لیلیٰ ہاتھ میں دوائیوں کی ٹرے اور بلڈپریشر چیک کرنے کا آلہ لیے ہوئے کمرے میں داخل ہوئیں۔ ہم انہیں دیکھ کر کچھ متعجب ہوئے اس لیے کہ دن کے وقت ان کی ڈیوٹی ختم ہوجایا کرتی تھی۔
’’ارے۔ آپ آج ابھی تک نہیں گئیں؟‘‘
وہ بولیں ’’دراصل آج چکن کی طبیعت کچھ خراب ہوگئی ہے اس لیے میں ڈبل ڈیوٹی دے رہی ہوں۔‘‘
’’چکن؟‘‘ ہم نے حیران ہوکر پوچھا ’’یہ کون ہیں؟‘‘
بولیں ’’دن کے وقت جس ینگ لڑکی کی ڈیوٹی ہوتی ہے اس کا پیٹ نیم چکن ہے۔ گھر والے اسی نام سے پکارتے ہیں اس لیے ہسپتال میں اس کی دوست لڑکیاں اور ہوسٹل کی فرینڈز بھی اس کو چکن ہی کہتی ہیں۔‘‘
’’بہت دلچسپ نام ہے‘‘ ہم نے کہا ’’کیا یہ بہت ڈرپوک ہیں جو انہیں یہ نام دیا گیا ہے۔‘‘
کہنے لگیں ’’یہ بات نہیں ہے۔ آپ نے اس کا سائز نہیں دیکھا؟ چھوٹی سی تو ہے۔ بچپن میں اور بھی چھوٹی تھی۔ بالکل مرغی کا چوزہ لگتی تھی اس لیے پیار سے اس کا نام چکن رکھ دیا گیا‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنے کام میں مصروف ہوگئیں مگر ہم نے محسوس کیا کہ وہ ہم سے کچھ کہنا چاہتی ہیں مگر پھر رُک جاتی ہیں۔ ہم نے خواہ مخواہ پوچھنا ضروری نہیں سمجھا۔ کچھ دیر بعد وہ جب سامان سمیٹ کر جانے لگیں تو یکایک دروازے کے پاس جاکر رک گئیں۔ پھروہاں سے لوٹ کر آئیں اور کہا ’’مسٹر آفاقی۔ میرے پاس آپ کے لیے ایک چیز ہے!‘‘
’’ایک چیز؟! کیا چیز ہے؟‘‘
انہوں نے یونیفارم کی جیب سے ایک چھوٹا سا لفافہ نکالا اور ہمارے حوالے کردیا۔ ہم نے لفافہ اٹھایا تو اس میں سے بھینی بھینی خوشبو آرہی تھی۔ حیران ہوکر ان کی طرف دیکھا تو وہ مسکرائیں اور بولیں ’’چکن نے آپ کے لیے دیا تھا۔ پڑھ لیجئے‘‘ یہ کہہ کر وہ تیزی سے رخصت ہوگئیں۔
یااللہ خیر۔ ہم نے سوچا۔ یہ معاملہ کیا ہے‘ چکن کا مسئلہ کیا ہے۔ اس طرف ہمارا قطعی دھیان نہیں گیا کہ یہ کوئی رومانی معاملہ بھی ہوسکتا ہے۔ حالانکہ خوشبودار لفافہ دیکھ کرہم کچھ الجھ سے گئے تھے۔
ہم نے لفافہ کھولا تو اس میں سے ایک چھوٹا سا رنگین کاغذ برآمد ہوا۔ اس کاغذ پر ٹوٹے پھوٹ حروف میں جو کچھ لکھا تھا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہر روز آپ کو دیکھنے اور آپ کی خدمت کرنے کی عادت سی ہوگئی ہے۔ آج میں خود بیمارہوگئی ہوں اس لیے آپ کی خدمت نہ کرسکوں گی لیکن آپ کودیکھے بغیر دن گزارنا بہت مشکل ہوگا۔ کاش میں ابھی ٹھیک ہوجاؤں اور ڈیوٹی پر پہنچ جاؤں۔ ویسے میں نے ڈاکٹر سے کہہ کر انجکشن لگوا لیا ہے۔ میرے لیے دعا کریں۔ فقط بہ قلم خود۔
یہ خط ہمارے لیے بہت حیران کُن تھا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس قسم کی رومانی خط و کتابت سے ہمارا کبھی نوعمری میں بھی واسطہ نہیں پڑا تھا جبکہ ذہن ناپختہ اور جذبات تلاطم خیز ہوتے ہیں۔ اب اس عمر میں جب کسی لڑکی کا ’’پرچہ‘‘ موصول ہوا تو ہم بہت حیران ہوئے۔ کچھ دیر بعد جب اس کے عواقب پر غور کیا تو پریشان بھی ہوئے۔ یہ یک طرفہ آگ کیوں کر بھڑک اٹھی اور اس کے لیے پہلی چنگاری کس نے اور کب ڈالی تھی؟
ہم نے اپنے دماغ پر زور ڈالا اور یاد کرنے کی کوشش کی کہ ہماری وہ کون سی حرکت تھی جس کی بنا پر ایک نادان لڑکی غلط فہمی کا شکار ہوگئی؟ شاید ہماری بے تکلفی اور ہنسی مذاق کرنے کی عادت؟ مگر یہ تو معمول کی بات ہے۔ تو پھر اس کا سبب کیا ہوسکتا ہے؟ ہسپتال میں زیرعلاج مریضوں اور نرسوں کے مابین رومانی اور جذباتی تعلقات کے بارے میں ہم نے پڑھا اور سنا تو ضرور تھا مگر کبھی خود ان چیزوں سے واسطہ نہیں پڑا تھا۔
جن دنوں ہم ’’زمیندار‘‘ بند ہونے کے بعد ’’آثار‘‘ میں کام کررہے تھے تو لاہور میں ایک زبردست دھماکہ ہوا تھا۔رتن سینما کے مالک اور مشہور فلم ساز و تقسیم کار چوہدری عید محمد صاحب (اب مرحوم ہوچکے ہیں) کے بڑے صاحبزادے بیمار ہوکر ہسپتال پہنچے تو وہاں ایک نرس سے آنکھ لڑا بیٹھے۔ معاملہ اتنا بڑھا کہ جسمانی مرض سے تو صحت یاب ہوگئے مگر مرضِ عشق جان کولگا بیٹھے۔ کافی دن تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر341 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں