دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر43

25 جنوری 2018 (19:56)

یہ وہی زمانہ تھا جب بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور وجنتی مالا کے درمیان کوئی تعلق جوڑنے کی باتیں کی جاتی تھیں،وجنتی کی دادی اکثر اسکا ذکر فخریہ انداز میں کرتی تھیں ۔ایک روز معلوم ہو اکہ شام کو وزیر اعظم جواہر لعل نہرو فلم پیغام کے سیٹ پر آرہے ہیں۔

میڈم یادو گردیوی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس بارے ایک خاص بات نوٹ کی تھی۔وہ اس تقریب میں موجود تھی جہاں وزیر اعظم نہرو مہمان خصوصی کے طور پر آئے تھے اور وجنتی مالا نے خصوصی طور پر شرکت کی اور رقص پیش کیا تھا ۔پھر اس شام اور اگلی شام ہم نے پنڈت نہرو اور پاپاکی ملاقات کی روداد کافی مرتبہ سنی تھی۔پاپا وجنتی مالا کا گھریلو نام تھا جسے تامل زبان میں بچہ کہا جاتا ہے۔

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر42 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ان دنوں ہم جمنی سٹوڈیو میں وسن صاحب کی فلم پیغام میں کام کررہے تھے۔اگلے دودنوں میں جمنی سٹوڈیو کے مالک ایس ایس وسن صاحب کافی پریشانی میں سب کو بلا کر سمجھانے لگے کہ دیکھیں وزیر اعظم کا استقبال کرنا ہے اور پرٹوکول میں کوئی کمی نہیں رہنی چاہئے۔یہ سوال تو اپنی جگہ موجود تھا کہ وہ کیا کرنے آرہے تھے۔سب کی نگاہ میں تھا کہ وہ وجنتی مالا سے ملنے آرہے ہیں لیکن کوئی منہ سے یہ بات کرنا مناسب نہیں سمجھتا تھا،اخلاقیات کا دور تھا اور ایسی باتیں عموماً کہنے سے گریز کیا جاتا تھا۔

وسن صاحب نے مجھ سے کہا’’آپ مسٹر وزیر اعظم کا استقبال کیجئے گا ،آپ ہی سب کو لیڈ بھی کریں ‘‘ میں نے سوچااور انہیں مشورہ دیا کہ زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ اس موقع پر وجنتی مالا کو یہ فرض سونپ دیا جائے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔باقی ان سب لوگوں نے بھی میری اس تجویز کی تائید کی جو اندر سے وجنتی اور پنڈت جی کے تعلق کو جانتے تھے۔سب نے کہا کہ یہ ٹھیک رہے گا لہذا طے پاگیا کہ وجنتی استقبالیہ کو گائیڈ کرے گی۔

پنڈت نہرو وقت مقررہ پر تشریف لائے ،مدراس کی رسومات کے مطابق گلاب کی مالا اور چاندی کے برتن سے خوشبودار پانی کا چھڑکاو کیا گیا ۔ میں استقبالیہ کے لئے کھڑی قطار میں سب سے پیچھے قدرے چھپ کر کھڑا ہوگیا۔وجنتی مالا نے پنڈت جی کو نمستے کیا تو پنڈت جی نے سرسراتی نظروں سے لوگوں کا جائزہ لیا،پھر اچانک انکی نگاہ مجھ پر پڑی۔انہوں نے بازو پھیلائے اور تیزی سے وجنتی سمیت سب کو نظر انداز کرکے مجھ تک پہنچ گئے اور مجھے گلے لگا کر بولے’’ میں نے سناتھا تم یہاں موجود ہوگے ا سلئے میں تم سے ملنے آیا ہوں‘‘

اس وقت میں اس بات کے لئے تیار نہیں تھا کہ وہ مجھے اتنی عزت دیں گے۔وہ میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر باتیں کرنے لگے ۔انہوں نے بتایا کہ وہ سماجی نظریات کو بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔وہ پندرہ منٹ وہاں رہے اور چلے گئے۔

یہ سب غیرمتوقع تھا۔پنڈت جی نے وجنتی مالا کو جسطرح نظر انداز کیا تھا اسکے بعد کوئی بات پیچھے رہ نہیں جاتی تھی کہ ان کے بیچ کوئی تعلق تھا ۔بعد میں وجنتی کی دادی نے بھی دم سادھ لیا۔اس نے پھر کبھی پنڈت نہرو کے ساتھ وجنتی مالا کے تعلق پر بات نہیں کی۔

وسن صاحب ایک شریف انسان تھے ۔بے پناہ علم رکھتے تھے ۔ انکی داستان گوئی کا ایک زمانہ معترف تھا۔وہ داستان سناتے تو لوگ دم بخود رہ جاتے۔میری اور انکی دوستی قائم ہوگئی۔اکثر مجھے وہ ایک کہانی سنایا کرتے تھے ،نہ جانے وہ یہ کہانی مجھے کیوں بار بار سناتے تھے کہ ایک کمسن لڑکا اپنی ماں کے ساتھ ریلوے اسٹیشن پر دن گزارہ کرتا تھا ۔وہ بھاگ بھاگ کراور آوازیں لگا کر اخبارات وجرائد بیچا کرتا تھا،اسکی ماں ایک گھٹری پر سر رکھ کر سوئے رہتی جو وہ اپنے ساتھ لیکر آتی تھی۔جب فارغ ہوتے تو بچہ ان جرائد کا مطالعہ کرتا۔شام ہوتی توایجنٹ کو بچے کھچے اخبارات واپس کردیتے اور اپنی کمشین لیکر ایک سبزی والے کے پاس جاتے اور کچھ کھانے کے خرید لیتے۔ان کی کہانی مجھے متاثر کرتی تھی۔مجھ سے کوئی جب بھی یہ پوچھتا ہے کہ سب سے زیادہ کامیاب فلم کون سی ہوتی ہے تو میں کہتا ہوں کہ ہالی ووڈ یا انڈیا ،جہاں کہیں بھی کوئی فلم کامیاب ہوسکتی ہے تو والی جس کا پرڈیوسر داستان گوہوگا،جو کہانی سنانے کا فن جانتا ہوگا۔

وسن صاحب کا یہی کمال تھا۔وہ جہاں جاتے مجھے ساتھ لے جاتے۔ان کے پاس بے پناہ اور ہر چیز کے بارے علم تھا۔گلیوں محلوں ،عبادت گاہوں بارے ان کے پاس بے پناہ معلومات ہوتی تھیں۔وہ دلنشین انداز میں باتیں کرتے اور میں انکی باتیں محویت اور شوق سے سنا کرتا تھا۔

ایک روز میں انکے ساتھ ریل گاڑی میں مادھوری گیا۔یہ سفر بہت یاد گار ہے،وسن صاحب کو ایک پرنٹنگ مشین خریدنی تھی اور وہ چاہتے تھے میں انکے ساتھ اس سفر میں رہوں۔دوران سفر انہوں نے خوشبودار کافی پلائی اور اپنی ایک ایسی پریشانی کا ذکر کیا جس کا حل میرے پاس تھا ۔ (جاری ہے )

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر44 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں